Baseerat-e-Quran - Al-Mulk : 25
وَ یَقُوْلُوْنَ مَتٰى هٰذَا الْوَعْدُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ
وَيَقُوْلُوْنَ : اور وہ کہتے ہیں مَتٰى : کب ہے هٰذَا الْوَعْدُ : یہ وعدہ اِنْ كُنْتُمْ : اگر ہو تم صٰدِقِيْنَ : سچے
اور وہ کہتے ہیں کہ اگر سچے ہو تو (قیامت آنے کا) وعدہ کب پورا ہوگا ؟
لغات القرآن۔ زلفۃ۔ قریب۔ سئیت۔ بگڑ گئی ( بگڑ گئے) ۔ اھلکنی۔ وہ مجھے ہلاک کردے۔ یجیر۔ وہ پناہ دیتا ہے۔ غورا۔ نیچے چلے جاتا۔ معین۔ صاف پانی۔ تشریح : جب کفار کے سامنے قیامت اور میدان حشر کا ذکر کیا جاتا تو وہ ایمانلانے کے بجائے مذاق اڑاتے ہوئے کہتے کہ اللہ نے جس قیامت کا وعدہ کیا ہے آخر وہ قیامت کب آئے گی اور یہ وعدہ کب پورا ہوگا ؟ اللہ تعالیٰ نے نبی کریم ﷺ کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا کہ اے نبی ﷺ ! آپ ان سے کہہ دیجئے کہ یہ تو اللہ کو معلوم ہے کہ وہ کب اور کیسے آئے گی۔ اس سے میرا کوئی تعلق نہیں۔ میرا کام تو یہ ہے کہ میں اللہ کے احکامات جو بالکل واضح اور کھلے ہوئے ہیں ان کو اس کے بندوں تک پہنچا دوں اور لوگوں کو اللہ کی نافرمانی سے ڈراؤں۔ قیامت کا مجھے علم نہیں ہے لیکن جب وہ آئے گی اور ہر شخص کھلی آنکھوں سے اس کو دیکھے گا تو اس وقت حق و صداقت اور قیامت کا انکار کرنے والوں کے چہرے اور شکلیں بگڑ جائیں گی اور عذاب الٰہی کو دیکھ کر ان کے ہوش اڑ جائیں گے۔ اس وقت ان سے کہا جائے گا کہ یہی وہ عذاب ہے جس کا تم بڑی شدت سے مطالبہ کرتے تھے اور قیامت کی جلدی مچایا کرتے تھے۔ کفار و مشرکین جب ان سچائیوں کے سامنے اپنے آپ کو بےبس اور مجبور محسوس کرتے تو بددعاؤں پر اتر آتے اور کہتے کہ یہ لوگ مر کیوں نہیں جاتے تاکہ ہماری جان چھوٹ جائے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اے ہمارے حبیب ﷺ ! آپ ان سے پوچھئے کہ اگر اللہ ہم سب کو ہلاک کردے یا ہم پر رحم و کرم فرما دے تو ان دونوں حالتوں میں تم ہمارے انجام سے کیوں پریشان ہوتے ہو۔ ہماری فکر چھوڑو تم یہ بتائو کہ تمہیں اللہ کے عذاب سے کون بچائے گا کیونکہ ہم تو اللہ رحمن و رحیم پر ایمان رکھتے ہوئے اسی پر بھروسہ کرتے ہیں۔ وہ وقت دور نہیں ہے جب تمہیں معلوم ہوجائے گا کہ کھلی گمراہی میں کون پڑا ہوا تھا اور ہدایت کی روشنی کس کو نصیب تھی۔ ہمارا تو اس بات پر مکمل یقین ہے کہ اسی نے ہر نعمت عطا فرمائی ہے وہی چاہے تو اس کو چھین سکتا ہے مثلاً پانی کا وجود، اللہ کا بہت بڑا فضل و کرم ہے کہ اس نے کنوؤں، دریاؤں، نہروں اور زمین کے سوتوں سے ہمیں پانی عطا کیا ہے۔ اگر وہ پانی زمین کے اندر اتر جائے اور اس قدر گہرائی تک پہنچ جائے جہاں سے انسانی پانی حاصل نہ کرسکے تو اللہ کے سوا اور کون ہے جو اس پانی کو دوبارہ زمین کی سطح پر لے آئے گا ؟ لہٰذا وہ لوگ جو اللہ کو چھوڑ کر اور دوسروں کو اس کے برابر مانکر ان کی عبادت و بندگی کرتے ہیں کیا وہ بےبس اور مجبور معبود وہ پانی دوبارہ رواں دواں کرسکتے ہیں۔ فطرت انسانی کا جواب یہی ہوگا کہ اس کائنات میں ساری قدرت و طاقت اللہ ہی کی ہے وہی ہر نعمت کو دیتا ہے اور چھین بھی سکتا ہے۔ احادیث میں آتا ہے کہ جب نبی کریم ﷺ سورة الملک کی اس آخری آیت کی تلاوت کرتے تو فرماتے۔ اللہ یا تینا بہ وھو رب العالمین۔
Top