Tafseer-e-Baghwi - Ash-Shura : 18
یَسْتَعْجِلُ بِهَا الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِهَا١ۚ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا مُشْفِقُوْنَ مِنْهَا١ۙ وَ یَعْلَمُوْنَ اَنَّهَا الْحَقُّ١ؕ اَلَاۤ اِنَّ الَّذِیْنَ یُمَارُوْنَ فِی السَّاعَةِ لَفِیْ ضَلٰلٍۭ بَعِیْدٍ
يَسْتَعْجِلُ : جلدی مانگتے ہیں بِهَا الَّذِيْنَ : اس کو وہ لوگ لَا يُؤْمِنُوْنَ بِهَا : جو ایمان نہیں لاتے اس پر وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا : اور وہ لوگ جو ایمان لائے مُشْفِقُوْنَ مِنْهَا : ڈرنے والے ہیں اس سے وَيَعْلَمُوْنَ : اور وہ علم رکھتے ہیں اَنَّهَا : کہ بیشک وہ الْحَقُّ : حق ہے اَلَآ : خبردار اِنَّ الَّذِيْنَ : بیشک وہ لوگ يُمَارُوْنَ : جو بحثین کرتے ہیں۔ جھگڑتے ہیں فِي السَّاعَةِ : قیامت کے بارے میں لَفِيْ ضَلٰلٍۢ بَعِيْدٍ : البتہ کھلی گمراہی میں ہیں
خدا ہی تو ہے جس نے سچائی کے ساتھ کتاب نازل فرمائی اور (عدل و انصاف) کی ترازو اور تم کو کیا معلوم شاید قیامت قریب ہی آپہنچی ہو
17، اللہ الذی انزل الکتاب بالحق والمیزان، قتادہ، مجاہد اور مقاتل رحمہم اللہ فرماتے ہیں کہ انصاف کے ساتھ۔ عدل کا نام میزان (ترازو) رکھا گیا ہے اس لیے کہ میزان انصاف اور برابری کا آلہ (پیمانہ) ہے۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے پوری چیزدینے کا حکم دیا ہے اور کمی کرنے سے روکا ہے۔ ، ومایدریک لعل الساعۃ قریب، یہاں، قریبۃ، مؤنث نہیں ذکر کیا۔ اس لیے کہ الساعۃ مؤنث غیر حقیقی ہے اور عبارت کی اصل الوقت قریب ہے اور کسائی (رح) فرماتے ہیں کہ اس کا آنا قریب ہے۔ مقاتل (رح) فرماتے ہیں کہ ایک دن نبی کریم ﷺ نے قیامت کا تذکرہ کیا۔ آپ (علیہ السلام) کے پاس مشرکین کی ایک جماعت بیٹھی تھی تو وہ جھٹلانے کے لیے پوچھنے لگے کب ہوگی قیامت ؟ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔
Top