Dure-Mansoor - An-Nahl : 5
وَ الْاَنْعَامَ خَلَقَهَا١ۚ لَكُمْ فِیْهَا دِفْءٌ وَّ مَنَافِعُ وَ مِنْهَا تَاْكُلُوْنَ۪
وَالْاَنْعَامَ : اور چوپائے خَلَقَهَا : اس نے ان کو پیدا کیا لَكُمْ : تمہارے لیے فِيْهَا : ان میں دِفْءٌ : گرم سامان وَّمَنَافِعُ : اور فائدے (جمع) وَمِنْهَا : ان میں سے تَاْكُلُوْنَ : تم کھاتے ہو
اور اس نے چوپایوں کو پیدا فرمایا ان میں تمہارے لئے سردی سے بچنے کا سامان ہے اور دیگر فائدے ہیں اور ان میں سے تم کھاتے ہو
1:۔ ابن جریر ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” لکم فیھا دفء و منافع “ یعنی جو تم نفع اٹھاتے ہو کھانے سے اور پینے سے۔ 2:۔ عبدالرزاق، فریابی، ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” لکم فیھا دفء و منافع “ سے مراد ہے نسل ہر جانور سے۔ 3:۔ دیلمی نے انس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا برکت بکری میں ہے اور خوبصورتی اونٹ میں ہے۔ 4:۔ ابن ماجہ نے عروہ بارقی (رح) سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا اونٹ عزت (کا باعث) ہے اپنے گھروں والوں کے لئے اور بکری برکت (کا باعث) ہے۔ 5:۔ عبدالرزاق، عبد بن حمید، ابن جریر اور ابن منذر نے قتادہ ؓ سے ولکم فیھا جمال “ کے بارے میں روایت کیا کہ تمہارے لئے ان جانوروں میں زیب وزینت ہے اور راوی نے فرمایا کہ ہم کو یہ بھی بیان کیا گیا کہ نبی کریم ﷺ سے اونٹوں کے بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا یہ اپنے مالکوں کے لئے عزت کا باعث ہیں۔ 6:۔ ابن جریر، ابن ابی حاتم اور ابن منذر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” و تحمل اثقالکم الی بلد “ یعنی مکہ سے (بوجھ اٹھا کر لاتے ہیں) (آیت ) ” لم تکونوا بلغیہ الا بشق الانفس “ یعنی اگر تم سامان کے لئے تکلیف اٹھاؤ (مگر) تم اس کی طاقت نہیں رکھتے مگر سخت مشقت کے ساتھ۔ 7:۔ ابن ابی شیبہ، ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” الا بشق الانفس “ یعنی مگر مشقت کے ساتھ برداشت کرنے سے۔ جانوروں کا مسخر ہونا اللہ کا انعام ہے : 8:۔ ابن مردویہ اور بیہقی نے شعب الایمان میں ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا بچو تم اپنے جانوروں کی پیٹھوں کو منبر بنانے سے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کو تمہارے لئے مسخر کیا ہے تاکہ تم بآسانی پہنچ جاؤ دوسرے شہر کی طرف تم (وہاں) نہیں پہنچ سکتے تھے مگر مشقت کے ساتھ کے ساتھ اور زمین کو تمہارے لئے بنادیا تاکہ اس پر تم اپنی ضرورتوں کو پورا کرو۔ 9:۔ احمد ابویعلی اور حاکم نے (حاکم نے صحیح بھی قرار دیا) معاذ بن انس ؓ نے اپنے والد سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ ایک قوم پر سے گذرے اور وہ اپنے جانوروں اور کجاوں پر کھڑے ہوئے تھے آپ نے ان سے فرمایا ان جانوروں پر سواری کرو سلامتی کے ساتھ (یعنی پوری طرح) اور ان کو چھوڑ دو سلامتی کے ساتھ (یعنی پوری طرح) اور ان کو کرسی نہ بناؤ اپنی باتوں کے لئے راستوں میں اور بازاروں میں کبھی سواری کا جانور بہتر ہوتا ہے اپنے سوار سے اور اللہ تعالیٰ کا ذکر اس سے زیادہ کرنے والا ہوتا ہے۔ 