Tafseer-e-Baghwi - An-Nahl : 79
ثُمَّ اِذَا كَشَفَ الضُّرَّ عَنْكُمْ اِذَا فَرِیْقٌ مِّنْكُمْ بِرَبِّهِمْ یُشْرِكُوْنَۙ
ثُمَّ : پھر اِذَا : جب كَشَفَ : کھولدے (دور کردیتا ہے) الضُّرَّ : سختی عَنْكُمْ : تم سے اِذَا : (اس وقت) جب فَرِيْقٌ : ایک فریق مِّنْكُمْ : تم میں سے بِرَبِّهِمْ : اپنے رب کے ساتھ يُشْرِكُوْنَ : وہ شریک کرتا ہے
کیا ان لوگوں نے پرندوں کو نہیں دیکھا کہ آسمان کی ہوا میں گھرے ہوئے (اڑتے رہتے) ہیں ؟ ان کو خدا ہی تھامے رکھتا ہے۔ ایمان والوں کے لئے اس میں (بہت سی) نشانیاں ہیں۔
(79)” الم یروا “ ابن عامر، حمزہ، یعقوب نے تاء کے ساتھ ( تروا) پڑھا ہے اور باقی قراء نے یاء کے ساتھ پڑھا ہے۔” الی الطیر مسخرات “ یعنی وہ تمہارے لیے بازو بچھائے ہوئے ہیں۔ ” فی جو السمائ “ آسمان اور زمین کی درمیانی ہوا۔ کعب احبار کا قول ہے کہ پرندے بارہ میل تک بلندی میں اڑ سکتے ہیں اس سے اوپر نہیں اڑ سکتے۔ ” ما یمسکھن “ وہ ہوا میں نہیں رک سکتے۔” الا للہ ان فی ذلک لایات لقوم یومنون “
Top