Tafseer-e-Baghwi - An-Nahl : 76
وَ لِلّٰهِ غَیْبُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ؕ وَ مَاۤ اَمْرُ السَّاعَةِ اِلَّا كَلَمْحِ الْبَصَرِ اَوْ هُوَ اَقْرَبُ١ؕ اِنَّ اللّٰهَ عَلٰى كُلِّ شَیْءٍ قَدِیْرٌ
وَلِلّٰهِ : اور اللہ کے لیے غَيْبُ : پوشیدہ باتیں السَّمٰوٰتِ : آسمانوں وَالْاَرْضِ : اور زمین وَمَآ : اور نہیں اَمْرُ السَّاعَةِ : کام ( آنا) قیامت اِلَّا : مگر (صرف) كَلَمْحِ الْبَصَرِ : جیسے جھپکنا آنکھ اَوْ : یا هُوَ : وہ اَقْرَبُ : اس سے بھی قریب اِنَّ : بیشک اللّٰهَ : اللہ عَلٰي : پر كُلِّ : ہر شَيْءٍ : شے قَدِيْرٌ : قدرت والا
اور ہمارے دیئے ہوئے مال میں سے ایسی چیزوں کا حصہ مقرر کرتے ہیں جن کو جانتے ہی نہیں۔ (کفرو ! ) خدا کی قسم کہ جو تم افترا کرتے ہو اس کی تم سے ضرور پرسش ہوگی۔
(56)” و یجعلون لما لا یعلمون “ اس سے مراد بت ہیں۔ ” نصیباً رزقناھم “ اس سے مراد کھیتی، مویشی، پھل ہیں۔ مطلب یہ ہے کہ ان لوگوں نے ان بتوں کے لیے حصے مقرر کر رکھے ہیں اور وہ یہ کہتے ہیں کہ یہ حصہ اللہ کے لیے ہے اور اس میں ہمارے بت شریک ہیں۔ ” تاللہ لتسئلن “ قیامت کے دن تم سے ضرور بضرور پوچھاجائے گا۔ ” عما کنتم تفترون “ ان کو تم نے دنیا میں جو معبود بنا رکھا تھا۔
Top