Tafseer-e-Madani - Aal-i-Imraan : 87
یٰنِسَآءَ النَّبِیِّ لَسْتُنَّ كَاَحَدٍ مِّنَ النِّسَآءِ اِنِ اتَّقَیْتُنَّ فَلَا تَخْضَعْنَ بِالْقَوْلِ فَیَطْمَعَ الَّذِیْ فِیْ قَلْبِهٖ مَرَضٌ وَّ قُلْنَ قَوْلًا مَّعْرُوْفًاۚ
يٰنِسَآءَ النَّبِيِّ : اے نبی کی بیبیو لَسْتُنَّ : نہیں ہو تم كَاَحَدٍ : کسی ایک کی طرح مِّنَ النِّسَآءِ : عورتوں میں سے اِنِ : اگر اتَّقَيْتُنَّ : تم پرہیزگاری کرو فَلَا تَخْضَعْنَ : تو ملائمت نہ کرو بِالْقَوْلِ : گفتگو میں فَيَطْمَعَ : کہ لالچ کرے الَّذِيْ : وہ جو فِيْ قَلْبِهٖ : اس کے دل میں مَرَضٌ : روگ (کھوٹ) وَّقُلْنَ : اور بات کرو تم قَوْلًا : بات مَّعْرُوْفًا : اچھی ( معقول)
ایسے (ظالم اور ناشکرے و بےانصاف) لوگوں کا یہی بدلہ ہے کہ ان پر لعنت (برستی) رہے اللہ کی، اس کے فرشتوں کی، اور سب لوگوں کی،
181 ظلم کا نتیجہ محرومی و پھٹکار۔ والعیاذ باللہ : سو اس میں تصریح فرما دی گئی کہ ظالموں پر لعنت و پھٹکار ہے اللہ کی، اس کے فرشتوں اور لوگوں کی سب کی۔ سو اہل ایمان ایسوں پر صراحتاً لعنت کرتے ہیں، مگر خود کفار بھی غیر شعوری طور پر اپنے اوپر لعنت کرتے ہیں۔ کیونکہ جب وہ کہتے ہیں کہ حق بات نہ ماننے والوں پر لعنت ہو، تو یہ لعنت خود ان پر پڑتی ہے، مگر وہ اس کو سمجھتے نہیں (معارف للکاندھلوی (رح) وغیرہ) ۔ بہرکیف ایسے ظالموں پر سب کی لعنت و پھٹکار ہے، کہ اللہ تعالیٰ کی سنت یہی ہے کہ وہ ایسے لوگوں کو نور حق و ہدایت سے نہیں نوازتا۔ جو لوگ نشانات راہ کو جان کر گم کردیں ان کو وہ با مراد نہیں کرتا کہ انہوں نے نشانات راہ کو گم کر کے ٹھوکریں کھانے کے طریق کو باختیار خود اپنایا۔ سو ان پر نیک و بد سب ہی لوگوں کی لعنت ہوگی۔ نیکوں کی لعنت تو ظاہر ہے لیکن بد ان پر لعنت اس لئے کریں گے کہ وہ بھی انہی کی بدولت حق سے محروم ہو کر گمراہی کے گڑھے میں جا پڑے۔ چناچہ قیامت کے روز گمراہ لیڈروں اور ان کے پیروکاروں کی لعنت ملامت کی تصریح قرآن پاک میں موجود و مصرح ہے۔ سو حق و ہدایت سے منہ موڑنا سب سے بڑی محرومی اور سب سے بڑا اور نہایت ہولناک خسارہ ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم -
Top