Baseerat-e-Quran - Ash-Shura : 10
وَ مَا اخْتَلَفْتُمْ فِیْهِ مِنْ شَیْءٍ فَحُكْمُهٗۤ اِلَى اللّٰهِ١ؕ ذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبِّیْ عَلَیْهِ تَوَكَّلْتُ١ۖۗ وَ اِلَیْهِ اُنِیْبُ
وَمَا : اور جو بھی اخْتَلَفْتُمْ : اختلاف کیا تم نے فِيْهِ : اس میں مِنْ شَيْءٍ : کسی چیز میں سے فَحُكْمُهٗٓ : تو اس کا فیصلہ کرنا اِلَى اللّٰهِ : طرف اللہ کے ہے ذٰلِكُمُ اللّٰهُ : یہ ہے اللہ رَبِّيْ : رب میرا عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ : اسی پر میں نے بھروسہ کیا وَاِلَيْهِ : اور اسی کی طرف اُنِيْبُ : میں رجوع کرتا ہوں
( اے نبی ﷺ ! جو لوگ آپ سے اختلاف رکھتے ہیں ان سے کہہ دیجئے کہ) تم جس چیز میں اختلاف رکھتے ہو اس کا فیصلہ اللہ ہی کے سپرد ہے۔ وہی اللہ تو میرا رب ہے۔ میں اسی پر بھروسہ رکھتا ہوں اور ( ہر بات میں) اسی کی طرف رجوع کرتا ہوں۔
لغات القرآن آیت نمبر 10 تا 12 : انیب (میں رجوع کرتا ہوں ، میں لوٹتا ہوں) فاطر (پیدا کرنے والا ، بنانے والا) الانعام (جانور ، مویشی) یذرو (وہ پھیلاتا ہے) مقالید ( مقلد ) ( چابیاں، کنجیاں) تشریح : آیت نمبر 10 تا 12 : ان آیات میں اس بنیادی عقیدہ کو بیان کیا گیا ہے کہ جس بات میں بھی اختلاف یدا ہوجائے اس کے فیصلے کا حق اللہ کے سوا کسی کو بھی نہیں ہے خواہ وہ معاملہ اعتقاد وعمل کا ہو یا قانون اور اخلاق کا ۔ وہ اختلاف کسی چیز کے جائز و ناجائز یا حلال و حرام کا ہو یا کسی بھی باہمی تنازعات کا اس کا آخری فیصلہ کائنات کے مالک حقیقی اللہ ہی کے ذمے ہے کیونکہ اصل حکم اللہ ہی کا ہے۔ ہمیں حکم دیا گیا ہے کہ ہم یہ عقیدہ رکھیں کہ ٭ہر حال میں اللہ کی ذات پر مکمل بھروسہ اور توکل اختیار کرنا اور اس کی طرف رجوع کرنا انسان کی سب سے بڑی سعادت ہے۔ ٭زمین و آسمان ہوں یا کائنات کی مخلوقات ان سب کا پیدا کرنے والا اللہ کے سوا کوئی اور نہیں ہے۔ ٭اسی نے انسانوں اور تمام جانداروں کی نسل میں نر اور مادہ کو پیدا کیا جو زمین میں مخلوق کے پھیلنے اور بڑھنے کا ذریعہ ہیں۔ ٭اللہ وہ ہے کہ اس کے جیسا اور کوئی نہیں ہے وہ اپنی ذات میں یکتا ، بےنیاز اور بےمثل و بےمثال ہے۔ ٭اس کی شان یہ ہے کہ وہ ہر آن کائنات میں ہر ایک کی سن رہا ہے اور ہر چیز کو دیکھ رہا ہے۔ اس سے کوئی چیز یا اس کی کیفیت اور خبر چھپی ہوئی نہیں ہے۔ ٭آسمانوں اور زمین کے تمام خزانوں کی چابیاں اسی کے ہاتھ میں ہیں ۔ مخلوقات کی جیسی ضرورتیں پیدا ہوتی جاتی ہیں۔ اللہ ان خزانوں کو زمین سے نکالتا چلا جاتا ہے۔ کروڑوں سال سے تیل اور گیس اور مع دنیات زمین کے اندر موجود تھے لیکن جب انسانوں کو ان کی ضرورت ہوئی تو اللہ کے حکم سے زمین نے ان کو اگلنا شروع کردیا اور آئندہ انسان کی جو بھی ضروریات ہوں گی اللہ نے ان کے خزانے پہلے ہی سے تیار کر رکھے ہیں ۔ ضرورتیں پیدا ہوتی رہیں گی اور زمین اپنے خزانے نکالتی چلی جائے گی۔ ٭ تمام جان داروں کو وہی رزق عطاء کرتا ہے۔ رزق زیادہ ہونا چاہیے یا کم یہ سب وہ اپنی حکمت اور مصلحت سے متعین کرتا ہے۔ کون کتنی عطاء کا مستحق ہے اور اس کے لئے کس قدر دینا مصلحت کے مطابق ہے وہی جانتا ہے اور وہی عطاء فرما دیتا ہے وہ ہر چیز کی مصلحت اور حکمت سے اچھی طرح واقف ہے۔
Top