Bayan-ul-Quran - Hud : 6
هُوَ الَّذِیْۤ اَخْرَجَ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا مِنْ اَهْلِ الْكِتٰبِ مِنْ دِیَارِهِمْ لِاَوَّلِ الْحَشْرِ١ؔؕ مَا ظَنَنْتُمْ اَنْ یَّخْرُجُوْا وَ ظَنُّوْۤا اَنَّهُمْ مَّانِعَتُهُمْ حُصُوْنُهُمْ مِّنَ اللّٰهِ فَاَتٰىهُمُ اللّٰهُ مِنْ حَیْثُ لَمْ یَحْتَسِبُوْا١ۗ وَ قَذَفَ فِیْ قُلُوْبِهِمُ الرُّعْبَ یُخْرِبُوْنَ بُیُوْتَهُمْ بِاَیْدِیْهِمْ وَ اَیْدِی الْمُؤْمِنِیْنَ١ۗ فَاعْتَبِرُوْا یٰۤاُولِی الْاَبْصَارِ
هُوَ : وہی ہے الَّذِيْٓ : جس نے اَخْرَجَ : نکالا الَّذِيْنَ : جن لوگوں نے كَفَرُوْا : کفر کیا مِنْ : سے، کے اَهْلِ الْكِتٰبِ : اہل کتاب مِنْ دِيَارِهِمْ : ان کے گھروں سے لِاَوَّلِ الْحَشْرِ ڼ : پہلے اجتماع (لشکر) پر مَا ظَنَنْتُمْ : تمہیں گمان نہ تھا اَنْ يَّخْرُجُوْا : کہ وہ نکلیں گے وَظَنُّوْٓا : اور وہ خیال کرتے تھے اَنَّهُمْ : کہ وہ مَّانِعَتُهُمْ : انہیں بچالیں گے حُصُوْنُهُمْ : ان کے قلعے مِّنَ اللّٰهِ : اللہ سے فَاَتٰىهُمُ : تو ان پر آیا اللّٰهُ : اللہ مِنْ حَيْثُ : جہاں سے لَمْ يَحْتَسِبُوْا ۤ : انہیں گمان نہ تھا وَقَذَفَ : اور اس نے ڈالا فِيْ قُلُوْبِهِمُ : ان کے دلوں میں الرُّعْبَ : رعب يُخْرِبُوْنَ : وہ برباد کرنے لگے بُيُوْتَهُمْ : اپنے گھر بِاَيْدِيْهِمْ : اپنے ہاتھوں سے وَاَيْدِي : اور ہاتھوں الْمُؤْمِنِيْنَ ۤ : مومنوں فَاعْتَبِرُوْا : تو تم عبرت پکڑو يٰٓاُولِي الْاَبْصَارِ : اے نگاہ والو
وہی ہے جس نے (ان) اہل کتاب (یعنی بنی نضیر) کو ان کے گھروں سے پہلی ہی بار اکٹھا کرکے نکال دیا (ف 5)․تمہارا گمان بھی نہ تھا کہ وہ (کبھی اپنے گھروں سے) نکلیں گے اور (خود) انہوں نے یہ گمان کر رکھا تھا کہ ان کے قلعے ان کو اللہ سے بچالیں گے (ف 1) سو ان پر خدا (کا عقاب) ایسی جگہ سے پہنچا کہ ان کو خیال بھی نہ تھا (ف 2) اور ان کے دلوں میں رعب ڈال دیا کہ اپنے گھروں کو خوداپنے ہاتھوں سے اور مسلمانوں کے ہاتھوں سے بھی اجاڑ رہے تھے سو اے دانشمندو (اس حالت کو دیکھ کر) عبرت حاصل کرو۔ (ف 3)
5۔ یہ قصہ یہود بنو نضیر کا بعد بدر کے ربیع الاول 4 ھ میں ہوا، یہ لوگ مدینہ سے دو میل پر رہتے تھے، پھر حضرت عمر ؓ نے اپنی خلافت میں ان کو مع دیگر یہود کے ملک شام کی طرف نکال دیا۔ یہ دونوں جلا وطنی حشر اول و حشر ثانی کہلاتی ہیں۔ 1۔ یعنی اپنے قلعوں کے استحکام پر ایسے مطئمن تھے کہ ان کے دل میں انتقام غیبی کا خطرہ بھی نہ آتا تھا۔ 2۔ مراد اس جگہ یہ ہے کہ مسلمانوں کے ہاتھوں سے نکالے گئے جن کی بےسرو سامانی پر نظر کر کے اس کا احتمال بھی نہ ہوتا تھا کہ یہ بےسامان ان باسامانوں پر غالب آجاویں گے۔ 3۔ یعنی عبرت حاصل کرو کہ انجام خدا و رسول کی مخالفت کا بعض اوقات دنیا میں بھی نہایت برا ہوتا ہے۔
Top