Bayan-ul-Quran - Al-Muminoon : 114
قٰلَ اِنْ لَّبِثْتُمْ اِلَّا قَلِیْلًا لَّوْ اَنَّكُمْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ
قٰلَ : فرمائے گا اِنْ لَّبِثْتُمْ : نہیں تم رہے اِلَّا : مگر (صرف) قَلِيْلًا : تھوڑا (عرصہ) لَّوْ : کاش اَنَّكُمْ : کہ تم كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ : جانتے ہوئے
اللہ فرمائے گا کہ (واقعتا) تم لوگ نہیں رہے ہو مگر بہت تھوڑا ہی عرصہ کاش کہ تم لوگ جانتے ہوتے
آیت 114 قٰلَ اِنْ لَّبِثْتُمْ اِلَّا قَلِیْلًا لَّوْ اَنَّکُمْ کُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ ” آیت 84 سے شروع ہونے والے سلسلۂ کلام میں یہ آخری چار آیات خصوصی طور پر بہت جامع اور پرجلال ہیں۔ جیسا کہ آیت 84 کے ضمن میں بھی ذکر ہوچکا ہے کہ سورت کے اس حصے کی تلاوت قاری محمد صدیق المنشاوی نے بہت پر تاثیر انداز میں کی ہے۔ ان کی یہ تلاوت سننے سے تعلق رکھتی ہے اور اس کے سننے سے دل پر ایک خاص کیفیت طاری ہوجاتی ہے :
Top