Tafseer-e-Majidi - Al-Ahzaab : 27
وَ لَا تُطِعِ الْكٰفِرِیْنَ وَ الْمُنٰفِقِیْنَ وَ دَعْ اَذٰىهُمْ وَ تَوَكَّلْ عَلَى اللّٰهِ١ؕ وَ كَفٰى بِاللّٰهِ وَكِیْلًا
وَلَا تُطِعِ : اور کہا نہ مانیں الْكٰفِرِيْنَ : کافر (جمع) وَالْمُنٰفِقِيْنَ : اور منافق (جمع) وَدَعْ : اور خیال نہ کریں اَذٰىهُمْ : ان کا ایذا دینا وَتَوَكَّلْ : اور بھروسہ کریں عَلَي اللّٰهِ ۭ : اللہ پر وَكَفٰى : اور کافی بِاللّٰهِ : اللہ وَكِيْلًا : کارساز
اور تمہیں مالک بنادیا ان کی زمین کا اور ان کے گھروں کا اور ان کے مال کا اور اس زمین کا بھی جس پر تم نے (اب تک) قدم نہیں رکھا ہے،52۔ اور اللہ تو ہر چیز پر قادر ہے
52۔ یعنی ابھی تم ان مقامات تک پہنچے نہیں ہو، لیکن اس نے تو اپنے علم ازل میں تمہیں اس کا مالک کردیا۔ اشارہ ہے قبائل یہود کی ساری زمینوں اور جائیدادوں کی طرف جو بالآخر کچھ روز بعد مسلمانوں کے قبضہ میں آئے۔ اس جزم کے ساتھ قبل از وقوع اعلان بجز حق تعالیٰ کے اور کر ہی کون سکتا تھا۔ (آیت) ” ارضالم تطؤھا “۔ کے مفہوم میں بڑی وسعت ہے، قیامت تک جو علاقہ بھی کبھی مسلمان کے قبضہ میں آئے، سب اس میں داخل ہے۔ وھی مکۃ اوفارس والروم او خیبر او کل ارض تفتح الی یوم القیامۃ (مدارک) قیل کل ارض تفتح الی یوم القیامۃ (بیضاوی) وعد صادق فی فتح البلاد کالعراق والشام ولیمن ومکۃ وسائرفتوح المسلمین (بحر)
Top