Tafseer-e-Baghwi - Ash-Shura : 21
اَمْ لَهُمْ شُرَكٰٓؤُا شَرَعُوْا لَهُمْ مِّنَ الدِّیْنِ مَا لَمْ یَاْذَنْۢ بِهِ اللّٰهُ١ؕ وَ لَوْ لَا كَلِمَةُ الْفَصْلِ لَقُضِیَ بَیْنَهُمْ١ؕ وَ اِنَّ الظّٰلِمِیْنَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِیْمٌ
اَمْ لَهُمْ : یا ان کے لیے شُرَكٰٓؤُا : کچھ شریک ہیں شَرَعُوْا : جنہوں نے مقرر کر رکھے ہیں لَهُمْ : ان کے لیے مِّنَ الدِّيْنِ : دین میں سے مَا لَمْ : جس کی نہیں يَاْذَنْۢ بِهِ اللّٰهُ : اجازت دی ساتھ اس کے اللہ نے وَلَوْلَا : اور اگر نہ ہوتی كَلِمَةُ : بات الْفَصْلِ : فیصلے کی لَقُضِيَ : البتہ فیصلہ کردیا جاتا بَيْنَهُمْ : ان کے درمیان وَاِنَّ الظّٰلِمِيْنَ : اور بیشک ظالم لوگ لَهُمْ : ان کے لیے عَذَابٌ اَلِيْمٌ : عذاب ہے دردناک
جو شخص آخرت کی کھیتی کا طالب ہو اس کے لیے ہم اس کی کھیتی میں افزائش کریں گے اور جو دنیا کی کھیتی کا خواستگار ہو اس کو ہم اس میں سے دے دیں گے اور اس کا آخرت میں کچھ حصہ نہ ہوگا
تفسیر 20۔ ، من کان یرید حرث الاخرۃ، حرث کا معنی لغت میں کمائی کرنا۔ یعنی جو شخص اپنے عمل سے آخرت کا اراد کرے۔ ، نزدلہ فی حرثہ، دوگناکرکے ایک کے بدلہ میں دس اور اس سے بھی زیادہ جہاں تک اللہ تعالیٰ چاہیں۔ ، ومن کان یرید حرث الدنیا، اپنے عمل سے دنیا کا ارادہ کرے۔ ، نؤتہ منھا، قتادہ (رح) فرماتے ہیں یعنی ہم اس کو اتنی مقدار دیں گے جو اللہ تعالیٰ نے اس کے لیے تقسیم کی ہے۔ جیسا کہ دوسری جگہ فرمایا :، عجلنا لہ فیھا مانشاء لمن نرین، ومالہ فی الاخرۃ من نصیب، اس لیے کہ اس نے آخرت کے لیے عمل نہیں کیا۔ حضرت ابی بن کعب ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اس امت کو بلندی ، مدد اور زمین پر قدرت دینے کی بشارت دی گئی ہے۔ پس جو شخص ان میں سے آخرت کے عمل کو دنیا کے لیے کرے گا، اس کا آخرت میں کوئی حصہ نہ ہوگا۔
Top