Tafseer-e-Baghwi - Al-Mulk : 3
الَّذِیْ خَلَقَ سَبْعَ سَمٰوٰتٍ طِبَاقًا١ؕ مَا تَرٰى فِیْ خَلْقِ الرَّحْمٰنِ مِنْ تَفٰوُتٍ١ؕ فَارْجِعِ الْبَصَرَ١ۙ هَلْ تَرٰى مِنْ فُطُوْرٍ
الَّذِيْ : جس نے خَلَقَ : بنائے سَبْعَ سَمٰوٰتٍ : سات آسمان طِبَاقًا : اوپر تلے۔ تہ بہ تہ مَا تَرٰى : نہ تم دیکھو گے فِيْ خَلْقِ الرَّحْمٰنِ : رحمن کی تخلیق میں مِنْ تَفٰوُتٍ : کوئی نقص۔ کجی۔ خلل فَارْجِعِ الْبَصَرَ : پھر لوٹاؤ نگاہ کو هَلْ تَرٰى : کیا تم دیکھتے ہو مِنْ فُطُوْرٍ : کوئی شگاف۔ کوئی رخنہ
اسی نے موت اور زندگی کو پیدا کیا تاکہ تمہاری آزمائش کرے کہ تم میں کون اچھے عمل کرتا ہے اور وہ زبردست اور بخشنے والا ہے
2 ۔” الذی خلق الموت والحیاۃ “ عطاء نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ دنیا میں موت اور آخرت میں زندگی مراد ہے اور قتادہ (رح) فرماتے ہیں انسان کی موت اور اس کی زندگی دنیا میں مراد ہے۔ اللہ تعالیٰ نے دنیا کو زندگی اور فناء کا گھر بنایا اور آخرت کو جزاء اور بقاء کا گھر بنایا۔ کہا گیا ہے موت کو مقدم کیا ہے اس لئے کہ وہ قہر کے زیادہ قریب ہے اور کہا گیا ہے اس کو مقدم کیا ہے اس لئے کہ وہ زیادہ مقدم ہے اس لئے کہ تمام اشیاء ابتداء میں موت کے حکم میں تھیں جیسے نطفہ، مٹی اور ان دونوں کی مثل۔ پھر ان پر زندگی واقع ہوئی اور ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ موت کو ایک سفید و سیاہ رنگ والے مینڈھے کی صورت پر پیدا کیا جس چیز پر گزرتا اور جو چیز اس کی بدبوسونگھ لیتی مرجاتی اور زندگی کو ایک چتکبرے رنگ کی گھوڑی کی صورت پر پیدا کیا۔ یہ وہی ہے جس پر جبرئیل (علیہ السلام) اور تمام انبیاء (علیہم السلام) سواری کرتے تھے۔ یہ جس چیز پر گزرتی اور جو چیز اس کی خوشبو سونگھتی وہ زندہ ہوجاتی۔ یہ وہی گھوڑی ہے جس کے نشان قدم سے سامری نے ایک مٹھی لی تھی۔ پھر بچھڑے پر ڈالی تو وہ زندہ ہوگیا۔ ” لیبلوکم “ زندگی وموت کے درمیان ” ایکم احسن عملاً “ ابن عمر ؓ سے مرفوع روایت ہے کہ احسن عملاً اچھی عقل والا اور اللہ کے محارم سے پرہیز کرنے والا اور اللہ کی فرمانبرداری میں جلدی کرنے والا اور فضیل بن عیاض (رح) فرماتے ہیں احسن عملاً اخلاص اور درست عمل والا اور فرمایا کہ عمل نہیں قبول کیا جاتا جب تک خالص دنیا سے زیادہ بےرغبت اور اس کو زیادہ چھوڑنے والا ہے۔ فراء (رح) فرماتے ہیں بلویٰ کا لفظ اسی پر تب واقع ہوتا ہے دونوں کے درمیان ضمیر لائی جائے تو کہے گا ” بلوتکم لانظر ایکم اطوع “ اور اس کی مثل ” سلھم ایھم بذلک ہے یعنی ” سلھم وانظیر ایھم “ پس اگر ابتداء کی بناء پر رفع دیا جائے اور احسن اس کی خبر ہے۔ ” وھوالعزیز “ اپنے نام لینے میں اس سے جس نے اس کی نافرمانی کی ہے۔ ” الغفور “ اس کے لئے جس نے اس کی طرف توبہ کی ہے۔
Top