بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
Baseerat-e-Quran - Ash-Shura : 1
حٰمٓۚ
حٰمٓ : حا۔ میم
حا ۔ میم ۔
لغات القرآن آیت نمبر 1 تا 9 : تکاد ( قریب ہے) یتفطرن (پھٹ پڑیں) ام القریٰ (مکہ مکرمہ (شہروں کی ماں) یوم الجمع (جمع ہونے کا دن ( قیامت کا دن) السعیر ( دھکتی آگ) تشریح : آیت نمبر 1 تا 9 : اس سورت کا آغاز ان حروف سے کیا گیا ہے جو الگ الگ کر کے پڑھے جاتے ہیں۔ ان کو حروف مقطعات کہا جاتا ہے ۔ اس سے پہلے اس بات کی وضاحت کردی گئی ہے کہ ان حروف کے معنی اور مراد کا علم صرف اللہ کو ہے۔ یہ آیات متشابہات میں سے ہیں ۔ ان کے معنی کا علم ممکن ہے نبی کریم ﷺ کو دیا گیا ہو مگر آپ نے ان کے معنی کسی کو نہیں بتائے۔ اگر امت کے لئے ضروری ہوتا تو نبی کریم ﷺ ان حروف کے معنی ضرور ارشاد فرماتے۔ دوسری بات یہ ہے کہ یہ سورت بھی ان سات سورتوں میں سے ایک ہے جس کو ” حم “ سے شروع کیا گیا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ ” حم “ سات ہیں اور جہنم کے بھی سات دروازے ہیں جو آدمی ان کو پڑھنے کا عادی ہوگا تو یہ سورتیں جہنم کے ہر دروازے پر موجود ہوں گی اور اللہ سے انکے پڑھنے والے کے لئے فریاد کرتے ہوئے کہیں گی کہ الٰہی ! جس نے مجھے پڑھا اور مجھ پر ایمان لایا اس کو اس دروازے سے داخل نہ کیجئے۔ اللہ تعالیٰ نے ان آیات میں ارشاد فرمایا ہے کہ نبی مکرم ﷺ جو باتیں لوگوں کو بتا رہے ہیں وہ اپنی طرف سے نہیں بلکہ اللہ کی طرف سے ہیں جو ان کی طرف وحی کی جاتی ہیں ان کو اسی طرح بیان فرما رہے ہیں۔ جس طرح آپ سے پہلے انبیاء کرام (علیہ السلام) کی طرف جو بھی وحی کی جاتی تھی تو وہ اپنی امت کے سامنے بیان فرماتے تھے۔ اور اپنی قوم کو راہ ہدایت پر لانے کی جدوجہدفرماتے تھے۔ فرمایا کہ یہ وحی اس برتر و اعلیٰ اللہ کی طرف سے بھیجی گئی ہے جس کی ذات وصفات ، اختیارات اور حقوق میں کوئی دوسرا شریک نہیں ہے۔ اس کی ہیبت اور جلال کا یہ عالم ہے کہ اس کے ڈر سے گویا آسمان پھٹے جا رہے ہیں یا اس کی حمد وثناء جو ہر وقت فرشتے کر رہے ہیں ان کے بوجھ سے آسمان پھٹنے کے قریب ہیں ، چناچہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ہے کہ آسمان میں ایک ایسی آواز پیدا ہونے لگی ہے جیسے کسی چیز پر زیادہ بوجھ پڑنے سے پیدا ہوا کرتی ہے۔ فرمایا اس کی آواز ایسی ہی ہونی چاہیے کیونکہ پورے آسمان میں چار انگلیوں کے برابر کی جگہ بھی ایسی نہیں ہے جس میں کوئی فرشتہ اپنی پیشانی ٹیک کر سجدہ نہ کر رہا ہو ( ترمذی ، ابن ماجہ) ۔ یہ فرشتے ہر وقت اللہ کی حمد وثناء کرتے اور اہل زمین میں جو مومن ہیں ان کے لئے دعائے مغفرت و رحمت کرتے رہتے ہیں کیونکہ اللہ اپنے بندوں پر مہربان اور ان کے گناہوں کو معاف کرنے والا ہے۔ وہی اللہ اس لائق ہے جس کی عظمت و رحمت پر بھر پور اعتماد کیا جاسکتا ہے۔ وہی عذاب سے بچانے والا اور دنیا کی ہر رفت و مصیبت سے بندے کی حفاظت کرنے والا ہے لیکن جو لوگ اللہ کو اپنا ولی اور حمایتی بنانے کے بجائے دوسروں کو اس کا شریک کرتے ہیں ۔ ان سے اپنی لو لگاتے ہیں اور اپنی تمناؤں کے پورا ہونے کا ذریعہ سمجھتے ہیں وہ سخت غلطی پر ہیں۔ نبی مکرم ﷺ سے فرمایا گیا ہے کہ آپ اس پیغام حق کو اللہ کے بندوں تک پہنچا دیجئے بیشک آپ لوگوں کی قسمت کے مالک و مختار بنا کر نہیں بھیجے گئے ہیں کیونکہ کسی کو اس کے اعمال پر جزا یا سزا دینا یہ اللہ رب العالمین کا کام ہے۔ البتہ حق و صداقت کو پہنچا دینا یہ آپ کی ذمہ داری ہے۔ ارشاد ہے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کے اس ابدی پیغام کو عربی زبان میں نازل کیا تا کہ اس قرآن کے پہلے مخاطب ( اہل مکہ) یہ عذر پیش نہ کردیں کہ ہم تو اس پیغام کو سمجھے ہی نہیں ایمان کیسے لائیں ؟ دوسری بات یہ بھی سمجھ میں آتی ہے کہ قرآن کریم کو عربی میں اس لئے نازل کیا گیا ہے کیونکہ دنیا کی کسی اور زبان میں اتنی طاقت نہ تھی کہ وہ قرآن کریم کے عظیم تر مضامین کو سنبھال سکتی حقیقت یہ ہے کہ قرآن کے معافی کے بوجھ کو صرف عربی زبان ہی اٹھا سکتی تھی۔ فرمایا کہ ہم نے اس قرآن کو عربی زبان میں نازل کیا ہے تا کہ ” ام القری “ ( بستیوں کی اصل جڑ اور بنیادی شہر مکہ مکرمہ) اور اس کے آس پاس کے رہنے والوں کو پیغام حق سے آگاہ کردیا جائے۔ ” ام القری “ سے مراد مکہ مکرمہ ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ ساری دنیا کی بستیوں اور شہروں میں اور ساری دنیا کی زمین میں سب سے افضل و بہتر سر زمین صرف مکہ مکرمہ ہی کی ہے۔ چناچہ نبی کریم ﷺ کو مکہ کی سرزمین سے بےانتہاء محبت تھی ۔ حضرت عدی ؓ ابن حمراء زبری نے بیان کیا کہ جب رسول اللہ ﷺ مکہ سے ہجرت فرما رہے تھے تو میں نے سنا کہ آپ نے مکہ مکرمہ کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا تھا : ”( اے مکہ کی سر زمین) تو میرے نزدیک ساری دنیا کی زمین سے بہتر اور محبوب ہے۔ اگر مجھے اس سر زمین سے نکالا نہ جاتا تو میں اپنی مرضی سے کبھی اس سر زمین کو نہ چھوڑتا “۔ ( مسند احمد) اس آیت سے مکہ مکرمہ کی عظمت اور شان بھی واضح ہے اور یہ حقیقت بھی سامنے آتی ہے کہ مکہ مکرمہ جو دنیا کے تمام ملکوں اور شہروں کے درمیان میں ہے دنیا کے کسی کنارے پر نہیں ہے بلکہ اس کی مرکزی حیثیت ہے۔ جب یہ فرمایا جا رہا ہے کہ اے نبی ﷺ ! آپ ” ام القری “ اور اس کے آس پاس کے تمام علاقے والوں تک پیغام حق کو پہنچا دیجئے تو اس کا صاف مطلب یہ سمجھ میں آتا ہے کہ قرآن کریم کا پیغام کسی خاص سر زمین ، خطے ، علاقے اور کسی خاص قوم اور نسل کے لئے نہیں ہے بلکہ قیامت تک آنے والے تمام انسانیت کے لئے مینارہ نور اور مشعل راہ ہے۔ فرمایا کہ آپ ساری دنیا کے لوگوں کو یہ بتا دیجئے کہ قیامت وہ دن ہے جس کے واقع ہونے میں کوئی شک و شبہ نہیں ہے وہ بہت جلد آنے والا ہے اور اس دن میں دو ہی گروہ ہوں گے ایک اللہ کا فرماں بردار اور دوسرا نافرمان ۔ جو لوگ قرآن کریم کے پیغام حق کو مان لیں گے وہ جنت کی ابدی راحتوں میں ہوں گے اور جنہوں نے کفر و انکار کی روش اختیار کی ہوگی وہ ایک ایسی آگ میں جھونکے جائیں گے جس میں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔ فرمایا کہ اگر اللہ چاہتا تو ہر شخص کو ہدایت دے کر دنیا کے تمام لوگوں کو ایک ہی امت بنا دیتا لیکن اللہ کسی کو مجبور نہیں کرتا بلکہ اس کو اختیار دے کر آزماتا ہے کہ وہ راہ حق کو قبول کرتا ہے یا ظلم اور کفر و شرک کے راستے کو اختیار کرتا ہے۔ دونوں راستوں کا انجام بتا دیا گیا ہے کہ جو لوگ اللہ کی نافرمانی اختیار کریں گے وہ ظالم ہیں اور قیامت کے دن ظالموں کا کوئی حمایتی اور مدد گار نہ ہوگا ۔ لیکن اللہ وہ ہے جو فرماں برداروں کا حمایتی اور مدد گار ہے زندگی اور موت پر اسے پوری قدرت حاصل ہے اور وہی اپنے نیک بندوں کو قیامت کے دن نجات عطاء فرمائے گا ۔
Top