Baseerat-e-Quran - Al-Muminoon : 17
وَ لَقَدْ خَلَقْنَا فَوْقَكُمْ سَبْعَ طَرَآئِقَ١ۖۗ وَ مَا كُنَّا عَنِ الْخَلْقِ غٰفِلِیْنَ
وَ : اور لَقَدْ خَلَقْنَا : تحقیق ہم نے بنائے فَوْقَكُمْ : تمہارے اوپر سَبْعَ : ساتھ طَرَآئِقَ : راستے وَمَا كُنَّا : اور ہم نہیں عَنِ : سے الْخَلْقِ : خلق (پیدائش) غٰفِلِيْنَ : غافل
اور ہم نے تمہارے اوپر سات راستے (آسمان) بنادیئے اور ہم مخلوق ( کی مصلحتوں) سے بیخبر نہیں ہیں۔
لغات القرآن آیت نمبر 17 تا 22 : فوق (اوپر) ‘ سبع (سات) طرائق (طریقۃ) راستے ‘ الخلق (پیدائش۔ بناوٹ) ‘ بقدر (ایک اندا زے سے) ‘ اسکنا (ہم نے روک دیا۔ ہم نے ٹھہرادیا) نخیل (کھجور) ‘ اعناب (عنب) انگور ‘ فواکۃ (فاکھۃ) میوے ‘ تنبت (اگتی ہے۔ اگتا ہے) ‘ دھن (تیل) ‘ صبغ (سالن) ‘ اکلین (کھانے والے) ‘ الانعام (مویشی۔ جانور) ‘ نسقی (ہم پلاتے ہیں) ‘ بطون (بطن) (پیٹ) ‘ تحملون (تم سوار کئے گئے) ۔ تشریح : آیت نمبر 17 تا 22 : اللہ تعالیٰ نے جس طرح انسان کو سات مرحلوں سے گذار کر پیدا کیا فرمایا کہ اسی طرح کائنات کے ذرہ ذرہ کو اس نے انسانی ضروریات کے لئے پیدا کیا ہے جو اس کی قدرت کی نشانیاں ہیں۔ اللہ نے انسان کو خشکی ‘ تری ‘ فضاؤں اور ہواؤں پر ایک خاص عزت و عظمت اور برتری عطا فرمائی ہے۔ وہ بعض جسمانی کمزوریوں کے باوجود نہایت عزم و ہمت کا پیکر اور سخت جان ہے۔ جب وہ اللہ کی توفیق سے کسی کام کے کرنے پر آتا ہے تو ہر چیز اس کے سامنے سرنگوں ہوجاتی ہے لیکن اس سب کے باوجود کائنات اور اسکے عظیم اور پھیلے ہوئے نظام زمین و آسمان ‘ پہاڑ ‘ سمندر اور اس میں رہنے بسنے والی مخلوق کے مقابلے میں انسان جسمانی طور پر بہت کمزور ہے۔ وہ معمولی اور حقیر قطرہ سے پیدا کیا گیا ہے۔ آسمانوں اور زمین کو پیدا کرنا انسانوں کو پیدا کرنے سے بڑا کام تھا۔ لیکن اس کے باوجود اللہ نے اس نظام زندگی کو اس طرح بنایا کہ جب انسان پورے عزم و ہمت کے ساتھ اٹھ کھڑا ہوتا ہے تو ذرہ ذرہ کو اسکے تابع کردیا جاتا ہے۔ اور اس طرح ہم آہنگ ہوجاتا ہے کہ ناموافق صورت حال کے باوجود انسان ان پر قابو پا لیتا ہے۔ کائنات کے وسیع خلا میں بیشمار ستارے اور سیارے بڑی تیزی سے گردش کررہے ہیں مگر ان کو ایسے قاعدے ‘ قرینے اور سلیقے سے ترتیب دیا گیا ہے جس سے ایک خاص ہم آہنگی پیدا ہوگئی ہے۔ جس سے اندازہ کیا جاسکتا ہے کہ اللہ نے ان تمام چیزوں کو پورے علم و حکمت کے ساتھ بنایا ہے اور وہ اپنی مخلوق کی کسی ضرورت اور حاجت سے بیخبر نہیں ہے۔ اس طرح اس دنیا میں انسان کی ترقی ‘ نشوو نما ‘ رہائش و آسائش کے تمام اسباب پیدا کردیئے گئے ہیں جن کو شمار کرنا ناممکن نہیں ہے تاکہ اس کو کسی طرح کی دشواری پیش نہ آئے۔ تو ازن ایسا قائم فرمایا ہے کہ انسان کو اور کائنات کو جس چیز کی جتنی ضرورت ہے اتنی ہی عطا کی جاتی ہے۔ ان تمام باتوں کو ان آیات میں ارشاد فرمایا گیا ہے۔ ارشاد ہے کہ اللہ نے سات آسمانوں کو اوپر تلے بنایا ہے جو فرشتوں کی گذر گاہیں بھی ہیں جن سے وہ اللہ کے احکامات کو لے کر زمین کی طرف آتے ہیں دوسرے یہ کہ آسمان دنیا کو ایک چھت کی طرح بنا دیا ہے تاکہ کائنات کو نقصان پہنچانے والی چیزیں انسانی دنیا تک نہ پہنچ سکیں۔ تو ازن ایسا پیدا کیا ہے کہ جس وقت جس چیز کی جتنی ضرورت ہے اسی مقدار میں اس کو عطا کردیا جاتا ہے۔ بارش کی مثال دیتے ہوئے فرمایا کہ پانی انسان کی ایک ایسی ضرورت ہے جس کے بغیر انسان بلکہ کوئی جان دار زندہ رہ سکتا اس کے دھانے اگر کھول دیئے جاتے تو ہر طرف تباہی مچ جاتی اور انسانی تہذیب و ترقی تباہ و برباد ہو کر رہ جاتی۔ بارش کو بیشمار وسائل کا ذریعہ بنایا دیا اور اس کی حفاظت کا مناسب بندوبست بھی کردیا۔ ایک مردہ اور خشک زمین پر جیسے ہی بارش برستی ہے ہر طرف زندگی کے آثا نمایاں ہونا شروع ہوجاتے ہیں۔ ہر طرف تروتازگی محسوس ہونے لگتی ہے۔ قسم قسم کے نباتات ‘ سر سبزی و شادابی ‘ کھیتی ‘ میوہ ‘ اناج ‘ پھل پھول ‘ جڑی بوٹیاں ‘ سبزی اور ترکاریاں ‘ گھانس پھونس پیدا ہوجاتا ہے جو انسانوں اور جانوروں کی ضروریات زندگی کا سامان بن جاتے ہیں۔ کھجوروں اور انگوروں کے باغات نئی رونق اور تروتازگی پیدا کرتے ہیں۔ کھیت لہلہانے لگتے ہیں۔ درختوں کی خوبصورتی بڑھ جاتی ہے زیتون کے درخت کا خاص طور پر ذکر فرمایا جو صحرائے سینا میں پیدا ہوتا ہے۔ اللہ کی اس قدرت کا اظہار بھی ہے عام طور پر صحراؤں میں ریتیلے ٹیلوں ‘ خشک پہاڑوں اور گردو غبار کے سوا کوئی تصور نہیں ہوتا۔ اللہ نے اسی صحرا میں زیتون کا درخت اگایا جس سے بیشمار فائدے ہیں۔ صحرا میں اگنے والے اس درخت کی عمر ہزاروں سال کی ہوتی ہے۔ اس کا تیل کھانے اور بدن پر ملنے اور دوسری ضروریات میں استعمال کیا جاتا ہے جس کے بہت فائدے شمار کئے گئے ہیں۔ غرضیکہ اللہ نے بارشوں کے نظام کو ایک تو ازن کے ساتھ بنایا ہے تاکہ وہ انسانی ضروریات کو پورا کرسکے۔ پھر پانی برسا کر اس کی حفاظت کا بھی اعلی ترین انتظام فرما دیا۔ بہتے پانی کو زمین میں اس طرح جذب کردیا کہ انسان جب چاہے اس کو چند فٹ زمین کھود کر نکال لے اور آسانی سے استعمال کرلے۔ اگر وہ پانی انتہائی گہرائیوں میں پہنچ جاتا تو اس کو استعمال کرنا ممکن نہ ہوتا۔ پھر اس پانی کو پہاڑوں کی چوٹیوں پر کھلے آسمان کے نیچے اس طرح جمادیا کہ وہ سال بھر آہستہ آہستہ بہہ کر ندی ‘ نالوں ‘ جھرنوں اور دریاؤں کی شکل اختیار کرلیتا ہے۔ انسان اس سے پانی کھیتی باڑی کے لئے ‘ اپنے اور جانوروں کے پلانے کے لئے استعمال کرتا ہے ۔ یہ سب کچھ خودبخود نہیں ہوگیا بلکہ یہ سب کچھ اللہ نے اپنی قدرت کاملہ سے پیدا کیا ہے۔ جانوروں اور مویشیوں کا ذکر کرتے ہوئے انہیں عبرت و نصیحت کا ذریعہ بنا دیا۔ اللہ نے اپنی قدرت سے جانور کے دودھ اور گوشت اور اس پر سواری کرنے کو ایک نعمت کے طور پر بیان کیا۔ فرمایا دودھ جیسی پاکیزہ اور صاف ستھری چیز کو اللہ نے جانور کے گوبر اور خون کے درمیان سے اس طرح پیدا کیا ہے کہ اس میں نہ گوبر کی بد بو ہوتی ہے اور نہ خون کا اثر اور رنگ بلکہ دودھ کا ایک ایک قطرہ اللہ کی صنعت کی تعریف کرتا نظر آتا ہے۔ اللہ نے جانوروں کو تازہ گوشت کی فیکٹریاں بنادیا۔ جب بھی ان کی ذبح کیا جاتا ہے اسی وقت تزہ گوشت مل جاتا ہے۔ اگر وہ کچھ زیادہ دیر رہ جائے تو سڑ جاتا ہے اور ناق ابل استعمال ہوجاتا ہے۔ وہی گوشت جانور کی کھال کے اندر بڑے عرصے تک رہنے کے باوجود نہ سڑتا ہے نہ گلتا ہے یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ اللہ نے ان جانوروں کے گوشت کو انسانی استعمال کے لئے بنایا ہے تاکہ جب بھی وہ اس کو استعمال کرنا چاہیے آسانی سے استعمال کرلے۔ اسی طرح تنگ و تاریک اور پہاڑوں کے پر پیچ راستوں میں یہ جانور سواری اور سامان کو لاد کرلے جانے کا ذریعہ بھی ہیں۔ فرمایا کہ یہ طاقت ور جانور ہیں مگر انہیں اللہ نے انسان کے تابع کرکے اپنی قدرت کاملہ کا اظہار فرمایا ہے۔ اسی طرح اللہ نے سمندری پانی کو بھی انسانی ضرورتوں کے لئے اس کے تابع کردیا ہے۔ ورنہ پانی اتنی بڑی طاقت ورچیز ہے ایک بڑے سے بڑے جہاز کی سمندر کے پانی کے سامنے ایک تنکے سے زیادہ حیثیت نہیں ہوتی۔ مگر سمندر کی گہرائیوں اور ہوا کی شدت کے باوجود اللہ ان جہازوں کی حفاظت فرماتے ہیں۔
Top