Tafseer-e-Baghwi - Ash-Shura : 8
وَ لَوْ شَآءَ اللّٰهُ لَجَعَلَهُمْ اُمَّةً وَّاحِدَةً وَّ لٰكِنْ یُّدْخِلُ مَنْ یَّشَآءُ فِیْ رَحْمَتِهٖ١ؕ وَ الظّٰلِمُوْنَ مَا لَهُمْ مِّنْ وَّلِیٍّ وَّ لَا نَصِیْرٍ
وَلَوْ شَآءَ اللّٰهُ : اور اگر اللہ چاہتا لَجَعَلَهُمْ : البتہ بنادیتا ان کو اُمَّةً : امت وَّاحِدَةً : ایک ہی وَّلٰكِنْ يُّدْخِلُ : لیکن وہ داخل کرے گا۔ وہ داخل کرتا ہے مَنْ يَّشَآءُ : جس کو چاہے گا۔ چاہتا ہے فِيْ رَحْمَتِهٖ : اپنی رحمت میں وَالظّٰلِمُوْنَ : اور ظالم مَا لَهُمْ : نہیں ان کے لیے مِّنْ وَّلِيٍّ : کوئی دوست وَّلَا نَصِيْرٍ : اور نہ کوئی مددگار
اور اسی طرح تمہارے پاس قرآن عربی بھیجا ہے تاکہ تم بڑے گاؤں (یعنی مکے) کے رہنے والوں کو اور جو لوگ اس کے اردگرد رہتے ہیں ان کو سیدھا راستہ دکھاؤ اور انہیں قیامت کے دن کا بھی جس میں کچھ شک نہیں ہے خوف دلاؤ اس روز ایک فریق بہشت میں ہوگا اور ایک فریق دوزخ میں
7، وکذلک، اس کی مثل جو ہم نے ذکر کیا۔ ، اوحینا الیک قرآنا عربیا لتنذر ام القری، مکہ کے رہنے والوں کو۔ ومن حولھا، یعنی تمام زمین کے علاقوں کو۔ ، وتنذریوم الجمع ، یعنی تاکہ آپ (علیہ السلام) ان کو جمع ہونے کے دن یعنی قیامت کے دن سے ڈرائیں کہ اس دن اللہ تعالیٰ اولین وآخرین اور آسمان والوں اور زمین والوں کو جمع کریں گے۔ ، لاریب فیہ ، اس جمع ہونے میں کوئی شک نہیں ہے، یہ ہوکر رہے گا۔ پھر جمع کے بعد وہ جداکیے جائیں گے۔ ، فریق فی الجنۃ وفریق فی السعیر، یہ کتابیں کون سی تھیں اور ان میں کیا تھا حضرت عبد اللہ بن عمر وؓ سے روایت ہے۔ فرماتے ہیں کہ ایک دن رسول اللہ ﷺ ہمارے پاس گھر سے تشریف لائے، اپنی ہتھیلیوں کو بندکیے ہوئے آپ (علیہ السلام) کے پاس دوکتابیں تھیں تو آپ (علیہ السلام) نے پوچھاکیاتم جانتے ہو کہ یہ دوکون سی کتابیں ہیں ؟ ہم نے عرض کیا نہیں ! اے اللہ کے رسول ! یہ کہ آپ خود ہمیں خبردے دیں تو آپ (علیہ السلام) نے دائیں ہاتھ والی کتاب کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ کتاب رب العمین کی طرف سے ہے۔ اس میں جنتیوں اور ان کے آباء و اجداد اور قبیلوں کے نام اور ان کی تعداد لکھی ہوئی ہے۔ ان کے اپنے آباء کی پشتوں میں نطفہ بن کر قرار پکڑنے سے پہلے اور ماؤں کے رحموں میں نطفہ کے قرار پکڑنے سے پہلے ۔ جب وہ گارے کی شکل میں تھے ۔ پس نہ ان میں کوئی زائد ہوگا اور نہ کوئی ان میں سے کم ہوگا ۔ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے قیامت کے دن تک کی اجمالی فہرست ہے۔ پھر اپنے بائیں ہاتھ کتاب کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا کہ یہ کتاب رب العالمین کی طرف سے ہے ۔ اس میں جہنمیوں اور ان کے آباء و اجداد اور قبیلوں کے نام اور ان کی تعداد ہے۔ یہ نام ان کے آباء کی تپشتوں اور ماؤں کے رحموں میں نطفہ کی شکل میں ٹھہرنے سے پہلے لکھے گئے ہیں جب وہ گارے کی شکل میں تھے۔ پس ان میں کوئی نام زائد ہوگا اور نہ کوئی کم ہوگا۔ یہ قیامت کے دن تک کی اللہ تعالیٰ کی طرف سے اجمالی فہرست ہے تو حضرت عبد اللہ بن عمروؓ نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ! (ﷺ) پھر عمل کیوں کیا جائے ؟ تو آپ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ تم عمل کرتے رہو اور سیدھی راہ پرچلو اور قریب ہوجاؤ۔ پس بیشک جنت والوں کے لیے جنتیوں کے اعمال کا خاتمہ لکھاگیا ہے۔ ، اگرچہ جو عمل بھی کرے اور جہنمی کے لیے جہنمیوں والے عمل کا خاتمہ لکھا گیا ہے۔ اگر چہ جع عمل بھی کرے۔ پھر فرمایا ، فریق فی الجۃ، اللہ کے فضل سے۔ وفریق فی السعیر، اللہ تعالیٰ کے انصاف کی وجہ سے۔
Top