Bayan-ul-Quran - Al-Muminoon : 20
وَ شَجَرَةً تَخْرُجُ مِنْ طُوْرِ سَیْنَآءَ تَنْۢبُتُ بِالدُّهْنِ وَ صِبْغٍ لِّلْاٰكِلِیْنَ
وَشَجَرَةً : اور درخت تَخْرُجُ : نکلتا ہے مِنْ : سے طُوْرِ سَيْنَآءَ : طور سینا تَنْۢبُتُ : گتا ہے بِالدُّهْنِ : تیل کے ساتھ لیے وَصِبْغٍ : اور سالن لِّلْاٰكِلِيْنَ : کھانے والوں کے لیے
اور (اس پانی سے) ایک (زیتون کا) درخت بھی (ہم نے پیدا کیا) جو کہ طور سینا میں (بکثرت) پیدا ہوتا ہے (ف 1) جو اگتا ہے تیل لیے ہوئے اور کھانوں کے لیے سالن لیے ہوئے۔ (ف 2)
1۔ جس پہاڑ کا نام طور ہے طور سینا بھی اسی کا نام ہے کیونکہ وہ جس جگہ ہے اس کا نام سینا ہے اور سینین بھی، گو اب کچھ اور نام ہوگیا ہو، اور زیتون کی تخصیص طور کے ساتھ بوجہ کثرت سے پیدا ہونے کے ہے اور طور کی تخصیص زیتون کے ساتھ بوجہ کثرت منافع کے ہے۔ 2۔ یعنی اس کے پھل سے دونوں کام کی چیز حاصل ہوتی ہے خواہ روشن کرنے اور مالش کرنے کے کام میں لاو۔ خواہ اس میں روٹی ڈبو کر کھاو۔
Top