بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
Dure-Mansoor - An-Nahl : 1
اَتٰۤى اَمْرُ اللّٰهِ فَلَا تَسْتَعْجِلُوْهُ١ؕ سُبْحٰنَهٗ وَ تَعٰلٰى عَمَّا یُشْرِكُوْنَ
اَتٰٓى : آپہنچا اَمْرُ اللّٰهِ : اللہ کا حکم فَلَا تَسْتَعْجِلُوْهُ : سو اس کی جلدی نہ کرو سُبْحٰنَهٗ : وہ پاک وَتَعٰلٰى : اور برتر عَمَّا : اس سے جو يُشْرِكُوْنَ : وہ شریک بناتے ہیں
آپہنچا اللہ کا حکم سو تم اس میں جلدی نہ کرو وہ پاک ہے اور اس سے برتر ہے جو وہ شریک تجویز کرتے ہیں
1:۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ سورة نحل مکہ میں نازل ہوئی ابن مردویہ نے ابن زبیر ؓ سے اسی طرح نقل کیا۔ 2:۔ نحاس نے مجاہد (رح) کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ سورة نحل مکہ میں نازل ہوئی سوائے تین آیات کے اس کے آخر میں اور آخری تین آیات مکہ اور مدینہ کے درمیان اس وقت نازل ہوئیں جب رسول اللہ ﷺ جنگ احد سے واپس آرہے تھے۔ 3:۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ جب (آیت ) ” اتی امر اللہ “ نازل ہوئی تو رسول اللہ ﷺ کے صحابہ خوفزدہ ہوگئے یہاں تک کہ (آیت ) ” فلا تستعجلوہ “ نازل ہوا تو ہو ٹھہرگئے۔ 4:۔ عبداللہ بن احمد نے زوائد الزہد میں، ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے ابوبکر بن حفص (رح) سے روایت کیا کہ جب (آیت ) ” اتی امر اللہ “ نازل ہوئی تو صحابہ کھڑے ہوگئے پھر نازل ہوا (آیت) ” فلا تستعجلوہ “ (یعنی جلدی نہ کرو) ۔ 5:۔ ابن مردویہ نے ضحاک کے طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” اتی امر اللہ “ سے مراد محمد ﷺ کا ظہور وخروج ہے۔ 6:۔ ابن جریر نے ابی بن کعب ؓ سے روایت کیا کہ میں مسجد میں داخل ہو کر نماز پڑھی اور میں نے سورة نحل پڑھی دو آدمی آئے اور انہوں نے ہماری قرأت کے خلاف پڑھا میں نے ان دونوں کا ہاتھ پکڑا اور رسول اللہ ﷺ کے پاس لے آیا میں عرض کیا یا رسول اللہ ! ان دونوں سے قرأت سنیں ان میں سے ایک نے پڑھا آپ نے فرمایا تو نے ٹھیک پڑھا پھر آپ نے دوسرے سے پڑھنے کو فرمایا (اس کا سن کر) آپ نے فرمایا تو نے ٹھیک پڑھا میرے دل میں زمانہ جاہلیت کے شک کرنے اور جھٹلانے سے زیادہ شک پیدا ہوا رسول اللہ ﷺ نے میرے سینے پر ہاتھ مارتے ہوئے فرمایا میں تیرے لئے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں شک اور شیطان سے میرا پسینہ بہنے لگا آپ ﷺ نے فرمایا میرے پاس جبرئیل (علیہ السلام) تشریف لائے تھے اور فرمایا قرآن کو ایک حرف پر پڑھو میں نے عرض کیا میری امت اس بات کی طاقت نہیں رکھتی یہاں تک میں نے سات مرتبہ کہا آپ نے فرمایا تو (پھر) جبرئیل نے مجھے سے فرمایا سات حروف پر پڑھو بار بار میں نے یہی سوال دہرایا۔ قیامت قریب آچکی ہے : 7:۔ ابن جریر اور ابن منذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ جب یہ آیت (آیت ) ” اتی امر اللہ فلاتستعجلوہ “ نازل ہوئی تو منافقین میں سے کچھ لوگوں نے اپنے بعض لوگوں سے کہا کہ یہ آدمی (یعنی محمد رسول اللہ ﷺ گمان کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا حکم قریب آچکا تو رک جاؤ بعض ان اعمال سے جو تم کرتے ہو یہاں تک کہ تم انتظار کرو کہ کیا ہونے والا ہے جب انہوں نے دیکھا کہ کوئی عذاب وغیرہ نازل نہیں ہوا تو کہنے لگا کہ ہم نے کوئی چیز نازل ہوتے ہوئے نہیں دیکھی تو یہ (آیت ) ” اقترب للناس حسابہم “ (الانبیاء آیت 1) نازل ہوئی منافقین نے پہلے کی طرح کہا جب انہوں نے دیکھا کہ کوئی چیز نازل نہیں ہوتی ہے تو کہنے لگے ہم کسی چیز کو نازل ہوتا نہیں دیکھتے ہیں تو یہ (آیت) ” ولئن اخرنا عنہم العذاب الی امۃ معدودۃ “ (ھود آیت 8) نازل ہوئی۔ 8:۔ ابن ابی حاتم، طبرانی، ابن مردویہ اور حاکم نے (حاکم نے اس کو صحیح بھی کہا) عقبہ بن عامر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا قیامت سے پہلے تم پر ایک سیاہ بادل طلوع ہوگا مغرب کی طرف سے ڈھال کی طرح وہ برابر آسمان میں بلند ہوگا یہاں تک کہ آسمان کو ڈھانپ لے گا پھر ایک آواز لگانے والا آواز دے گا اے لوگو تو لوگوں میں سے بعض بعض پر متوجہ ہوگا (اور کہے گا) کیا تم سن لیا ان میں سے بعض کہیں گے ہاں اور ان میں سے بعض شک کریں گے پھر دوسری مرتبہ آواز دے گا اے لوگو تو لوگ کہیں گے کیا تم نے سنا وہ کہیں گے ہاں پھر وہ آواز دے گا اے لوگو (آیت ) ” اتی امر اللہ فلاتستعجلوہ “ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے دو آدمی کپڑے کو پھیلائیں گے اور اس کو لپیٹ نہیں سکیں گے اور ایک آدمی اپنے حوض کو بھرے گا اور اس میں سے کچھ بھی نہ پی سکے گا اور ایک آدمی اپنی اونٹنی کو دو ہے گا اور اس کو پی نہیں سکے گا اور لوگ (اپنے اپنے) کاموں میں مشغول ہوں گے (کہ قیامت قائم ہوجائے گی) 9:۔ ابن جریر ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” اتی امر اللہ فلاتستعجلوہ “ سے مراد ہے احکام حدود اور فرائض۔ 10:۔ ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ینزل الملٓئکۃ بالروح “ یعنی وحی کے ساتھ۔ 11:۔ آدم بن ابی ایاس، سعید بن منصور، ابن منذر، ابن ابی حاتم، ابوالشیخ نے عظمۃ میں ابن مردویہ اور بیہقی نے الاسماء والصفات میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ” الروح “ سے مراد ہے اللہ کے امروں میں سے ایک امر ہے اور اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں سے ایک مخلوق ہے اور ان کی صورتیں آدم (علیہ السلام) کی اولاد کی صورتوں پر بنائی ہوئی ہیں اور آسمان سے کوئی فرشتہ نازل ہوتا ہے مگر اس کے ساتھ روح میں سے ایک ضرور ہوتا ہے پھر یہ (آیت) ” یوم یقوم الروح والملائکۃ صفا “ (النباء : آیت 38) تلاوت فرمائی۔ 12:۔ ابن جریر ابن منذر اور ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے عظمہ میں مجاہد (رح) سے (آیت ) ” ینزل الملٓئکۃ بالروح من امرہ “ کے بارے میں روایت کیا کہ کوئی فرشتہ نال نہیں ہوتا مگر اس کے ساتھ روح ضرور ہوتی ہے جیسے ان پر حفاظت کرنے والا۔ 13:۔ عبدالرزاق، ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ینزل الملٓئکۃ بالروح من امرہ “ سے وحی اور رحمت مراد ہے۔ 14:۔ ابن ابی حاتم نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ینزل الملٓئکۃ بالروح من امرہ “ سے نبوت مراد ہے۔ 15:۔ ابن ابی حاتم اور ابوالشیخ نے عظمہ میں ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ینزل الملٓئکۃ بالروح من امرہ علی “ سے قرآن مراد ہے۔ 16:۔ ابن جریر، ابن ابی حاتم اور ابوالشیخ نے ربیع بن انس (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ینزل الملٓئکۃ بالروح من امرہ “ سے مراد ہے کہ ہر وہ چیز جس سے ہمارے رب نے کلام فرمایا وہ روح ہے ” من امرہ “ یعنی اللہ تعالیٰ اپنے فرشتوں کو رحمت اور وحی کو اتارتا ہے جس پر چاہتا ہے اپنے بندوں میں سے پس اس نے چن لیا رسولوں کو (آیت) ” انہ لا الہ الا انا فاتقون “ یعنی اس کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے رسولوں کو بھیجا کہ اللہ کو وحدہ لا شریک لہ مانا جائے اور اس کے حکم کی اطاعت کی جائے اور اس کے غصہ سے بچا جائے۔ 17:۔ ابن سعد، احمد، ابن ماجہ، حاکم نے (حاکم نے صحیح بھی کہا) یسربن جحاش (رح) سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے اپنی ہتھیلی میں تھوکا پھر فرمایا اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ تو مجھ کو عاجز کردے گا حالانکہ میں نے تجھ کو اس طرح کی چیز (ینعی منی) سے پیدا کیا یہاں تک کہ جب میں تجھ کو مکمل کردیا تیرے اعضاء مناسب بنادیے تو تو اپنی چادروں کے درمیان چل جب کہ زمین نے تجھ کو چھپانا ہے تو نے جمع کیا اور خرچ نہ کیا یہاں تک کہ جب سانس حلق میں پہنچی تو تو نے کہا میں صدقہ کروں گا لیکن اب صدقہ کا وقت کہاں ہے۔
Top