Tafseer-e-Baghwi - Ash-Shura : 25
وَ هُوَ الَّذِیْ یَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهٖ وَ یَعْفُوْا عَنِ السَّیِّاٰتِ وَ یَعْلَمُ مَا تَفْعَلُوْنَۙ
وَهُوَ الَّذِيْ : اور وہ اللہ وہ ذات ہے يَقْبَلُ : جو قبول کرتا ہے التَّوْبَةَ : توبہ کو عَنْ عِبَادِهٖ : اپنے بندوں سے وَيَعْفُوْا : اور درگزر کرتا ہے عَنِ السَّيِّاٰتِ : برائیوں سے وَيَعْلَمُ مَا : اور وہ جانتا ہے جو تَفْعَلُوْنَ : تم کرتے ہو
کیا یہ لوگ کہتے ہیں کہ پیغمبر نے خدا پر جھوٹ باندھ لیا ہے ؟ اگر خدا چاہے تو (اے محمد ﷺ تمہارے دل پر مہر لگا دے اور خدا جھوٹ کو نابود کردیتا ہے اور اپنی باتوں سے حق کو ثابت کرتا ہے بیشک وہ سینے تک کی باتوں سے واقف ہے
تفسیر 24۔ ، ام یقولون، بلکہ وہ یعنی کفار مکہ کہتے ہیں۔ ، افتری علی اللہ کذبافان یشا اللہ یختم علی قلبک، مجاہد (رح) فرماتے ہیں کہ ہم کے دل کو صبر سے باندھ دیتے ہیں تاکہ ان کی تکلیفیں آپ پر گراں نہ ہوں۔ قتادہ (رح) فرماتے ہیں کہ یعنی آپ کے دل پر مہرلگادیں گے تو آپ کو قرآن اور جو کچھ آپ کو دیا ہے وہ بھلادیتے ۔ پس ان کو خبردی کہ اگر وہ اللہ پر جھوٹ گھڑلیتا تو اللہ تعالیٰ آپ کے ساتھ ویسا کرتے جس کی خبر اس آیت میں دی ہے۔ پھر ابتداء کی اور فرمایا ، ویمح اللہ الباطل، کسائی (رح) فرماتے ہیں کہ اس آیت میں تقدیم و تاخیر ہے۔ ، تقدیر عبارت یوں ہے، واللہ بمحوا الباطل، پس یہ محل رفع میں ہے لیکن اس سے واؤ لفظوں میں حذف کردی گئی ہے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ کے فرمان، ویدع الانسان، اور، سندع الزبانیۃ، سے حذف کیا گیا ہے۔ خبردی ہے کہ جو وہ کہتے ہیں وہ باطل ہے اللہ تعالیٰ اس کو مٹادیں گے۔ ، ویحق الحق بکلماتہ، یعنی اسلام کو اپنی اتاری ہوئی کتاب کے ذریعے اور تحقیق اللہ تعالیٰ نے یہ کرو دکھایا کہ ان کے باطل کو مٹادیا اور اسلام کے کلمہ کو بلند کیا۔ ، انہ علیم بذات الصو ور، ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ جب آیت ، قل لا اسالکم علیہ اجر ا الاالمودۃ فی القربی، نازل ہوئی تو ایک قوم کے دل میں اس کی وجہ سے کچھ شک پیدا ہوگیا کہ آپ (علیہ السلام) کی مراد آپ کے بعد ہمیں آپ کے اقارب پر ابھارنے کی ہے تو جبریل (علیہ السلام) آئے اور آپ (علیہ السلام) کو خبردی کہ انہوں نے آپ پر تہمت لگائی ہے اور یہ آیت نازل کی تو جس قوم نے تہمت لگائی تھی وہ کہنے لگے اے اللہ کے رسول ! ( ﷺ) کیا ہم اس کی گواہی دیں کہ (علیہ السلام) سچے ہیں ؟
Top