Tafseer-e-Baghwi - Al-Muminoon : 97
وَ قُلْ رَّبِّ اَعُوْذُ بِكَ مِنْ هَمَزٰتِ الشَّیٰطِیْنِۙ
وَقُلْ : اور آپ فرما دیں رَّبِّ : اے میرے رب اَعُوْذُ : میں پناہ چاہتا ہوں بِكَ : تیری مِنْ : سے هَمَزٰتِ : وسوسے (جمع) الشَّيٰطِيْنِ : شیطان (جمع)
اور کہو کہ اے پروردگار ! میں شیطانوں کے وسوسوں سے تیری پناہ مانگتا ہوں
97۔ وقل رب اعوذبک، ان کو مجھ سے روک دے اور ان کے شر سے بچا۔ من ھمزات الشیاطین، ابن عباس کا قول ہے کہ اس سے مراد شیطان کے دھوکے ہیں۔ حسن کا قول ہے کہ اس سے مراد وساوس شیطان ہیں۔ مجاہد کا قول ہے کہ ان کا پھونکنا، اہل معانی نے اس کا ترجمہ یوں کیا ہے کہ ان کو معاصی کی طرف اغوا کرلینا۔ ھمز، اصل میں کسی چیز کی سختی کے لیے بولاجاتا ہے یا اس کو معنی ہے زور سے دھکا دینا۔
Top