Tafseer-e-Baghwi - Ash-Shura : 31
وَ مَاۤ اَنْتُمْ بِمُعْجِزِیْنَ فِی الْاَرْضِ١ۖۚ وَ مَا لَكُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ مِنْ وَّلِیٍّ وَّ لَا نَصِیْرٍ
وَمَآ اَنْتُمْ : اور نہیں تم بِمُعْجِزِيْنَ : عاجز کرنے والے فِي الْاَرْضِ : زمین میں وَمَا لَكُمْ : اور نہیں تمہارے لیے مِّنْ : سے دُوْنِ اللّٰهِ : اللہ کے سوا مِنْ وَّلِيٍّ : کوئی دوست وَّلَا نَصِيْرٍ : اور نہ کوئی مددگار
اور جو مصیبت تم پر واقع ہوتی ہے سو تمہارے اپنے فعلوں سے اور وہ بہت سے گناہ تو معاف ہی کردیتا ہے
30، وما اصابکم من مصیبۃ فبماکسبت ایدیکم ، اہل مدینہ اور اہل شام نے، بما کسبت ، بغیرفاء کے پڑھا ہے اور اسی طرح ان کے مصاحف میں ہے۔ پس جس نے فاء کو حذف کیا ہے تو اس نے آیت کے پہلے حصہ کو، الذی اصابکم بماکسبت ایدیکم ، کے معنی میں کیا ہے۔ یعنی جو چیز تم کو پہنچی ہے وہ تمہارے اپنے ہاتھوں کی کمائی کے بدلہ میں ہے۔ ، ویعفواعن کثیر، حسن (رح) فرماتے ہیں کہ جب یہ آیت نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں محمد ﷺ کی جان ہے۔ لکڑی کی خراش اور قدم کا پھسلنا اور کسی رگ کا پھڑکنا کسی نہ کسی گناہ کی وجہ سے ہوتا ہے اور جن گناہوں سے اللہ تعالیٰ درگزر کرتے ہیں وہ اس سے زیادہ ہیں۔ ابو سخیلہ سے روایت ہے کہ حضرت علی بن ابی طالب ؓ نے فرمایا کہ کیا میں تم کو قرآن کی افضل آیت کی خبرنہ دوں جس کے بارے میں ہمیں رسول اللہ ﷺ نے بیان کیا ؟ ، ومااصابکم من مصیبۃ فبماکسبت ایدیکم ویعفواعن کثیر، آپ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ اے علی ! عنقریب میں تجھے اس کی تفسیر بتاؤں گا جو تمہیں مرض یاسزایا آزمائش دنیا میں آتی ہے ۔ تو وہ تمہارے اعمال کی وجہ سے ہے اور اللہ تعالیٰ ان پر آخرت میں دوسری مرتبہ عذاب دینے سے بہت بہت معزز ہیں اور جو اللہ تعالیٰ دنیا میں تمہیں معاف کردیتے ہیں تو اللہ تعالیٰ بہت بڑے بردبار ہیں کہ اس معافی کے بعد دوبارہ مؤ اخذہ کریں ۔ عکرمہ اللہ فرماتے ہیں کہ بندہ کو کوئی ہلکی سی تکلیف یا اس سے اوپر کوئی مصیبت آئے تو وہ کسی گناہ کی وجہ سے ہوتی ہے۔ اللہ تعالیٰ اس گناہ کو اس کے بغیر معاف نہیں کرتے یا کوئی اونچادرجہ ہوتا ہے جس تک اس کے بغیر بندہ نہیں پہنچاتے۔
Top