10:۔ ابن ابی شیبہ نے عطاء بن دینار (رح) سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اپنے جانوروں کی پیٹھوں کو کرسی نہ بناؤ اپنی باتوں کے لئے کبھی سواری کا جانور بہتر ہوتا ہے اپنے سوار سے اور اس سے زیادہ اللہ تعالیٰ کا ذکر کرنے والا ہوتا ہے۔ 11:۔ ابن ابی شیبہ نے عطاء بن دینار (رح) سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اپنی جانوروں کی پیٹھوں کو کرسی نہ بناؤ اپنی باتوں کے لئے کبھی سواری کا جانور بہتر ہوتا ہے سوار سے اور اس سے زیادہ اللہ کی اطاعت کرنے والا ہوتا ہے اور اللہ کا زیادہ ذکر کرنے والا ہوتا ہے۔ 12:۔ ابن ابی شیبہ نے حبیب (رح) سے روایت کیا کہ وہ سواری پر زیادہ دیر ٹھہر جانے اور اس کو مارنے کو ناپسند کرتے تھے جب کہ وہ (سواری کا جانور) اطاعت کرنے و الا ہو۔ 13:۔ احمد اور بیہقی نے ابو درداء ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا اگر اللہ تعالیٰ معاف فرما دیں تمہاری زیادتی کو جو تم جانوروں سے کرتے ہو تو (گویا) اس نے تمہارے بہت سارے گناہ معاف کردیئے۔ 14:۔ عبدالرزاق، ابن جریر، ابن منذر اور ابن ابی حاتم حاتم نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” لترکبوھا وزینۃ “ سے مراد ہے کہ (اللہ تعالیٰ نے) اس کو بنایا تاکہ تم اس پر سواری کرو اور اس کو تمہارے لئے زینت (کا ذریعہ) بھی بنایا۔ 15:۔ ابن ابی حاتم نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ ابو عیاض (رح) اس کو یوں پڑھتے تھے (آیت ) ” والخیل والبغال والحمیر لترکبوھا وزینۃ “ یعنی اس نے ان جانوروں کو تمہارے لئے زینت بنایا۔ 16:۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ گھوڑا پہلے وحشی تھا اس کو اللہ تعالیٰ نے اسماعیل (علیہ السلام) کے لئے مطیع بنادیا۔ 17:۔ ابن ابی حاتم اور ابو الشیخ نے عظمہ میں وھب بن منبہ (رح) سے روایت کیا کہ مجھ کو یہ بات پہنچی ہے کہ جب اللہ تعالیٰ نے گھوڑے کو پیدا کرنے کا ارادہ فرمایا تو جنوب کی ہوا کو حکم فرمایا میں تجھ سے ایک مخلوق پیدا کرنے و الا ہوں اور میں اس مخلوق کو عزت بنادوں گا اپنے دوستوں کے لئے اور ذلت (کا باعث) بنادوں گا اپنے دشمنوں کے لئے اور حفاظت کا باعث بنادوں گا اپنی اطاعت کرنے والوں کے لئے ہوا میں ایک مٹھی بھری اور اس سے گھوڑے کو پیدا فرمایا اور فرمایا میں نے تیرا نام گھوڑا رکھا ہے اور میں تجھ کو عربی بنایا ہے (اور) خیر باندھی گئی ہے تیری پیشانی کے ساتھ اور غنیمتیں جمع ہوں گی تیری پیٹھ پر اور مالداری تیرے ساتھ ہوگی جہاں تو ہوگا میں تیری خاص رعایت کی ہے دوسرے جانوروں کی نسبت وسعت رزق کے اعتبار سے اور میں نے تجھ کو ان کا سردار بنایا ہے اور میں نے تجھ کو اڑنے والا بنایا بغیر پروں کے اور تو دوڑنے کے لئے ہے اور عنقریب تیرے اوپر ایسے