Tafseer-e-Baghwi - Ash-Shura : 22
تَرَى الظّٰلِمِیْنَ مُشْفِقِیْنَ مِمَّا كَسَبُوْا وَ هُوَ وَاقِعٌۢ بِهِمْ١ؕ وَ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ فِیْ رَوْضٰتِ الْجَنّٰتِ١ۚ لَهُمْ مَّا یَشَآءُوْنَ عِنْدَ رَبِّهِمْ١ؕ ذٰلِكَ هُوَ الْفَضْلُ الْكَبِیْرُ
تَرَى الظّٰلِمِيْنَ : تم دیکھو گے ظالموں کو مُشْفِقِيْنَ : ڈر رہے ہو گے مِمَّا : اس سے جو كَسَبُوْا : انہوں نے کمائی کی وَهُوَ : اور وہ وَاقِعٌۢ بِهِمْ : واقع ہونے والا ہے ان پر وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا : اور وہ لوگ جو ایمان لائے وَعَمِلُوا : اور انہوں نے عمل کیے الصّٰلِحٰتِ : اچھے فِيْ رَوْضٰتِ الْجَنّٰتِ : جنتوں کے باغوں میں ہوں گے لَهُمْ : ان کے لیے مَّا يَشَآءُوْنَ : جو وہ چاہیں گے عِنْدَ رَبِّهِمْ : ان کے رب کے پاس ہوگا ذٰلِكَ : یہی هُوَ الْفَضْلُ الْكَبِيْرُ : وہ فضل ہے بڑا
کیا ان کے وہ شریک ہیں جنہوں نے ان کے لئے ایسا دین مقرر کیا ہے جس کا خدا نے حکم نہیں دیا اور اگر فیصلے (کے دن) کا وعدہ نہ ہوتا تو ان میں فیصلہ کردیا جاتا اور جو ظالم ہیں ان کے لئے درد دینے والا عذاب ہے
21، ام لھم شرکاء شرعوالھم من الدین مالم یاذن بہ اللہ ، یعنی کفار مکہ ۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کیا ان کے معبود ہیں جنہوں نے ان کے لیے ایسادین مقرر کیا ہے جس کی اللہ تعالیٰ نے اجازت نہیں دی ؟ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ انہوں نے ان کے لیے اسلام کے علاوہ دین مقررکیا ہے۔ ، ولو لاکلمۃ الفصل، اگر یہ بات نہ ہوتی کہ اللہ تعالیٰ نے مخلوق کے درمیان کلمہ فصل کرنے میں یہ فیصلہ کیا ہے کہ ان سے عذاب قیامت کے دن تک مؤ خر کردیں۔ جیسا کہ دوسری جگہ فرمایا :، لقضی بینھم، تو ان لوگوں کے عذاب سے فراغت ہوچکی ہوتی جو آپ (علیہ السلام) کی دنیا میں تکذیب کرتے ہیں۔ وان الظالمین، مشرکین، لھم عذاب الیم، آخرت میں۔
Top