Bayan-ul-Quran - Al-Muminoon : 111
اِنِّیْ جَزَیْتُهُمُ الْیَوْمَ بِمَا صَبَرُوْۤا١ۙ اَنَّهُمْ هُمُ الْفَآئِزُوْنَ
اِنِّىْ : بیشک میں جَزَيْتُهُمُ : میں نے جزا دی انہیں الْيَوْمَ : آج بِمَا : اس کے بدلے صَبَرُوْٓا : انہوں نے صبر کیا اَنَّهُمْ : بیشک وہ هُمُ : وہی الْفَآئِزُوْنَ : مراد کو پہنچنے والے
میں نے ان کو آج ان کے صبر کا یہ بدلہ دیا ہے کہ وہی کامیاب ہوئے۔ (ف 5)
5۔ مطلب جواب کا یہ ہوا کہ تمہارا قصور اس قابل نہیں کہ سزا کے وقت اقرار کرنے سے معاف کردیا جاوے۔ کیونکہ تم نے ایسا معاملہ کیا جس سے ہمارے حقوق کا بھی اتلاف ہوا۔ اور حقوق العباد کا بھی، اور عباد بھی کیسے ؟ ہمارے مقبول اور محبوب جو ہم سے خصوصیت خاصہ رکھتے تھے، پس اس کی سزا کے لئے دوام اور تمام مناسب ہے، اور مومنین کو جزائے فوز دینا منجملہ تمام سزا ہے، کفار کے لئے، کیونکہ اعداء کی کامیابی سے روحانی تادیبی ہوتی ہے۔
Top