Baseerat-e-Quran - Ash-Shura : 30
وَ مَاۤ اَصَابَكُمْ مِّنْ مُّصِیْبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ اَیْدِیْكُمْ وَ یَعْفُوْا عَنْ كَثِیْرٍؕ
وَمَآ اَصَابَكُمْ : اور جو بھی پہنچتی ہے تم کو مِّنْ : کوئی مُّصِيْبَةٍ : مصیبت فَبِمَا كَسَبَتْ اَيْدِيْكُمْ : پس بوجہ اس کے جو کمائی کی تمہارے ہاتھوں نے وَيَعْفُوْا : اور وہ درگزر کرتا ہے عَنْ كَثِيْرٍ : بہت سی چیزوں سے
اور تمہیں جو بھی کوئی مصیبت پہنچتی ہے تو وہ تمہارے اپنے ہاتھوں کے کئے کاموں کی وجہ سے پہنچتی ہے۔ اور بہت سی خطائوں کو تو وہ معاف کردیتا ہے۔
لغات القرآن آیت نمبر 30 تا 43 : اصاب (پہنچا) کسبت (اس نے کمایا) معجزین ( عاجز ، بےبس کرنے والے) الجوار ( جاری) چلنے والے) الاعلام ( علم) پہاڑ ، اونچی چیز) یسکن ( وہ ٹھہراتا ہے) رواکدا ( راکد) (ٹھہرنے والے) ظھر ( پیٹھ) صبار ( بہت صبر کرنے والا) یوبق ( وہ تباہ کرتا ہے) محیص (چھٹکارا پانے کی جگہ) یجتنبوا ( وہ بچتے ہیں ، پرہیز کرتے ہیں) کبائر الاثم ( بڑے بڑے گناہ) شوریٰ (مشورہ کرنے کا راستہ سمجھانا) ینتصرون (وہ روکتے ہیں) انتصر (اس نے بدلہ لیا ، انتقام لیا) عزم الامور (بڑی بات ، بڑا کام) تشریح : آیت نمبر 30 تا 43 : دیکھا یہ گیا ہے کہ دنیا میں انسان جیسا عمل کرتا ہے اس کا اچھا یا برا نتیجہ ضرور نکلتا ہے۔ ہمیں جو بھی مشکل پریشانی یا مصیبت پہنچتی ہے اس کے پیچھے یا تو نیت کی خرابی ، کوتاہی ، غفلت ، گناہ اور بےعملی ہوتی ہے یا دین اسلام کی سربلندی ، اس کے فروغ کی جدوجہد اور پر خلوص ایثارکا جذبہ ہوتا ہے ۔ اگر ایمان ، عمل صالح ، تقویٰ ، پرہیز گاری اور دیانت و امانت کی وجہ سے مشکلات پیش آتی ہیں تو وہ ایک مومن کے گناہوں کا کفار ہ ، درجات اور آخرت کی کامیابی کا سبب بن جاتی ہیں لیکن اگر محض دنیاوی لالچ ، خود غرضی ، دنیاپسندی اور گناہوں کی وجہ سے مصائب آتے ہیں تو یہ ان کے اعمال کی سزا ہوتی ہے۔ کبھی تو اس کی سزا دنیا میں مل جاتی ہے لیکن آخرت میں تو یقینی سزا ہے۔ حضرت حسن بصری ؓ سے روایت ہے کہ جب مذکورہ آیت نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے جس شخص کو کوئی لکڑی کی خراش لگتی ہے یا اس کی رگ پھڑکتی ہے یا اس کے قدموں میں لغزش پیدا ہوتی ہے تو یہ سب اس کے گناہوں کی وجہ سے ہوتا ہے ( یہ اللہ کا فضل و کرم ہے کہ) وہ ہر گناہ پر اسی وقت سزا نہیں دیتا بلکہ جو گناہ معاف کردیئے جاتے ہیں وہ ان سے بہت زیادہ ہوتے ہیں جن پر سزا دی جاتی ہے۔ ہمارا دین ہمیں عمل ، حسن عمل اور جدوجہد سے نہیں روکتا بلکہ اس بات کو ذہنوں میں بٹھانا چاہتا ہے کہ اس دنیا میں جو کچھ ہوتا ہے اس کے لئے اللہ نے ایسے قوانین مرتب کردیئے ہیں جن کو اپنانے سے کبھی کامیابی ملتی ہے اور کبھی سخت ناکامی مثلاً آدمی رزق تلاش کرنے کے لئے سمندر کے سینے کو چاک کرتا ہوا اس میں جہاز اور کشتیاں چلاتا ہے ، سڑکوں پر دوڑتا اور ہواؤں کے دوش پر اڑا پھرتا ہے۔ یہ سب کچھ اس لئے ممکن ہوا ہے کہ اللہ نے قوانین فطرت کو اس کے لئے مسخر کردیا ہے اور فضاؤں کو ہواؤں کو اس کا تابع بنا دیا ہے ۔ اگر اللہ چاہتا تو ان ہواؤں اور فضاؤں کو روک دیتا جس سے آدمی کی ساری کوششیں اور بھاگ دوڑ دھری کی دھری رہ جاتیں اور وہ دو قدم بھی آگے نہیں بڑھ سکتا ۔ یہ پورا نظام کائنات اللہ کے قبضہ قدرت میں ہے وہ جب اور جیسے چاہتا ہے اپنے نظام کو چلاتا ہے۔ اس دنیا میں بسنے والوں کو کبھی راحت و آرام ملتا ہے کبھی تکلیفیں اور مشکلات ، کبھی صحت و تندرستی اور کبھی بیماری آزادی ، کبھی خوش حالی اور کبھی بد حالی اور فقر و فاقہ ۔ پوری جدوجہد اور کوششوں کے باوجود کبھی کبھی نتیجہ بالکل الٹا نکلتا ہے کیونکہ ہر چیز کا نتیجہ اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ اللہ کے نزدیک پسندیدہ اور بہتر لوگ وہ ہیں جو ہر حال میں صبر و شکر کا دامن تھامے رہتے ہیں ۔ انہیں اس بات پر پورا یقین و اطمینان ہوتا ہے کہ بیشک جدوجہد اور کوشش کرنا آدمی کا کام ہے لیکن اس کا بہتر یا بدتر نتیجہ اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ انہیں اس بات کا بھی یقین ہوتا ہے کہ دنیا کی یہ زندگی اور اس کے اسباب محض وقتی ، عارضی اور زندگی گزارنے کا ذریعہ ہیں لیکن اصل زندگی اور کامیابی آخرت کی زندگی ہے۔ یہی وہ حقیقی جذبہ ہے جس سے اس کو سکون وقلب کی دولت نصیب ہوتی و ہے اور اس انقلابی فکر سے اس کو صاف ستھری نکری ہوئی شخصیت ابھر کر دنیا کے سامنے آتی ہے۔ تکبر ، غرور ، ظلم ، سرکشی ، ضد اور ہٹ دھرمی کی بجائے اس میں تواضع ، انکساری اور عاجزی پیدا ہوتی ہے۔ وہ زندگی کے اجتماعی معاملات میں دوسروں کے مشوروں سے فائدے حاصل کرتا ہے اور وہ اپنی رائے اور شخصیت کے رعب کو دوسروں پر ٹھونسنے کے بجائے لوگوں سے بہتر سلوک کو رواج دیتا ہے ۔ وہ دوسروں کے حقوق چھیننے کے بجائے دوسروں کے حقوق کا محافظ بن جاتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے نزدیک چونکہ اس طرح کے لوگ پسندیدہ شخصیات ہیں اس لئے ان کی چند خصوصیات بتائی گئی ہیں مثلاً (1) وہ اللہ سے اپنی امیدوں کے پورا ہونے کی توقع کر کے صرف اس کی ذات پر مکمل بھروسہ ، اعتماد اور توکل اختیار کرتے ہیں ۔ ان کے نزدیک ترقی ، عزت اور سر بلندی دینے والا اللہ ہوتا ہے اور وہی ان کی مشکل کشائی کرتا ہے۔ (2) وہ صغیرہ ، کبیرہ ، ظاہری اور پوشیدہ ہر طرح کے گناہوں سے بچنے کی کوشش کرتے ہیں اور کسی بےحیائی اور گناہ کے کاموں کے قریب جانے سے گھبراتے ہیں۔ (3) جب ان کو کسی بات پر غصہ اور طیش آجاتا ہے تو اپنے اوپر قابو رکھتے ہوئے اور اس کا بدلہ لینے کی طاقت رکھنے کے باوجود وہ انتقام نہیں لیتے بلکہ اپنی عالی ظرفی کا مظاہرہ کرتے ہوئے دوسروں کی خطاؤں کو معاف کردیتے ہیں۔ (4) انہیں جب بھی اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی طرف سے کوئی حکم پہنچتا ہے وہ ان کے مزاج اور حالات کے مطابق ہو یا نہ ہو تو وہ اس کے کرنے میں بےتابا نہ آگے بڑھتے چلے جاتے ہیں وہ حکم کی تعمیل میں کسی سستی ، کاہلی یا بےعملی کو قریب نہیں آنے دیتے۔ (5) وہ ” قیام صلوٰۃ “ کا حق ادا کرنے کے لئے نمازوں کے فرائض ، واجبات ، سنتوں اور مستحب باتوں کا پورا اہتمام کرتے ہیں۔ (6) آپس کے اجتماعی معاملات میں وہ ہمیشہ ” باہمی مشورہ “ کرنا ضروری سمجھتے ہیں اور مشورہ کے بعد جو بھی فیصلہ ہوجائے خواہ ان کی رائے کے بر خلاف ہی کیوں نہ ہو تو وہ اس پر عمل کرنے کے لئے تن ، من اور دھن سے پر خلوص جدوجہد کرتے ہیں ۔ ’ ’ مشاورت “ دراصل اسلامی طرز زندگی کا ایک اہم ستون ہے جس کے احادیث میں بہت فضائل آئے ہیں اور جب تک اہل ایمان نے باہمی مشورے کا طریقہ اختیار کیا اس وقت تک وہ زندگی کے ہر میدان میں آگے بڑھتے چلے گئے اور کامیابیاں ان کے قدم چومتی رہیں لیکن جب ہم نے اس طرز زندگی کو چھوڑ دیا تو ہم میں سے ہر شخص اپنی رائے کو اجتماعی مفادات سے زیادہ بلند سمجھنے کی غلطی میں مبتلا ہوگیا اور ملت کا شیرازہ بکھر گیا اور زندگی کے معاملات کا فیصلہ ان لوگوں کے ہاتھوں میں چلا گیا جن کی زندگیاں نیکی اور تقویٰ سے خالی ہوتی ہیں۔ حضرت علی ؓ فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ بعض مرتبہ ایسے معاملات اور امور پیش آجاتے ہیں کہ ان کا کوئی حکم قرآن کریم میں نہیں ہوتا ( اس وقت ہم کیا کریں) نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ جب کوئی ایسا واقعہ پیش آجائے تو میری امت میں سے عبادت گزار بندوں کو جمع کر کے مشورہ کرلینا اور اس پر عمل کرنا ۔ حضرت ابوہریرہ ؓ سے بھی ایک ایسی ہی روایت ہے نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ تم اہل عقل سے مشورہ کرلیا کرو تم راہ پا جائو گے اور مشورے سے جو بات طے پا جائے اس کی مخالفت نہ کرو ورنہ ندامت و شرمندگی اٹھائو گے۔ (7) وہ اللہ کے دیئے ہوئے رزق میں سے نیک اور بھلے کاموں میں اپنا مال خرچ کر کے دلی اور روحانی سکون حاصل کرتے ہیں۔ (8) وہ لوگ اچھے یا برے حالات میں صبر و شکر کا دامن تھامے رہتے ہیں اور کسی موقع پر بےصبری اور نا شکری کے بجائے بڑے عزم و حوصلے اور جواں مردی کا اظہار کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہم سب کو دین اسلام کے ان سچے اصولوں پر عمل کر کے دنیا اور آخرت کی کامیابیاں حاصل کرنے کی توفیق عطاء فرمائے۔ آمین۔
Top