Tafseer-e-Baghwi - Al-Insaan : 25
وَ اذْكُرِ اسْمَ رَبِّكَ بُكْرَةً وَّ اَصِیْلًاۖۚ
وَاذْكُرِ : اور آپ یاد کریں اسْمَ : نام رَبِّكَ : اپنے رب کا بُكْرَةً : صبح وَّاَصِيْلًا : وشام
تو اپنے پروردگار کے حکم کے مطابق صبر کئے رہو اور ان لوگوں میں سے کسی بدعمل اور ناشکرے کا کہا نہ مانو
24 ۔” فاصبرلحکم ربک ولاتطع منھم “ یعنی مشرکین مکہ میں سے۔ ” آثما اور کفورا “ یعنی وکفورا اور الف صلہ ہے۔ اثما او کفورا کی تفسیر قتادہ (رح) فرماتے ہیں آثم اور کافر سے ابوجہل مراد ہے کیونکہ جب نبی کریم ﷺ پر نماز فرض کی گئی تو آپ (علیہ السلام) کو ابوجہل نے اس سے روکا اور کہا اگر آپ دیکھیں اے محمد ! (ﷺ ) کی نماز پڑھیں تو میں آپ (علیہ السلام) کی گردن رونددوں گا اور مقاتل (رح) فرماتے ہیں آثم سے عتبہ بن ربیعہ مراد ہے اور الکفور سے ولید بن مغیرہ ان دونوں نے نبی کریم ﷺ کو کہا اگر آپ نے جو کچھ کیا ہے عورتوں اور مال کے لئے کیا ہے تو آپ (علیہ السلام) اس امر سے رجوع کرلیں۔ عتبہ نے کہا میں آپ (علیہ السلام) سے اپنی بیٹی کا نکاح کردیتا ہوں اور بغیر مہر کے اس کو آپ کے پاس بھیج دوں گا اور ولید نے کہا میں آپ کو اتنا مال دوں گا کہ آپ راضی ہوجائیں گے ۔ بس آپ اس امر سے رجوع کرلیں تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی۔
Top