Tafseer-e-Baghwi - Al-Muminoon : 92
عٰلِمِ الْغَیْبِ وَ الشَّهَادَةِ فَتَعٰلٰى عَمَّا یُشْرِكُوْنَ۠   ۧ
عٰلِمِ الْغَيْبِ : جاننے والا پوشیدہ وَالشَّهَادَةِ : اور آشکارا فَتَعٰلٰى : پس برتر عَمَّا : اس سے جو يُشْرِكُوْنَ : وہ شریک سمجھتے ہیں
وہ پوشیدہ اور ظاہر کو جانتا ہے اور (مشرک) جو اس کے ساتھ شریک کرتے ہیں اسکی شان اس سے بلند ہے۔
92۔ عالم الغیب والشھادۃ۔ اہل مدینہ کوفہ نے عالم کے میم پر ضمہ پڑھا ہے مبتداء ہونے کی وجہ سے۔ دوسرے قراء نے مجرور پڑھا ہے ۔ اس صورت میں یہ صفت ہوگی، ماقبل آیت، سبحان اللہ عمایصفون۔ سے فتعالی عمایشرکون۔ ان چیزوں کی تعظیم کرتے ہیں وہ جن کو وہ لوگ شریک ٹھہراتے ہیں ۔ اس آیت کا معنی ہے کہ وہ لوگ جس صفت کے ساتھ موصوف کرتے ہیں اللہ تعالیٰ اس سے کہیں بلند وبالا ہے۔
Top