Tafseer-e-Baghwi - Ash-Shura : 53
صِرَاطِ اللّٰهِ الَّذِیْ لَهٗ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ؕ اَلَاۤ اِلَى اللّٰهِ تَصِیْرُ الْاُمُوْرُ۠   ۧ
صِرَاطِ اللّٰهِ : راستہ اللہ کا الَّذِيْ : وہ ذات لَهٗ : اس کے لیے ہے مَا فِي السَّمٰوٰتِ : جو آسمانوں میں ہے وَمَا فِي : اور جو، میں الْاَرْضِ : زمین (میں) ہے اَلَآ : خبردار اِلَى اللّٰهِ : اللہ کی طرف تَصِيْرُ : رجوع کرتے ہیں، لوٹتے ہیں الْاُمُوْرُ : تمام معاملات۔ سارے امور
اور اسی طرح ہم نے اپنے حکم سے تمہاری طرف روح القدس کے ذریعے (سے قرآن) بھیجا ہے تم نہ تو کتاب کو جانتے تھے اور نہ ایمان کو لیکن ہم نے اس کو نور بنایا ہے کہ اس سے ہم اپنے بندوں میں سے جسے چاہتے ہیں ہدایت کرتے ہیں اور بیشک (اے محمد ﷺ تم سیدھا راستہ دکھاتے ہو
52، وکذلک، یعنی جیسے ہم نے اپنے سارے رسولوں کی طرف وحی کی۔ ، او حینا الیک روحامن امرنا، ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ نبوت اور حسن (رح) فرماتے ہیں کہ رحمت اور سدی اور مقاتل رحمہما اللہ فرماتے ہیں کہ وحی اور کلبی (رح) فرماتے ہیں کتاب اور ربیع (رح) فرماتے ہیں جبریل اور مالک بن دینا (رح) فرماتے ہیں یعنی قرآن ، ماکنت تدری ، وحی سے پہلے ۔ ، ماالکتاب ولاالایمان، یعنی ایمان کے شرائع اور بڑی علامات ۔ محمد بن اسحاق بن خزیمہ (رح) فرماتے ہیں کہ ایمان سے اس جگہ نماز مراد ہے اور اس کی دلیل اللہ تعالیٰ کا فرمان ، وماکان اللہ لیضیع ایمانکم، ہے اور اہل اصول اس بات پر ہیں کہ انبیاء (علیہم السلام) وحی سے پہلے مؤمن تھے اور نبی کریم ﷺ وحی سے پہلے دین ابراہیم (علیہ السلام) پر اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے تھے اور آپ (علیہ السلام) کے یے دین کے شرائع واضح نہ ہوئے تھے۔ ، ولکن جعلناہ نورا، ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ یعنی ایمان اور سدی (رح) فرماتے ہیں یعنی قرآن ۔ ، نھدی بہ، ہم راستہ دکھاتے ہیں اس کے ذریعے۔ ، من نشاء من عبادنا وانک لتھدی، یعنی آپ (علیہ السلام) بلاتے ہیں۔ ، الی صراط مستقیم، یعنی اسلام۔
Top