Tafseer-e-Baghwi - Al-Mulk : 4
ثُمَّ ارْجِعِ الْبَصَرَ كَرَّتَیْنِ یَنْقَلِبْ اِلَیْكَ الْبَصَرُ خَاسِئًا وَّ هُوَ حَسِیْرٌ
ثُمَّ ارْجِعِ : پھر لوٹاؤ الْبَصَرَ : نگاہ کو كَرَّتَيْنِ : بار بار يَنْقَلِبْ : لوٹ آئے گی اِلَيْكَ الْبَصَرُ : تیری طرف نگاہ خَاسِئًا : ذلیل ہوکر۔ عاجز ہو کر وَّهُوَ حَسِيْرٌ : اور وہ تھکی ہوئی ہوگی
اس نے سات آسمان اوپر تلک بنائے (اے دیکھنے والے) کیا تو (خدا) رحمن کی آفرینش میں کچھ نقص دیکھتا ہے ؟ ذرا آنکھ اٹھا کر دیکھ بھلا تجھ کو آسمان میں کوئی شگاف نظر آتا ہے ؟
3 ۔” الذی خلق سبع سماوات طباقا “ تہہ بہ تہہ ایک دوسرے کے اوپر ” ماتریٰ فی خلق الرحمن تفوت “ حمزہ اور کسائی رحمہما اللہ ” من تفوت “ وائو کی شد کے ساتھ بغیر الف کے پڑھا ہے اور دیگر حضرات نے وائو کی کیف اور اس سے پہلے الف کے ساتھ پڑھا ہے اور یہ دو لغتیں ہیں جیسے تحمل اور تحامل اور ” تضھر “ اور تظاہر اور اس کا معنی اے آدم تو رحمن کی تخلیق میں کوئی کجی وٹیڑھا پن اور اختلاف تنا قض نہ دیکھے گا بلکہ وہ تو بالکل سیدھی برابر ہے اور اس کی اصل سے ہے۔ وہ یہ کہ اس میں بعض بعض سے فوت ہوجائے اور اس کی قلت استواء کی وجہ سے۔ ” فارجع البصر ، نظر ۔
Top