Baseerat-e-Quran - Ash-Shura : 20
مَنْ كَانَ یُرِیْدُ حَرْثَ الْاٰخِرَةِ نَزِدْ لَهٗ فِیْ حَرْثِهٖ١ۚ وَ مَنْ كَانَ یُرِیْدُ حَرْثَ الدُّنْیَا نُؤْتِهٖ مِنْهَا وَ مَا لَهٗ فِی الْاٰخِرَةِ مِنْ نَّصِیْبٍ
مَنْ كَانَ : جو کوئی ہے يُرِيْدُ : ارادہ رکھتا۔ چاہتا ہے حَرْثَ الْاٰخِرَةِ : آخرت کی کھیتی کا نَزِدْ لَهٗ : ہم زیادہ کردیتے ہیں اس کے لیے فِيْ حَرْثِهٖ : اس کی کھیتی میں وَمَنْ : اور جو کوئی كَانَ : ہے يُرِيْدُ : ارادہ رکھتا حَرْثَ الدُّنْيَا : دنیا کی کھیتی کا نُؤْتِهٖ مِنْهَا : ہم دیتے ہیں اس کو اس میں سے وَمَا لَهٗ : اور نہیں اس کے لیے فِي : میں الْاٰخِرَةِ : آخرت (میں) مِنْ نَّصِيْبٍ : کوئی حصہ
اور جو شخص آخرت کی کھیتی کا طلب گار ہے ہم اس کے لئے اس کی کھیتی کو بڑھا دیتے ہیں اور جو شخص دنیا کی کھیتی کا آرزو مند ہے تو ہم اس کو اسی دنیا میں ( بہت کچھ) دے دیتے ہیں لیکن آخرت میں اس کا کوئی حصہ نہ ہوگا۔
لغات القرآن آیت نمبر 20 تا 23 : حرت ( کھیتی) نصیب (حصہ) یاذن (وہ اجازت دیتا ہے) کلمۃ الفصل (فیصلے کی بات) کسبوا (انہوں نے کمایا) واقع ( پڑنے والا ، واقع ہونے والا) روضت ( روضۃ) (باغ، کیا ریاں) لا اسئل (میں سوال نہیں کرتا) المودۃ (محبت ، لحاظ) یقترف (وہ کماتا ہے) تشریح : آیت نمبر 20 تا 23 : یہ اللہ کا سب سے بڑا احسان ہے کہ اس نے آدمی کو دنیا کی مختصر سی زندگی گزارنے کے بہت سے اسباب اور وسائل عطاء کئے ہیں تا کہ آدمی ان اسباب کو آخرت کی تعمیر میں استعمال کر کے اس کے رحم و کرم کا مستحق اور حق دار بن جائے۔ اللہ کا یہ نظام ہے کہ اگر کسی شخص کی جدوجہد ، کوشش اور بھاگ دوڑ محض دنیا حاصل کرنے کے لئے ہے اور اس میں فکر آخرت شامل نہیں ہے تو اس کی کوشش کے مطابق یا زیادہ اس کو دنیاوی عیش و آرام دے دیا جاتا ہے لیکن آخرت میں اس کا کوئی حصہ نہ ہوتا کیونکہ نہ تو اس کو آخرت کا یقین تھا اور نہ اس نے آخرت کو سامنے رکھ کر کوئی کام کیا اس لئے وہ جنت کی راحتوں سے محروم رہے گا ۔ اس کے بر خلاف ایک صاحب ایمان اور اعمال صالحہ کے پیکر شخص کو جنت کی وہ راحتیں عطاء کی جائیں گی جن کا وہ اس دنیا میں رہ کر تصور بھی نہیں کرسکتا تھا کیونکہ اس کی زندگی اور جدوجہدآخرت کے لئے تھی اس لئے اس کی دنیا اگرچہ محدود تھی لیکن آخرت میں اس کو لا محدود جنتیں اور اس کی راحتیں عطاء کی جائیں گی۔ ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے اسی حقیقت کو بیان فرمایا ہے۔ ایک مومن کے اعمال صالحہ کو کھیتی اور اس پر ملنے والے ثواب کو اس کا پھل قرار دیا ہے جس میں اسے ترقی بھی ملتی رہے گی ۔ ایک نیکی کا صلہ اور بدلہ دس گنا یا اس سے بھی زیادہ ملے گا ۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ جو شخص آخرت کی راحتوں کا طلب گار ہوگا ہم اس کو کھیتی کو بڑھاتے چلے جائیں گے اور جو دنیا ہی کی کھیتی اور اس کے پھل کا آرزو مند ہوگا اسے دنیاوی زندگی کا تھوڑا یا زیادہ سامان تو ضرور دیا جائے گا لیکن وہ آخرت کے بہتر نتائج اور راحتوں سے محروم رہے گا ۔ فرمایا دنیا پرستوں نے اپنے ہاتھوں سے ایسے معبود گھڑ لئے جنہیں وہ اپنا سب سے بڑا سہارا سمجھتے ہیں ۔ ان کا گمان یہ ہوتا ہے کہ انکے یہ معبود دنیا اور آخرت میں ان کی نجات اور کامیابی کا ذریعہ بنیں گے حالانکہ اللہ نے ایسے ظالموں کے لئے شدید سزا اور عذاب مقرر کر رکھا ہے۔ اگر اللہ چاہتا تو ان کی بد عملیوں کی سزا اسی دنیا میں دے سکتا تھا لیکن اس نے اس بات کا فیصلہ کر رکھا ہے کہ وہ ایسے ظالموں کو دنیا میں ڈھیل اور مہلت ضرور دے گا لیکن آخرت میں وہ سخت ترین سزا سے نہ بچ سکیں گے۔ نبی کریم ﷺ کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ آپ قیامت کے دن ان ظالموں کو اس حال میں دیکھیں گے کہ وہ عذاب الٰہی کو دیکھ کر لرز رہے ہوں گے۔ ہر طرح اس عذاب سے بچنے کی کوشش کے باوجود اپنے برے انجام سے نہ بچ سکیں گے۔ اس کے بر خلاف وہ لوگ جو ایمان لانے کے بعد زندگی بھر نیک عمل کرتے رہے ان کو جنت کے ایسے ہرے بھرے باغات عطاء کئے جائیں گے جہاں ان کی خواہش کی ہر چیز موجود ہوگی اور وہ جس چیز کی تمنا کریں گے وہ ان کو دی جائے گی ۔ اللہ کے اس فضل و کرم سے دنیا پرست لوگ محروم رہیں گے۔ آخر میں نبی کریم ﷺ سے فرمایا گیا کہ آپ بھی تمام انبیاء کرام (علیہ السلام) کی طرح یہ کہہ دیجئے کہ میں تمہیں آخرت کی جو بھی فلاح و کامیابی کی باتیں بتا کر سیدھا راستہ دکھا رہا ہوں اس کا مقصد یہ نہیں ہے کہ مجھے تم سے کسی معاوضے یا بدلے کی خواہش ہے۔ میرا اجر وثواب تو اللہ کے ذمے ہے میں تو صرف یہ چاہتا ہوں کہ جن لوگوں سے میرا خاندانی یا برادری کا تعلق ہے وہ میرے خلوص اور خیر خواہی کے جذبے کو نظر انداز نہ کریں کیونکہ میں تمہیں سیدھی بےداغ راہ دکھا رہا ہوں تمہیں رشتہ داری کا کچھ تو پاس اور لحاظ ہونا چاہیے۔ مفسرین نے فرمایا ہے کہ آپ ﷺ نے یہ بات اس وقت فرمائی جب قبیلہ قریش کے لوگ دین اسلام کی اشاعت و تبلیغ میں روڑے اٹکا رہے تھے اور آپ کی ہر بات کی مخالفت میں یہود و نصاریٰ سے بھی نکل گئے تھے آپ نے ان سے فرمایا کہ میں جس دین اسلام کی بات کر رہا ہوں وہ ایک سچا دین اور نجات کا راستہ ہے کہ اس کو قبول کرنے ہی میں کامیابی ہے لیکن اگر تم اپنی ضد اور ہٹ دھرمی میں میرے لائے ہوئے پیغام کو سننا ہی نہیں چاہتے تو یہ تمہاری مرضی ہے لیکن کم از کم اس قرابت داری اور رشتوں کا تو لحاظ کرو جو مجھے حاصل ہے اخلاق اور شرافت کی سطح سے اس حد تک تو نہ گر جائو کہ اپنے اور غیر میں کوئی فرق ہی نہ کرو۔ اہل بیت رسول اللہ ﷺ ، صحابہ کرام ؓ اور امت کے تمام مفسرین نے اس آیت کا یہی مفہوم بیان فرمایا ہے چناچہ حضرت امام شعبی ؓ کہتے ہیں کہ لوگوں نے اس آیت کی تفسیر کے متعلق پوچھا تو ہم نے حضرت عبد اللہ ابن عباس ؓ کو خط لکھ کر اس کی صحیح تفسیر و تعبیر پوچھی۔ آپ نے جواب میں تحریر فرمایا کہ نبی کریم حضرت محمد رسول اللہ ﷺ قریش کے ایسے نسب سے تعلق رکھتے تھے کہ ان کے ہر چھوٹے بڑے قبیلے سے رشتہ داری کے تعلقات قائم تھے اسی لئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ آپ ان مشرکین قریش سے کہہ دیجئے کہ میں جو بھی اللہ کی طرف دعوت دے رہا ہوں میں تم سے اس پر کوئی معاوضہ یا بدلہ اس کے سوا نہیں مانگتا کہ تم مجھ سے قرابت داری کی مروت ولحاظ کا معاملہ کر کے بغیر کسی تکلیف کے اپنے درمیان رہنے دو اور میری حفاظت کرو۔ ( بیہقی) ۔ رافضیوں نے اس کا مطلب یہ بیان کیا ہے کہ نبی کریم ﷺ بنو قریش سے کہہ رہے ہیں کہ میں اس تبلیغ دین پر کوئی معاوضہ تو نہیں چاہتا صرف اس کا صلہ یہ مانگتا ہوں کہ علی ؓ اور فاطمہ ؓ سے محبت کی جائے۔ اس آیت کی یہ تفسیر کسی طرح بھی صحیح نہیں ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ آیات مکہ مکرمہ میں اس وقت نازل ہوئی ہیں جب حضرت علی ؓ اور حضرت فاطمہ ؓ کی شادی تک نہیں ہوئی تھی ۔ یہ دونوں تو بچے تھے عرب معاشرہ میں ان سے کوئی نفرت تھی نہ مخالفت ۔ دوسری بات یہ ہے کہ یہ بات تو تقریباً ہر نبی نے کہی ہے کہ ہم دین کا جو بھی پیغام پہنچا رہے ہیں اس پر ہمارا اجر اللہ کے ذمے ہے ہم تم سے کسی معاوضے کا مطالبہ نہیں کرتے۔ نبی کریم ﷺ جن کی شان تمام انبیاء کرام سے افضل و اعلیٰ ہے کیا آپ ایسی بات فرما سکتے تھے۔ لوگو ! مجھے تم سے کچھ نہیں چاہیے صرف علی ؓ و فاطمہ ؓ سے محبت کی جائے۔ یہ کہنا نبی کریم ﷺ کے بےلوث اور بےغرض جذبے کی توہین ہے اور تفسیر میں اس کی کوئی گنجائش نہیں ہے کیونکہ پورے عرب میں صرف حضرت علی ؓ اور حضرت فاطمہ ؓ ہی آپ کے قرابت دار نہ تھے بلکہ اور سیکڑوں رشتہ دار تھے۔
Top