Tafseer-e-Baghwi - Al-Hashr : 10
وَ الَّذِیْنَ جَآءُوْ مِنْۢ بَعْدِهِمْ یَقُوْلُوْنَ رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَ لِاِخْوَانِنَا الَّذِیْنَ سَبَقُوْنَا بِالْاِیْمَانِ وَ لَا تَجْعَلْ فِیْ قُلُوْبِنَا غِلًّا لِّلَّذِیْنَ اٰمَنُوْا رَبَّنَاۤ اِنَّكَ رَءُوْفٌ رَّحِیْمٌ۠   ۧ
وَالَّذِيْنَ : اور جو لوگ جَآءُوْ : وہ آئے مِنْۢ بَعْدِهِمْ : ان کے بعد يَقُوْلُوْنَ : وہ کہتے ہیں رَبَّنَا : اے ہمارے رب اغْفِرْ لَنَا : ہمیں بخشدے وَلِاِخْوَانِنَا : اور ہمارے بھائیوں کو الَّذِيْنَ : وہ جنہوں نے سَبَقُوْنَا : ہم سے سبقت کی بِالْاِيْمَانِ : ایمان میں وَلَا تَجْعَلْ : اور نہ ہونے دے فِيْ قُلُوْبِنَا : ہمارے دلوں میں غِلًّا : کوئی کینہ لِّلَّذِيْنَ : ان لوگوں کیلئے جو اٰمَنُوْا : وہ ایمان لائے رَبَّنَآ : اے ہمارے رب اِنَّكَ : بیشک تو رَءُوْفٌ : شفقت کرنیوالا رَّحِيْمٌ : رحم کرنے والا
اور (ان لوگوں کے لئے بھی) جو مہاجرین سے پہلے (ہجرت کے) گھر (یعنی مدینے) میں مقیم اور ایمان میں (مستقل) رہے اور جو لوگ ہجرت کر کے انکے پاس آتے ہیں ان سے محبت کرتے ہیں اور جو کچھ ان کو ملا اس سے اپنے دل میں کچھ خواہش (اور خلش) نہیں پاتے اور انکو اپنی جانوں سے مقدم رکھتے ہیں خواہ ان کو خود احتیاج ہی ہو اور جو شخص حرص نفس سے بچا لیا گیا تو ایسے ہی لوگ مراد پانے والے ہیں۔
9 ۔” والذین تبوالدار والایمان “ اور وہ انصار ہیں، ان کے اقامت کی، گھر کی اور وطن بنایا گھر کو یعنی مدینہ دار ہجرت ہو ایمان بنایا۔ ” من قبلھم “ یعنی وہ اپنے گھروں میں اسلام لائے اور ایمان کی ترجیح دی اور نبی کریم ﷺ کے آنے سے دو سال پہلے مسجدیں بنائیں اور آیت کی ترتیب ” والذین تبو وا الدار والایمان من قبلھم “ یعنی مہاجرین ان کے پاس آنے سے پہلے اور وہ ایمان لے آئے اس لئے کہ ایمان اقامت کی جگہ نہیں ہے۔ ” یحبون من ھاجر الیھم ولا یجدون فی صغوزھم حاجۃ “ گھٹن، غصہ اور حسد ۔ ” مما اوتوا “ یعنی جو مہاجرین ان کے بغیر مال فئی دیئے گئے اور یہ بیشک رسول اللہ ﷺ کے بنو نضیر کے اموال کو مہاجرین کے درمیان تقسیم کیا اور انصار کو نہیں دیا تو انصار کے دل اس پر خوش ہوئے۔ ” ویرثرون علی انفسھم “ یعنی وہ اپنے مہاجر بھائیوں پر اپنے اموال اور رہائش گاہ کا ایثار کرتے ہیں۔ ” ولو کان بھم عصاصۃ “ فاقہ اور حاجب اس چیز کی جس کا وہ ایثار کررہے ہیں کیونکہ انہوں نے اپنے اموال اور گھر مہاجرین کو تقسیم کردیئے تھے۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ ایک شخص نبی کریم ﷺ کے پاس آیا تو آپ (علیہ السلام) سے ضیافت طلب کی تو آپ (علیہ السلام) نے اپنی ازواج کے پاس پیغام بھیجا، کیا تمہارے پاس کچھ چیز ہے ؟ انہوں نے جواب دیا ہمارے پاس تو صرف پانی ہے تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کون پلاتا ہے یا اس کی مہمانی کرتا ہے ؟ تو انصار میں ایک شخص نے کہا میں یارسول اللہ ! (ﷺ ) تو اس کو اپنی بیوی کے پاس لے گئے اور کہا تو رسول اللہ ﷺ کے مہمان کا اکرام کر، اس نے کہا ہمارے پاس تو صرف بچوں کے بقدر غذا ہے تو انصاری ؓ نے کہا تو کھانا تیار کر اور چراغ روشن کر اور بچوں کو سلا دینا جب ان کا رات کا کھانا کھانے کا ارادہ ہو تو اس نے کھانا تیار کیا اور چراغ روشن کردیا اور بچوں کو سلادیا، پھر کھڑی ہوئی چراغ کی روشنی کو ٹھیک کرنے اور اس کو بجھا دیا۔ پس وہ دونوں میاں بیوی اس کو یہ دکھاتے رہے کہ وہ بھی ساتھ کھا رہے ہیں تو وہ دونوں بھوکے سوگئے۔ پس جب صبح ہوئی تو رسول اللہ ﷺ کے پاس گئے۔ آپ (علیہ السلام) نے فرمایا رات کو اللہ تعالیٰ کو ہنسی آگئی یا فرمایا تم دونوں کا فعل اس کو اچھا لگا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے نازل کیا ” ویوثرون علی انفسھم ولوکان بھم خصاصۃ ومن یوق شح نفسہ فاولئک ھم المفلحون “ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ انصار نے کہا تمہارے اور ہمارے بھائیوں کے درمیان کھجور کے درختوں کو تقسیم کردیں۔ آپ (علیہ السلام) نے فرمایا نہیں تو انہوں نے کہا آپ ہمیں کار گزاری سے مستغنی کردیں اور ہم تمہیں پھل میں شریک کرلیں۔ انہوں نے کہا ہم نے سن لیا اور ہم نے اطاعت کی۔ یحییٰ ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے انس بن مالک ؓ سے سنا جب ان کے ساتھ ولید کی طرف نکلے۔ انہوں نے فرمایا کہ نبی کریم ﷺ نے انصار کو بلایا کہ ان کو بحرین دے دیا جائے تو انہوں نے کہا نہیں۔ مگر یہ کہ ہمارے مہاجر بھائیوں کو اس کی مثل دیا جائے۔ آپ (علیہ السلام) نے فرمایا سن لو ! پس تم صبر کرو حتیٰ کہ تم مجھے حوض پر آکر ملو کیونکہ عنقریب تمہیں میرے بعد ترجیح پہنچے گی۔ اور ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے نفیر کے دن انصار کو کہا اگر تم چاہو تو اپنے اموال اور گھر مہاجرین میں تقسیم کر دو اور ان کے ساتھ ان غنیمت میں شریک ہوجائو اور اگر تم چاہو تو تمہارے لئے تمہارے گھر اور تمہارے اموال ہوں۔ اور تمہارے لئے غنیمت سے کچھ تقسیم نہ کیا جائے تو انصار ؓ نے کہا بلکہ ہم ان کے لئے اپنے مال اور گھر تقسیم کردیتے ہیں اور ہم ان کو غنیمت میں ترجیح دیتے ہیں اور ان کے ساتھ شریک نہیں ہوتے تو اللہ تعالیٰ نے نازل کیا ” ویوثرون علی انفسھم وکان بھم خصاصۃ ومن یوق شح نفسہ فاولئک ھم المفلحون “ اور الشح کلام عرب بخل کرنا اور فضل کو روکنا ہے۔ اور علماء رحمہم اللہ نے شح اور بخل میں فرق کیا ہے۔ روایت کیا گیا ہے کہ ایک شخص نے عبداللہ بن مسعود ؓ کو کیا کہ مجھے خوف ہوا کہ میں ہلاک ہوگیا ہوں تو آپ ؓ نے فرمایا اور یہ کہا ہے ؟ تو اس نے کہا کہ میں نے اللہ تعالیٰ کا قول سنا۔” ومن یوق شح نفسہ فاولئک ھم المفلحون “ اور میں بخیل آدمی ہوں، میرے ہاتھ سے کوئی چیز نہیں نکلتی تو عبداللہ ؓ نے فرمایا، یہ وہ شح نہیں ہے جو اللہ تعالیٰ نے قرآن میں ذکر کیا ہے اور لیکن شح یہ ہے کہ تو اپنے بھائی کے مال کو ظلماً کھاجائے اور لیکن یہ بخل ہے اور بخل بری چیز ہے۔ اور ابن عمر ؓ فرماتے ہیں ” شح “ یہ نہیں ہے کہ آدمی اپنا مال روک لے۔ ” شح “ تو ہ ہے کہ آدمی کی آنکھ اس چیز کا لالچ کرے جو اس کی نہیں ہے اور سعید بن جبیر (رح) فرماتے ہیں ” شح “ حرام کو لینا اور زکوٰۃ نہ دینا ہے اور کہا گیا ہے ” شح “ وہ شدید حرص (لالچ) ہے جو انسان کو حرام کاموں کے ارتکاب پر ابھارے۔ ابن زید (رح) فرماتے ہیں جو شخص ایسی چیز نہ لے جس سے اللہ تعالیٰ نے اس کو روکا ہے اور شح نے اس کو اس طرف نہ بلایا ہو کہ وہ اس چیز سے روک دے جس کا اللہ تعالیٰ نے حکم دیا ہے تو اس نے اپنے آپ کو نفس کے شح سے بچا لیا۔ جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تم ظلم سے ڈرو کیونکہ قیامت کے دن تاریکیاں ہوں گی اور شح (بخل) سے بچو کیونکہ بخل نے تم سے پہلے لوگوں کو ہلاک کردیا، ان کو اس پر ابھارا کہ وہ اپنے خونوں اور حرام کی ہوئی چیزوں کو حلال کردیں۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا کہ اللہ کے راستے کا غبار اور جہنم کا دھواں ایک بندے کے پیٹ میں کبھی جمع نہیں ہوسکتے اور شح اور ایمان ایک بندے کے دل میں جمع نہیں ہوسکتے۔
Top