Tafseer-e-Baghwi - Ash-Shura : 24
اَمْ یَقُوْلُوْنَ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا١ۚ فَاِنْ یَّشَاِ اللّٰهُ یَخْتِمْ عَلٰى قَلْبِكَ١ؕ وَ یَمْحُ اللّٰهُ الْبَاطِلَ وَ یُحِقُّ الْحَقَّ بِكَلِمٰتِهٖ١ؕ اِنَّهٗ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ
اَمْ يَقُوْلُوْنَ : یا وہ کہتے ہیں افْتَرٰى : اس نے گھڑ لیا عَلَي اللّٰهِ : اللہ پر كَذِبًا : جھوٹ فَاِنْ يَّشَاِ اللّٰهُ : پھر اگر چاہتا اللہ يَخْتِمْ : مہر لگا دیتا عَلٰي قَلْبِكَ : تیرے دل پر وَيَمْحُ اللّٰهُ : اور مٹا دیتا ہے اللہ الْبَاطِلَ : باطل کو وَيُحِقُّ الْحَقَّ : اور حق کردکھاتا ہے حق کو بِكَلِمٰتِهٖ : اپنے کلمات کے ساتھ اِنَّهٗ : بیشک وہ عَلِيْمٌۢ : جاننے والا ہے بِذَاتِ الصُّدُوْرِ : سینوں کے بھید
یہی وہ (انعام ہے) جس کی خدا اپنے ان بندوں کو جو ایمان لاتے اور عمل نیک کرتے ہیں بشارت دیتا ہے کہہ دو کہ میں اس کا تم سے صلہ نہیں مانگتا مگر (تم کو) قرابت کی محبت (تو چاہیے) اور جو کوئی نیکی کرے گا ہم اس کے لئے اس میں ثواب بڑھائیں گے بیشک خدا بخشنے والا قدردان ہے
23، ذلک الذی، جو میں نے جنت کی نعمتوں کا تذکرہ کیا ۔ ، یبشر اللہ عبادہ الذین امنواعملوالصالحات، کیوں کہ اس کے اہل ہیں ۔ ، قل لا اسئلکم علیہ اجرا الا المودۃ فی القربی، الاالمودۃ فی القربی کی تفسیر طاؤس نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ ابن عباس ؓ سے اللہ تعالیٰ کے فرمان ، الا المودۃ فی القربی، کے بارے میں سوال کیا گیا تو ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ مجھے تعجب ہے کہ قریش کی کوئی ایسی شاخ نہ تھی جس میں نبی کریم ﷺ کی رشتہ داری نہ ہو تو آپ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ تم میری اور اپنی رشتہ داری کو ملاؤ۔ سعید بن جبیر (رح) فرماتے ہیں کہ آل محمد ﷺ کے قریبی رشتہ دار اور اسی طرح شعبی اور طاؤس رحمہما اللہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے ، انہوں نے فرمایا، الاالمودۃ فی القربی، یعنی تم میری قرابت کی حفاظت کرو اور مجھ سے محبت کرو اور میرے رشتہ داروں سے صلہ رحمی کرو اور اسی کی طرف مجاہد ، قتادہ عکرمہ، مقاتل ، سدی اور ضحاک رحمہم اللہ گئے ہیں اور عکرمہ (رح) فرماتے ہیں کہ میں جس چیز کی طرف تمہیں بلاتاہوں اس پر کسی اجرت کا سوال نہیں کرتا مگر یہ کہ تم میری حفاظت کروہماری رشتہ داری کی وجہ سے۔ اور اس طرح نہیں ہے جیسا کہ جھوٹے لوگ کہتے ہیں ۔ مجاہد (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ آیت کا معنی یہ ہے کہ مگر یہ کہ تم اللہ تعالیٰ سے محبت کرو اور اس کی طاعت کے ذریعے اس کا قرب حاصل کرو اور یہی حسن (رح) کا قول ہے ۔ فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا قرب مراد ہے فرماتے ہیں کہ مگر اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنا اور اس سے محبت کرنا طاعت اور نیک عمل کے ذریعے اور ان میں سے بعض نے کہا ہے کہ اس کا معنی یہ ہے کہ مگر یہ کہ تم میرے رشتہ داروں اور اولاد سے محبت کرو اور ان کے بارے میں میری رعایت کرو اور یہی سعید بن جبیر اور عمرو بن شعیب رحمہما اللہ کا قول ہے اور آپ (علیہ السلام) کی قرابت ۔ حضرت فاطمہ ؓ اور حضرت علی ؓ اور ان کے بیٹوں کے بارے میں اختلاف ہوا ہے اور ان کے بارے میں آیت ، انما یرید اللہ لیذھب عنکم الرجس اھل البیت، نازل ہوئی ہے۔ زید بن ارقم ؓ نے نبی کریم ﷺ سے روایت کیا ہے کہ آپ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ میں تم میں دو وزنی چیزیں چھوڑرہاہوں کتاب اللہ اور میرے اہل بیت۔ میں اپنے اہل بیت کے بارے میں تمہیں اللہ کی یاددلاتاہوں ۔ زید بن ارقم ؓ سے کہا گیا کہ آپ ﷺ کے اہل بیت کون ہیں ؟ تو فرمایا کہ وہ آل علی ؓ ، آل عقیل ، آل جعفر اور آل عباس ؓ علیہم اجمعین ہیں۔ ابن عمر ؓ نے حضرت ابوبکرصدیق ؓ سے روایت کیا ہے کہ آپ ؓ نے فرمایا کہ تم محمد ﷺ کے اہل بیت کے بارے میں ان کا خیال رکھو اور کہا گیا ہے کہ یہ آپ (علیہ السلام) کے وہ قریبی رشتہ دار ہیں جن پر صدقہ حرام ہے اور ان میں خمس تقسیم کیا جاتا ہے اور وہ بنوہاشم اور بنوالمطلب ہیں جو آپ (علیہ السلام) سے جاہلیت اور اسلام میں جدا نہیں ہوئے اور ایک قوم نے کہا ہے کہ یہ آیت مسوخ ہے یہ آیت مکہ میں نازل ہوئی تھی۔ مشرکین رسول اللہ ﷺ کو تکلیف دیتے تھے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی اور اس میں ان کو رسول اللہ ﷺ سے محبت کرنے اور آپ سے صلہ رحمی کا حکم دیا۔ پس آپ (علیہ السلام) نے مدینہ کی طرف ہجرت کی اور انصارنے آپ کو ٹھکانہ دیا اور آپ (علیہ السلام) کی مدد کی تو اللہ تعالیٰ کو یہ بات پسند آئی کہ آپ (علیہ السلام) کو آپ (علیہ السلام) کے بھائی انبیاء (علیہم السلام) کے ساتھ ملادیں تو فرمایا، وما اسئلکم علیہ من اجران اجری الا علی رب العالمین، تو اللہ تعالیٰ نے نازل کیا، قل ماسالتکم من اجر فھو لکم ان اجری الا علی اللہ ، تو یہ اس آیت اور اللہ تعالیٰ کے قول ، قل مااسئلکم علیہ من اجر وما انا من المتکلفین، اور اس جیسی دوسری آیات سے منسوخ ہوگئی ہے اور اسی طرف ضحاک بن مزاحم اور حسین بن فضل رحمہما اللہ گئے ہیں۔ اور یہ قول پسند یدہ نہیں ہے اس لیے کہ نبی کریم ﷺ اور آپ (علیہ السلام) کے اقارب کی محبت اور آپ (علیہ السلام) اور آپ کے اقارب کی تکلیف سے رکنا اور اللہ کی طاعت سے قرب حاصل کرنا اور نیک عمل کرنا یہ سب دین کے فرائض میں سے ہیں اور یہ اسلاف کے اقوال ہیں تو یہ جائز نہیں کہ ان میں سے کسی کے منسوخ ہونے کا قول جائز نہیں ہے اور باری تعالیٰ کا قول ، الا المودۃ فی القربی، یہ پہلی کلام کے ساتھ اسثناء متصل نہیں ہے کہ یہ ادائیگی رسالت مقابلہ میں اجر بن جائے بلکہ یہ استثناء منقطع ہے اور اس کا معنی ہے تاکہ میں تمہیں یاد دلاؤں قریبی رشتہ داروں کی محبت اور تمہیں یاددلاؤں تمہاری مجھ سے قرابت۔ جیسا کہ ہم نے زید بن ارقم ؓ کی حدیث میں روایت کیا ہے، اذکرکم اللہ فی اھل بیتی، اللہ تعالیٰ کا فرمان ، ومن یقترف حسنۃ نزدلہ فیھا حسنا، یعنی جو شخص طاعت کرے گا ہم اس کے لیے اس میں اچھائی کو زیادہ کردیں گے، دگنا کرکے، ان اللہ غفور، گناہوں کو، شکور، تھوڑی چیزکاحتی کہ اس کودوگناکردیتا ہے۔
Top