Tafseer-e-Baghwi - Aal-i-Imraan : 200
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اصْبِرُوْا وَ صَابِرُوْا وَ رَابِطُوْا١۫ وَ اتَّقُوا اللّٰهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ۠   ۧ
يٰٓاَيُّھَا : اے الَّذِيْنَ اٰمَنُوا : ایمان والو اصْبِرُوْا : تم صبر کرو وَصَابِرُوْا : اور مقابلہ میں مضبوط رہو وَرَابِطُوْا : اور جنگ کی تیاری کرو وَاتَّقُوا : اور ڈرو اللّٰهَ : اللہ لَعَلَّكُمْ : تاکہ تم تُفْلِحُوْنَ : مراد کو پہنچو
اے اہل ایمان (کفار کے مقابلوں میں) ثابت قدم رہو اور استقامت رکھو اور (مورچوں پر) جمے رہو اور خدا سے ڈرو تاکہ مراد حاصل کرو۔
(نجاشی کے غائبانہ نماز جنازہ کا ذکر) 200۔ حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ ، جابر ؓ ، انس ؓ ، قتادہ ؓ ، کے نزدیک نجاشی کے متعلق یہ آیت نازل ہوئی ، اس کا نام اصمحہ تھا اور عربی میں اس کا نام عطیہ تھا جس روز اس کی وفات ہوئی اس روز جبرئیل (علیہ السلام) رسول اللہ ﷺ کو اطلاع دی ، آپ ﷺ نے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین سے عرض کیا باہر نکل کر اپنے بھائی نجاشی کی نماز پڑھو ، اس کا انتقال دوسرے ملک میں ہوگیا ، چناچہ وہ بقیع تشریف لے گئے ، آپ کے سامنے سے سرزمین حبشہ تک پڑدہ ہٹادیا اور نجاشی کا جنازہ آپ نے دیکھ کر پڑھایا ، چار تکبریں کہیں اور دعا مغفرت کی ، منافق کہنے لگے ان کو دیکھو ایک حبشی عیسائی کافر کا جنازہ پڑھ رہے ہیں ، جو ان کے دین پر نہیں تھا نہ اس کو کبھی انہوں نے دیکھا اس پر یہ آیت نازل ہوئی ۔ عطاء (رح) فرماتے ہیں کہ یہ آیت چالیس نجرانیوں کے متعلق نازل ہوئی ، جن میں بتیس (32) حبشہ کے رہنے والے تھے اور آٹھ رومی تھے ، یہ سب پہلے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے مذہب پر تھے پھر آپ ﷺ پر ایمان لے آئے تھے، ابن جریج (رح) نے کہا کہ اس آیت کا نزول حضرت عبداللہ بن سلام اور آپ کے ساتھیوں کے بارے میں ہوا ، مجاہد (رح) کا قول ہے کہ ان تمام اہل کتاب کے متعلق اس آیت کا نزول ہوا جو ایمان لے آئے تھے ۔ (آیت)” وان من اھل الکتاب لمن یؤمن باللہ “۔۔۔۔۔۔۔ وما انزل الیکم ‘۔ اس سے مراد قرآن ہے ۔ (آیت)” وما انزل الیھم “ اس سے مراد توریت اور انجیل ہے ، ” خاشعین للہ “ تواضع اور انکساری کرتے ہوئے ، ” لایشترون بایات اللہ ثمنا قلیلا “۔ نہ وہ اپنی کتابوں میں تحریف کرتے ہیں اور نہ محمد ﷺ کی صفات چھپاتے ہیں ، ریاست اور ماکلہ کی وجہ سے ، یعنی چند رشوتیں لے کر اللہ کے کلام کو بگاڑے والے نہیں جس طرح یہود کے بڑے بڑے سردار تھے ، (آیت)” اولئک لھم اجرھم عند ربھم ان اللہ سریع الحساب “ ” یایھا الذین امنوا اصبروا وصابروا ورابطوا “۔ حسن بصری (رح) فرماتے ہیں کہ اس کا معنی ہے اپنے دین پر صبر اختیار کرو سخت اور نرمی میں اس کی اطاعت نہ چھوڑو ، قتادہ (رح) فرماتے ہیں کہ اللہ کی اطاعت میں صبر اختیار کرو ، ضحاک (رح) اور مقاتل بن سلیمان (رح) ، فرماتے ہیں کہ اللہ کے اوامر پر عمل کرتے رہو صبر اختیار کرکے ۔ مقاتل بن حیان (رح) فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے فرائض کی ادائیگی میں صبر اختیار کرو ، زید بن اسلم کا بیان ہے کہ جہاد پر صبراختیار کرو ، کلبی (رح) فرماتے ہیں کہ مصیبت پر صبر اختیار کرو ” وصابروا “ کفار کے قتال پر صبر اختیار کرو ، ” ورابطوا “۔ اور مشرکین کے ساتھ مقابلہ میں مستعد رہو ، ابوعبیدہ فرماتے ہیں کہ دفاع اور ثابت قدم رہو، ربط کہتے ہیں باندھنا ، رباط کا اصل معنی یہ ہے کہ سرحدوں پر گھوڑے باندھے رکھنا بعد میں اس معنی میں مزید توسیع ہوگئی اور معنی ہوگیا ، سرحد پر ہر مقیم کا دشمن کو دفع کرنے کے لیے مستعد رہنا خواہ اس کے پاس گھوڑو ہو یا نہ ہو ، سہل بن سعد ساعدی سے روایت ہے کہ حضور اقدس ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ اللہ کی راہ میں سرحد پر ایک دن کی چوکیداری دنیا ومافیہا سے بہتر ہے اور جنت کے اندر ایک کوڑے کے برابر تم میں سے کسی کی جگہ دنیا اور دنیا کی ہر چیز سے بہتر ہے اور جو شخص ایک شام یا ایک صبح کو اللہ کی راہ میں نکلتا ہے وہ اس کے لیے دنیا اور دنیا کی ہر چیز سے بہتر ہے ۔ سلمان خیر ؓ کی روایت ہے کہ آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا جس نے اللہ کی راہ میں ایک دن اور ایک رات پہریداری کی تو اس کو حالت اقامت میں ایک ماہ کے روزوں کا ثواب ملے گا اور جو پہرہ دیتے ہوئے مرگیا اس کے لیے اس جیسا اجر جاری رکھا جائے گا اور اس کو رزق ملتا رہے گا اور وہ قبر کے فتنوں سے محفوظ رہے گا ۔ ابو سلمہ بن عبدالرحمن ؓ کا فرمان ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں کبھی کوئی جہاد ایسا نہیں ہوا کہ اس میں سرحد پر پہرہ نہ کیا گیا ہو ، لیکن ایک نماز سے دوسری تک کا انتظار ہی پہرہ ہوتا تھا ، اس تاویل کی دلیل وہ روایت ہے جس کو حضرت ابوہریرہ ؓ نے روایت کیا ہے کہ حضور اقدس ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ کیا میں تمہیں خبر نہ دوں ایسے عمل کی جو گناہوں کو مٹا دیتے ہیں (اور خطاؤں کو معاف کردیتے ہیں) اور درجات بلند کرتے ہیں ، وضو کو پورا پورا کرنا مشکل وقت میں بھی اور مساجد کی طرف اٹھنے والے زیادہ قدم ، اور ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرنا ، یہ تمہارا رباط ہے یہی تمہارا رباط ہے ، (آیت)” واتقواللہ لعلکم تفلحون “۔ بعض ارباب لسان فرماتے ہیں ، کہ نعمتوں پر شکر ادا کرنا اور سختی وتنگی میں صبر کرنا اور مضبوط رہنا دشمنوں کے ملک میں اور اللہ سے ڈرنا جو آسمانوں اور زمین کا مالک ہے تاکہ تم کامیاب ہو باقی رہنے والے گھر میں ۔
Top