Baseerat-e-Quran - Ash-Shura : 24
اَمْ یَقُوْلُوْنَ افْتَرٰى عَلَى اللّٰهِ كَذِبًا١ۚ فَاِنْ یَّشَاِ اللّٰهُ یَخْتِمْ عَلٰى قَلْبِكَ١ؕ وَ یَمْحُ اللّٰهُ الْبَاطِلَ وَ یُحِقُّ الْحَقَّ بِكَلِمٰتِهٖ١ؕ اِنَّهٗ عَلِیْمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوْرِ
اَمْ يَقُوْلُوْنَ : یا وہ کہتے ہیں افْتَرٰى : اس نے گھڑ لیا عَلَي اللّٰهِ : اللہ پر كَذِبًا : جھوٹ فَاِنْ يَّشَاِ اللّٰهُ : پھر اگر چاہتا اللہ يَخْتِمْ : مہر لگا دیتا عَلٰي قَلْبِكَ : تیرے دل پر وَيَمْحُ اللّٰهُ : اور مٹا دیتا ہے اللہ الْبَاطِلَ : باطل کو وَيُحِقُّ الْحَقَّ : اور حق کردکھاتا ہے حق کو بِكَلِمٰتِهٖ : اپنے کلمات کے ساتھ اِنَّهٗ : بیشک وہ عَلِيْمٌۢ : جاننے والا ہے بِذَاتِ الصُّدُوْرِ : سینوں کے بھید
کیا یہ لوگ کہتے ہیں کہ پیغمبر ﷺ نے اللہ پر جھوٹ باندھ لیا ہے ؟ اے محمد ﷺ ! اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو آپ کے دل پر مہر لگا دے اور اللہ باطل کو مٹا دیتا ہے اور حق کو اپنی باتوں سے ثابت کرتا ہے بیشک وہ دلوں تک کی باتوں سے واقف ہے۔
لغات القرآن آیت نمبر 24 تا 29 : افتری (اس نے گھڑ لیا ، بنا لیا) یختم (وہ مہر لگا دیتا ہے) یمح (وہ مٹا ڈالتا ہے) السیئات (خطائیں ، برائیاں) بسط (اس نے کھول دیا) بغوا ( انہوں نے سر کشی ، نافرمانی کی) الغیث ( بارش) قنطوا (وہ مایوس ہوگئے) ینشرا (وہ پھیلاتا ہے) بت (اس نے پھیلا دیا ، اس نے بکھیر دیا) تشریح : آیت نمبر 24 تا 29 : قرآن کریم کی عظیم تعلیم نبی کریم ﷺ کی اعلیٰ سیرت و کردار اور اس کے اثرات کو مشرکین اور کفاراچھی طرح جانتے اور سمجھتے تھے مگر محض اپنے دلی بغض ، حسد ، ضد اور ہٹ دھرمی ان کو مخالفت کے طوفان کی طرف دھکیل کرلے جاتی تھی وہ اپنی شرمندگی کو سمجھتے تھے مگر محض اپنے دلی بغض ، حسد ، ضد اور ہٹ دھرمی ان کی مخالفت کے طوفان کی طرف دھکیل کرلے جاتی تھی وہ اپنی شرمندگی کو مٹانے کے لئے نبی کریم ﷺ اور قرآن کریم کا مذاق اڑاتے ہوئے طرح طرح کے بےت کے اعتراضات کرتے ہوئے کہتے تھے کہ یہ قرآن آپ نے ( نعوذ باللہ) خود ہی گھڑ کر اس کو اللہ کا کلام کہنا شروع کردیا ہے۔ کفار و مشرکین کے اس اعتراض کو قرآن کریم کے کئی مقامات پر نقل کر کے اللہ نے اس کا ایک ہی جواب دیا ہے کہ یہ کلام صرف اللہ کی طرف سے نازل کیا گیا ہے جو ہر طرح کے شک و شبہ سے بالا تر ہے۔ اس جگہ ان کی بےتکی باتوں کا جواب دیتے ہوئے فرمایا کہ نبی کا مقام اس قدر بلند ہوتا ہے کہ اس سے اس بات کی توقع ہی نہیں کی جاسکتی کہ وہ کسی کلام کو خود گھڑ کر اس کو اللہ کا کلام قرار دیدے۔ اگر فرض کرلیا جائے کہ آپ ایسا کرتے تو اس وقت اللہ کی مشیت آپ کے دل پر ایک ایسی مہر لگا دیتی کہ آپ کی زبان پر وہ کلام جاری ہی نہ ہوتا کیونکہ اللہ کا دستور یہ ہے کہ وہ جھوٹ اور باطل کو مٹا کر رہتا ہے۔ اگر آپ نے اس کلام کو خود گھڑ لیا ہوتا تو اللہ اس کلام کو مٹا کر چھوڑتا کیونکہ وہ ہر بات کو دیکھتا بھی ہے اور سنتا بھی ہے۔ وہ ہر شخص کی دلی کیفیات سے اچھی طرح واقف ہے اس سے کوئی بات اور کوئی دلی جذبہ پوشیدہ نہیں ہے۔ اللہ کو معلوم ہے کہ یہ کفار و مشرکین آپ پر چھوٹے اور بےبنیاد الزامات کیوں لگا رہے ہیں ۔ در حقیقت یہ مخالفانہ آواز ان کے دل کی آواز نہیں ہے بلکہ محض ان کی ضد اور ہٹ دھرمی ہے جس کی وجہ سے وہ قرآن کریم کے مخالف بن کر ایسی حرکتیں کر رہے ہیں ۔ فرمایا کہ اس سے پہلے کا اللہ کا فیصلہ آجائے وہ تمام منکرین و مشرکین اللہ سے سچی توبہ کرلیں ۔ موت کے فرشتے سامنے آنے سے پہلے پہلے توبہ کا دروازہ کھلا ہوا ہے۔ اگر انہوں نے سچے دل سے توبہ کرلی تو اللہ نہ صرف ان کی توبہ کو قبول کرلے گا بلکہ ان کو دنیا اور آخرت میں وہ بہت کچھ دے گا جس کا وہ اس دنیا کی زندگی میں تصور بھی نہیں کرسکتے کیونکہ اس کائنات میں بھی ساری قدرت و طاقت اللہ ہی کی ہے وہ جس طرح چاہتا ہے اس کائنات کے نظام کو چلاتا ہے جس کو جتنا رزق دینا چاہتا ہے وہ دیتا ہے ۔ سخت مایوسی کے بعد جتنی بارش برسانا چاہتا ہے برساتا ہے وہ ہر شخص کو اس کے ظرف کے مطابق دیتا ہے۔ اگر وہ کم ظرفوں کو خوب رزق دیتا چلا جائے تو ظالم اور کم ظرف لوگ دنیا میں دوسروں کا جینا حرام کردیں گے اور ہر طرف فساد اور تباہی مچا کر رکھ دیں گے لہٰذا وہ اپنی مصلحت کے مطابق ہر ایک کو ایک اندازے کے مطابق عطاء کرتا ہے ۔ خلاصہ یہ ہے کہ دنیا میں ہر انسان کے ساتھ ہوس اور دولت کا لالچ تو لگا ہوا ہے ہر ایک چاہتا ہے کہ اس کے چاروں طرف دولت کے ڈھیر اور راحت و آرام کے سارے وسائل جمع ہوجائیں لیکن اللہ اپنی مصلحت کے مطابق ہر ایک کو کم یا زیادہ عطاء کرتا ہے۔ حضرت خباب ابن الارت ؓ سے روایت ہے کہ جب ہم نے بنو قریظہ ، بنو نضیر اور بنو قینقاع کے مال و دولت کو دیکھا تو ہمارے دلوں میں بھی مال و دولت کی تمنا پیدا ہوئی ۔ اس پر یہ آیت نازل ہوئی ( امام بغوی) حضرت عمرو ابن حریث ؓ فرماتے ہیں کہ اصحاب صفہ ( جو انتہائی فقر و فاقہ اور غربت کی زندگی گزار رہے تھے) انہوں نے نبی کریم ﷺ سے اپنی خواہش کا اظہار کیا کہ اللہ تعالیٰ انہیں بھی مال و دولت عطاء کر دے اس پر یہ آیت نازل ہوئی ( روح المعانی) جس میں صحابہ کرام ؓ کے ذہنوں کی تربیت کرتے ہوئے فرمایا گیا کہ ہر شخص کو اللہ اپنے فضل و کرم سے جتنا دینا چاہتا ہے دیتا ہے ، مایوسی کے بعد وہ جتنا پانی برسانا چاہتا ہے برساتا ہے۔ اس نے اپنی لاکھوں مخلوقات کو کائنات میں پھیلا رکھا ہے جن کی ہر ضرورت کو وہ پورا کرتا ہے وہ بکھرے ہوئے ہیں لیکن وہ جب بھی چاہے گا ان کو جمع کرلے گا یہ اس کی قدرت سے باہر نہیں ہیں۔ خلاصہ یہ ہے کہ انسان میں اس کے خالق میں فرق یہ ہے کہ ہر انسان اپنی معلومات اور ضروریات کے محدود دائرے میں رہ کر فیصلے کرتا ہے لیکن اللہ کے سامنے ساری مخلوقات کی مصلحتیں ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ اکثر آدمی کائنات کے انقلابات کی مصلحتوں تک کو نہیں سمجھتا لیکن اللہ ہر بات اور ہر چیز کی مصلحت سے واقف ہے اور فیصلے کرتا ہے۔
Top