Baseerat-e-Quran - Al-Qasas : 2
تِلْكَ اٰیٰتُ الْكِتٰبِ الْمُبِیْنِ
تِلْكَ : یہ اٰيٰتُ : آیتیں الْكِتٰبِ الْمُبِيْنِ : واضح کتاب
یہ واضح کتاب (قرآن) کی آیتیں ہیں۔
لغات القرآن : آیت نمبر 1 تا 6 : نتلوا (ہم پڑھتے ہیں) نبا (خبر۔ حال) ‘ علا (اس نے سرکشی کی) شیع (فرقے۔ گروہ) ‘ یستضعف (وہ کمزور کرتا ہے) ‘ یذبح (وہ ذبح کرتا ہے) یستحی (وہ زندہ رکھتا ہے) ‘ نمن (ہم احسان کرتے ہیں) ‘ ائمۃ (امام) پیشوا۔ رہنما ‘ نری (ہم دکھائیں گے) ‘ یحذرون (وہ ڈرتے ہیں) ۔ تشریح : آیت نمبر 1 تا 6 : سورۃ القصص کی ابتداء حروف مقطعات سے کی گئی ہے۔ یہ وہ حروف ہیں جن کے معنی اور مراد کا علم صرف اللہ کو حاصل ہے۔ ممکن ہے ان حروف کے معنی اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب رسول محمد مصطفیٰ ﷺ کو بتادیئے ہوں اور آپ نے امت کو بتانا ضروری نہ سمجھا ہو۔ لہٰذا ہمارا اس بات پر ایمان ہے کہ ان حروف کے معنی اور مراد کا علم صرف اللہ تعالیٰ کو ہے۔ اگر امت کو بتانا ضروری ہوتا تو نبی کریم ﷺ اس سلسلہ میں ضرور ارشاد فرماتے یا صحابہ کرام ؓ آپ ﷺ سے ضرور پوچھتے۔ سورۃ القصص میں کل 83 آیات ہیں جن میں سے 43 آیات حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے واقعات زندگی کو بڑی تفصیل سے ذکر فرمایا گیا ہے جس میں عبرت و نصیحت کے بیشمار پہلوؤں پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ فرمایا (1) اس کتاب قرآن مجید کی واضح اور کھلی ہوئی آیات ہیں جن کو سمجھنے اور عمل کرنے میں کوئی دشواری نہیں ہے۔ وہ اپنے معنی اور مفہوم کے لحاظ سے نہایت واضح روشن اور آسان آیات ہیں۔ اگر ذرا بھی ان پر توجہ اور دھیان دیا جائے تو اس سے عمل اور نجات کی راہیں آسان ہو سکتی ہیں۔ (2) اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کے لئے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے واقعات کو با لکل صحیح اور درست انداز میں پیش کیا ہے اور بنی اسرائیل نے اس دعوے کے باوجود کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ان کے ہیرو ہیں ان کی شخصیت کے بعض پہلوؤں کو داغ دار کر رکھا تھا۔ اور ان کے واقعات زندگی کو اس طرح توڑ مروڑ کر پیش کر رکھا تھا کہ اس سے عظمت کے تاثرات کے بجائے پہلو نمایاں ہو کر سامنے آرہے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان برے پہلوؤں کو دور رک کے صحیح واقعات کو بیان کیا ہے۔ (3) فرعون نے سرزمین مصر میں بنی اسرائیل کی واضح اکثریت ہونے کے باوجود ان کو انتہائی ذلیل کرکے رکھا ہوا تھا اور ان پر ہر طرح کے ظلم و ستم کے پہاڑ توڑ رکھے تھے۔ جب فرعون اور اس قوم کی سرکشی ‘ تکبر و غرور اور ظلم و ستم اپنی انتہاؤں پر پہنچ گیا تو اللہ نے ان کی اصلاح کے لئے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور ان کے بھائی حضرت ہارون (علیہ السلام) کو چند معجزات دے کر بھیجا تاکہ ان کی اصلاح کی جاسکے ۔ (4) ” لڑائو اور حکومت کرو “ اس سیاسی اصول کی ابتداء شاید فرعون نے کی تھی۔ صورت حال یہتھی کہ اس وقت مصر میں بنی اسرائیل پچانوے فیصد تھے اور قبطی حکم ران اور اس کے ماننے والوں کی تعداد بہت تھوڑی سی تھی مگر انہوں نے طاقت وقوت ‘ ظلم و جبر کی ایسی پالیسی اختیار کی ہوئی تھی کہ جس سے پوری قوم بنی اسرائیل پست سے پس اور ذلیل کام کرکے اپنے پیٹ کی آگ بجھانے پر مجبور کردی گئی تھی۔ نتیجہ یہ تھا کہ اس کے بعد اس قوم میں ظالم حکمرانوں کے ظلم کا مقابلہ کرنے کی ہمت اور طاقت ختم ہی ہوکر رہ گئی تھی۔ فرعون نے اس شخصی حکومت کی بقا کے لئے ہر طرف قدم قدم پر اپنے جاسوس پھیلارکھے تھے۔ اور پوری قوم بنی اسرائیل کو مختلف فرقوں میں تقسیم کر کے ایک کو دوسرے سے بھڑکا رکھا تھا۔ حکومتی جبر کے ان اقدامات سے بنی اسرائیل تباہی اور ذلت کے آخری کنارے تک پہنچ چکے تھے۔ (5) قوم بنی اسرائیل مختلف فرقوں میں تقسیم ہونے اور اریاستی جبر اور ظلم و ستم کے سامنے اس قدر بےبس ‘ مجبور اور کمزور ہوچکی تھی کہ ماؤں کی گود سے ان کے معصوم بچوں کو چھین کر ان کے سامنے ذبح کیا جاتا اور بچوں کے ٹکڑے کردیئے جاتے مگر اس پر کسی کو اعتراض کرنے یا اس سلسلہ میں احتجاج تک کرنے کی اجازت نہ تھی۔ لڑکیوں کو اس لئے زندہ رکھتے تھے کہ ان سے فرعون کی سلطنت کو کوئی خطرہ نہیں تھا اور ان کو یقین تھا کہ آئندہ وہ ان کی باندیاں اور غلام بن کر ان کے کام آئیں گی۔ (6) فرعون زبردست فسادی آدمی تھا جس نے اپنے اقتدار اور سلطنت کو بچانے کے لئے ہر طرف تباہی و بربادی کا بازار گرم کر رکھا تھا اور اس کے شر سے کوئی محفوظ نہ تھا۔ (7) فرعون کی ان سازشوں اور کوششوں کے برخلاف اللہ نے یہ فیصلہ فرمادیا تھا کہ اس کمزور اور بےبس قوم کو ایسی طاقت و قوت عطاکر دی جائے جس سے فرعون اپنے کیفر کردار تک پہنچ جائے اور بنی اسرائیل کو وہ عظمت ‘ حکومت اور سلطنت دے دی جائے جس کا وہ تصور بھی نہ کرسکتے تھے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے پرجوش خطبات سے قوم بنی اسرائیل میں ایک نئی زندگی کی لہر پیدا ہوگئی اور وہ فرعون کے ظلم و ستم کو مٹانے کے لئے اٹھ کھڑی ہوئی۔ دس سات تک مدین میں جلاوطنی کی زندگی گذارنے کے بعد جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) مصر واپس تشریف لائے تو اللہ نے ان کو نبوت و رسالت سے نواز کر ایسے معجزات عطا کئے جن کے سامنے فرعون اور اس کی طاقتیں راکھ کا ڈھیر بن گئیں۔ اور اس طرح فرعون اور ہامان کو جو خطرہ تھا جس کی وجہ سے وہ قوم بنی اسرائیل کو تباہ و برباد کرنے پر تلے ہوئے تھے۔ اللہ نے اپنی مشیت اور ارادے سے فرعون کی تدبیریں خود اس پر الٹ دیں۔ اللہ نے فرعون اور اس کے ماننے والے لشکریوں کو پانی میں غرق کر کے بنی اسرائیل کو ان کا وارث بنادیا۔ جب تک قوم بنی اسرائیل فرقوں میں بٹ کر ایک دوسرے سے لڑتے جھگڑتے رہے وہ فرعون کے غلاموں جیسی زندگی گذارتے رہے لیکن جب وہ اللہ کے دین پر چلتے ہوئے متحد و متفق ہوء تو اللہ نے اپنی قدرت کاملہ سے فرعون کی سلطنت کو ٹکڑے ٹکڑے کرکے ختم کردیا اور اہل ایمان کو عظمت کی بلندیاں عطا فرمادیں۔ ان آیات میں درحقیقت کفار مکہ کو یہ سمجھایاجارہا ہے کہ کفر کتنا بھی طاقت ور ہو جب لوگ اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لیتے ہیں تو قدرت کا غیبی ہاتھ ان کی مدد کر کے اس بلند مقام تک پہنچادیتا ہے جہاں ان کا تصور بھی نہیں پہنچ سکتا۔ بتایا جارہا ہے کہ کفار مکہ یہ نہ سمجھیں کہ اہل ایمان کمزور ہیں اور ان پر ظلم و ستم کیا جارہا ہے اس کا سلسلہ اسی طرح جاری رہے گا۔ بلکہ وہ وقت بہت قریب ہے جب اللہ تعالیٰ ان کمزور اور بےبس مسلمانوں کو اتنی طاقت و قوت عطا فرمادے گا کہ کفر کے ایوانوں میں زلزلے آجائیں گے۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے اہل ایمان کے خلوص کو قبول کرکے نبی کریم ﷺ اور صحابہ کرام ؓ کو اتنی زبردست قوت و طاقت بنادیا کہ ساری دنیا کی سلطنتیں ان کے سامنے بےبس ہو کر رہ گئیں۔ اہل ایمان کامیاب و بامراد ہوئے اور کافر اس دنیا میں بھی ذلیل و رسوا ہوئے اور انہوں نے اپنی آخرت بھی برباد کر ڈالی۔
Top