Tafseer-e-Baghwi - Ash-Shura : 28
وَ هُوَ الَّذِیْ یُنَزِّلُ الْغَیْثَ مِنْۢ بَعْدِ مَا قَنَطُوْا وَ یَنْشُرُ رَحْمَتَهٗ١ؕ وَ هُوَ الْوَلِیُّ الْحَمِیْدُ
وَهُوَ الَّذِيْ : اور وہ اللہ وہ ذات ہے يُنَزِّلُ : جو اتارتا ہے الْغَيْثَ : بارش کو مِنْۢ بَعْدِ مَا : اس کے بعد کہ قَنَطُوْا : وہ مایوس ہوگئے وَيَنْشُرُ رَحْمَتَهٗ : اور پھیلا دیتا ہے اپنی رحمت کو وَهُوَ : اور وہ الْوَلِيُّ الْحَمِيْدُ : کارساز ہے۔ دوست ہے، تعریف والا ہے
اور اگر خدا اپنے بندوں کے لئے رزق میں فراخی کردیتا تو زمین میں فساد کرنے لگتے لیکن وہ جس قدر چاہتا ہے اندازے کے ساتھ نازل کرتا ہے بیشک وہ اپنے بندوں کو جانتا اور دیکھتا ہے
27، ولو بسط اللہ الرزق لعبادہ، خباب بن ارت ؓ فرماتے ہیں کہ تو ہم نے اس کی تمنا کی تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی، ولوبسط اللہ الررز، اللہ تعالیٰ رزق کو کشادہ کریں ۔ ، لعبادہ لبغوا، تو وہ سرکشی کرتے ۔ ، فی الارض، ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ ان کی سرکشی ان کا ایک گھر کے بعد دوسراگھر اور ایک سواری کے بعد دوسری سواری اور لباس کے بعد لباس طلب کرنا ہے۔ ، ولکن یننزل، ان کے رزق۔ ، بقدرمایشائ، جیسے چاہتا ہے اپنے بندوں کی طرف نظر کرتے ہوئے اور حکمت کے ساتھ جو اس کی قدرت تقاضا کرتی ہے۔ ، انہ بعبادہ خبیر بصیر، اولیاء اللہ کی توہین کرنے کا وبال حضرت انس بن مالک ؓ کی روایت نقل کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے بحوالہ جبرئیل (علیہ السلام) ، باری تعالیٰ کا یہ قول بیان فرمایا ہے کہ جو میرے کسی ولی کی توہین کرتا ہے، وہ مجھ سے جنگ کرنے کے لیے میرامقابلہ کرتا ہے۔ میں اپنے اولیائ (کی حمایت) کے لیے ایسا غضبناک ہوں جیسا غضبناک شیر غضب میں آجاتا ہے ۔ میرامؤمن بندہ میرامقرب (اور کسی طریقہ سے) اتنا نہیں جتنا میرامقررکردہ فریضہ ادا کرنے سے ہوتا ہے اور نوافل کے ذریعہ سے کے ذریعہ سے میرامؤمن بندہ برابرمیرامقرب ہوتا چلاجاتا ہے۔ یہاں تک کہ میں اس سے محبت کرنے لگتا ہوں اور جب میں اسے محبت کرنے لگتا ہوں تو پھر میں اس کے کان اور آنکھیں اور ہاتھ ہوجاتا ہوں اور اس کا مددگار بن جاتا ہوں۔ اگر وہ مجھ سے دعا کرتا ہے تو میں اس کی دعا قبول کرتاہوں اور مجھ سے مانگتا ہے تو میں اس کو دیتا ہوں جس کام کو میں کرنے والا ہوتا ہوں ، اس کے کرنے میں مجھے ایسا تر دد نہیں ہوتا جتنا اپنے مؤمن بندہ کی روح قبض کرنے میں ہوتا ہے۔ اگر وہ مرنے کونا گوار جانتا ہو تو مجھے اس کو دکھ دینا پسند نہیں ہوتا مگر مرنے کے بغیر اس کے لیے کوئی چارہ نہیں ہوتا (اس لیے قبض روح کی تکلیف اس کو دیتا ہوں) میرے کچھ مؤمن بندے ایسے ہیں جو مجھ سے باب عبادت (کھولنے) کی درخواست کرتے ہیں لیکن میں ان کوا س سے روک دیتا ہوں، کہیں ایسانہ ہو کہ ان کے اندرغرورپیدا ہوجائے اور اس سے ان کی حالت بگڑجائے۔ میرے کچھ مؤمن بندے ایسے ہیں جن کے ایمان کو صرف مال ہی درست رکھ سکتا ہے۔ اگر میں ان کو غنی کردوں تو مال ان کے ایمان کو خراب کرے۔ میرے کچھ مؤمن بندے ایسے ہیں کہ ان کے ایمان کو صرف جسمانی تندرستی ہی صحیح رکھ سکتی ہے، اگر میں ان کو بیمار کردوں تو بیماری ان کے ایمان کو بگاڑدے اور کچھ مؤمن بندے ایسے ہیں کہ بیماری ہی ان کے ایمان کو صحیح رکھ سکتی ہے، اگر میں ان کو تندرست کردوں توصحت ان کے ایمان کو خراب کردے۔ میں اپنے بندوں کے کاموں کا اپنے علم کے مطابق انتظام کرتاہوں ، مجھے ان کے دلوں کی حالت معلوم ہے، میں بخوبی جاننے والا اور خبر رکھنے والا ہوں۔
Top