Tafseer-e-Baghwi - Al-Ankaboot : 50
وَ قَالُوْا لَوْ لَاۤ اُنْزِلَ عَلَیْهِ اٰیٰتٌ مِّنْ رَّبِّهٖ١ؕ قُلْ اِنَّمَا الْاٰیٰتُ عِنْدَ اللّٰهِ١ؕ وَ اِنَّمَاۤ اَنَا نَذِیْرٌ مُّبِیْنٌ
وَقَالُوْا : اور وہ بولے لَوْلَآ : کیوں نہ اُنْزِلَ : نازل کی گئی عَلَيْهِ : اس پر اٰيٰتٌ : نشانیاں مِّنْ رَّبِّهٖ ۭ : اس کے رب سے قُلْ : آپ فرمادیں اِنَّمَا : اس کے سوا نہیں الْاٰيٰتُ : نشانیاں عِنْدَ اللّٰهِ ۭ : اللہ کے پاس وَاِنَّمَآ اَنَا : اور اس کے سوا نہیں کہ میں نَذِيْرٌ : ڈرانے والا مُّبِيْنٌ : صاف صاف
اور کافر کہتے ہیں کہ اس پر اس کے پروردگار کی طرف سے نشانیاں کیوں نازل نہیں ہوئیں کہہ دو کہ نشانیاں تو خدا ہی کے پاس ہیں اور میں تو کھلم کھلا ہدایت کرنے والا ہوں
50۔ وقالوا لولاانزل علیہ ایۃ من ربہ، ، جیسا کہ ماقبل انبیاء پر ہم نے نشانیاں اتاریں۔ یہ قرات ابن کثیر، حمزہ کسائی ابوبکر کے ہاں ہے۔ اللہ کی توحید پر ایک نشانی ہے ، دوسرے قراء نے اس کا معنی بیان کیا کہ یہ سب رب کی طرف سے نشانی ہے۔ جیسا کہ اللہ کا فرمان ہے، قل انماالایات ، عنداللہ، اور وہ پیغمبروں کو رسول بناکربھیجنے پر قادر ہے۔ جب وہ چاہے، وانماانانذیرمبین، اہل معصیت کو آگ سے ڈرایا اور یہ ڈرانا ان کے پاس نہیں۔
Top