بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
Tafseer-e-Baghwi - An-Nahl : 1
اَتٰۤى اَمْرُ اللّٰهِ فَلَا تَسْتَعْجِلُوْهُ١ؕ سُبْحٰنَهٗ وَ تَعٰلٰى عَمَّا یُشْرِكُوْنَ
اَتٰٓى : آپہنچا اَمْرُ اللّٰهِ : اللہ کا حکم فَلَا تَسْتَعْجِلُوْهُ : سو اس کی جلدی نہ کرو سُبْحٰنَهٗ : وہ پاک وَتَعٰلٰى : اور برتر عَمَّا : اس سے جو يُشْرِكُوْنَ : وہ شریک بناتے ہیں
خدا کا حکم (یعنی عذاب گویا) آ ہی پہنچا تو (کافرو) اس لے لئے جلدی مت کرو۔ یہ لوگ جو (خدا کا) شریک بناتے ہیں وہ اس سے پاک اور بالاتر ہے۔
تفسیر (1)” اتی “ اللہ کا حکم آگیا اور قریب آگیا۔ ” امر اللہ “ ابن عرفہ نے کہا کہ جس چیز کی یقینی توقع ہو عرب اس کے لیے کہتے ہیں وہ چیز ہوگئی یا وہ کام بعد میں متوقع پذیر ہونے والا ہو اس کو ماضی سے تعبیر کرتے ہیں۔ یعنی اللہ کا امر آگیا۔ ” فلا تستعجلوہ “ اس کے وقوع پذیر ہونے میں جلدی نہ کرو۔ ” امر اللہ “ کلبی (رح) کا قول ہے کہ اس سے مراد قیامت ہے۔ ابن عباس ؓ کا قول ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے ” اقتربت الساعۃ “ تو کفار ایک دوسرے سے کہنے لگے کہ شخص کہتا ہے کہ پچھلی گھڑی قریب آگئی تم اپنے بعض کاموں کو چھوڑ دو تاکہ تم بھی دیکھ لو کہ آخر کیا ہونے والا ہے۔ جب کوئی چیز نازل نہ ہوئی تو کہنے لگے تم جس چیز سے ہم کو ڈرا رہے ہو اس کا تو نام و نشان بھی نہیں پیدا ہوا۔ اس پر آیت ” اقترب للناس حسابھم “ نازل ہوئی۔ یہ آیت سن کر کافر خوفزدہ ہوگئے۔ پھر کچھ مدت تک مزید انتظار کیا لیکن طویل انتظار کے بعد بھی کچھ نہ ہوا تو کہنے لگے محمد (ﷺ) تم ہم کو ڈراتے ہو اور ہوا کچھ بھی نہیں اس وقت ” اتی امر اللہ “ نازل ہوئی۔ اس جملہ کے سننے کے بعد رسول اللہ ﷺ اپنی جگہ سے جلدی کھڑے ہوئے اور لوگوں نے اپنا سر اوپر اٹھا کر دیکھا اور خیال کیا کہ قیامت حقیقت میں آ ہی گئی۔ اس پر ” فلا تستعجلوہ “ نازل ہوا۔ اس وقت لوگوں کو اطمینان ہوا۔ استعجال کسی چیز کو وقت سے پہلے طلب کرنا جب یہ آیت نازل ہوئی تو نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ مجھے اور قیامت کو ان دونوں کی طرف بھیجا گیا ہے۔ آپ ﷺ نے دونوں انگلیوں سبابہ اور وسطی سے اشارہ کرتے ہوئے فرمایا۔ قریب ہے کہ وہ مجھ تک سبقت کرجائے۔ ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ نبی کریم ﷺ کی بعثت قیامت کی علامات میں سے ہے۔ رسول اللہ ﷺ کے پاس جب حضرت جبرئیل (علیہ السلام) کو بھیجا گیا اور اثناء راہ میں آپ آسمان والوں کی طرف سے گزرے تو اہل سماوات نے کہا اللہ اکبر قیامت برپا ہوگئی اور بعض نے کہا کہ امر سے مراد یہاں جھٹلانے والوں کی سزا اور عذاب تلوار کے ذریعے۔ اس کا واقعہ یہ ہوا کہ نضر بن حارث نے کہا تھا کہ اے اللہ ! اگر یہ تیری طرف سے حق ہے تو ہم پر آسمان سے پتھروں کی بارش کردے۔ پس کافروں نے وقت سے پہلے عذاب کی مانگ کی۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی اور نضر کو بدر کے دن قتل کیا گیا۔ ” سبحانہ وتعالیٰ عما یشرکون “ جن اوصاف کے ساتھ یہ مشرکین متصف کرتے ہیں اللہ ان سے پاک ہے۔
Top