Tafseer-e-Baghwi - Al-Mulk : 23
قُلْ هُوَ الَّذِیْۤ اَنْشَاَكُمْ وَ جَعَلَ لَكُمُ السَّمْعَ وَ الْاَبْصَارَ وَ الْاَفْئِدَةَ١ؕ قَلِیْلًا مَّا تَشْكُرُوْنَ
قُلْ : کہہ دیجئے هُوَ الَّذِيْٓ : وہ ذات ہے اَنْشَاَكُمْ : جس نے پیدا کیا تم کو وَجَعَلَ : اور بنائے اس نے لَكُمُ السَّمْعَ : تمہارے لیے کان وَالْاَبْصَارَ : اور آنکھیں وَالْاَفْئِدَةَ : اور دل قَلِيْلًا مَّا : کتنا تھوڑا تَشْكُرُوْنَ : تم شکر ادا کرتے ہو
بھلا جو شخص چلتا ہوا منہ کے بل گرپڑتا ہے وہ سیدھے راستے پر ہے یا وہ جو سیدھے راستے پر برابر چل رہا ہو
22 ۔” پھر مثال بیان کرتے ہوئے فرمایا ” افمن یمشی مکبا علی وجھہ “ اپنے سر کو گمراہی اور جہالت میں جھکائے ہوئے آنکھوں اور دل کا اندھا دائیں بائیں نہ دیکھتا ہو اور وہ کافر ہے۔ قتادہ (رح) فرماتے ہیں دنیا میں معاصی پر سوار۔ پس اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کے منہ کے بل جمع کریں گے۔ ” اھدیٰ امن یمشی سویا “ معتدل راستے کو دیکھتا ہو اور وہ ” علیٰ صراط مستقیم “ اور وہ مومن ہے ۔ قتادہ (رح) فرماتے ہیں قیامت کے دن سیدھا چلے گا۔
Top