آدمی سوار ہوں گے جو میری تسبیح بیان کریں گے پس تو بھی ان کے ساتھ میری تسبیح بیان کرنا جب وہ تسبیح بیان کریں اور وہ لا الا اللہ پڑھیں گے تو بھی ان کے ساتھ لا الہ الا اللہ پڑھنا جب وہ پڑھیں اور میری بڑائی بیان کریں گے اور تو بھی میری بڑائی بیان کرنا جب وہ بڑائی بیان کریں جب گھوڑا ہنہنایا تو فرمایا میں نے تجھ میں برکت ڈال دی تو ڈراوں گا تیرے ہنہنانے سے مشرکین کو میں بھر دوں گا اس سے ان کے کانوں کو اور اس ہنہنانے سے خوف زدہ کردوں گا ان کے دلوں میں اور جھکا دوں گا اس کے ذریعہ ان کی گردونوں کو جب مخلوق کو آدم (علیہ السلام) پر پیش کیا گیا اور ان کا نام لیا گیا تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا اے آدم میری مخلوق میں سے چن لے جو تو پسند کرے تو انہوں نے گھوڑے کو چنا اللہ تعالیٰ نے فرمایا تو نے اپنی عزت کو چنا ہے اور تیری اولاد کی عزت باقی رہے گیا جب تک یہ گھوڑے ان میں باقی رہیں گے اور ان کا سلسلہ نسب چلتا رہے گا پس میری برکت ہے تجھ پر اور ان پر اور شہسوار جو بھی تسبیح تہلیل (یعنی لا الہ الا اللہ) اور تکبیر کہتا ہے گھوڑا اس کو سنتا ہے اور اس کی مثل جواب دیتا ہے۔ 18۔ ابن ابی شیبہ، ابن جریر، ابن منذر، ابن ابی حاتم اور ابن مردویہ نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ ایک آدمی نے ابن عباس ؓ سے گھوڑے کے گوشت کو کھانے کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے اس کو ناپسند فرمایا اور یہ (آیت) ” والخیل والبغال والحمیر لترکبوھا وزینۃ “ پڑھی۔ 19:۔ ابن ابی شیبہ، ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ وہ گھوڑے کے گوشت کو ناپسند فرماتے تھے اور فرماتے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت) ” والانعام خلقھا لکم فیھا دفء و منافع ومنھا تاکلون “ یعنی یہ کھانے کئے ہیں (آیت) ” والخیل والبغال والحمیر لترکبوھا وزینۃ “ یعنی یہ سواری کے لئے ہیں۔ 20:۔ ابن ابی شیبہ نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ ان سے گھوڑے کے گوشت کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے یہ آیت پڑھی (آیت) ” والخیل والبغال والحمیر لترکبوھا “۔ 21:۔ ابن جریر اور ابن منذر نے حکم (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ’ ’ والانعام خلقھا لکم فیھا دفء و منافع ومنھا تاکلون “ سے مراد ہے کہ بعض ان میں کھانے کے لئے ہیں پھر یہ (آیت) ” والخیل والبغال والحمیر لترکبوھا وزینۃ “ پڑھی اور فرمایا کہ اس میں تمہارے لئے کھانے کو نہیں بنایا اور حکم (رح) فرماتے تھے گھوڑا خچر اور گدھا حرام ہے اللہ کی کتاب میں۔ 22:۔ ابوعبید، ابو داود، نسائی اور ابن منذر نے خالد بن ولید ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ہر ناخن والے درندوں کو کھانے سے منع فرمایا اور گھوڑے اور خچر اور گدھے کے (کھانے کو بھی منع فرمایا) 23:۔ ابوعبید، ابن ابی شیبہ، ترمذی، نسائی ابن منذر اور ابن ابی حاتم نے عمرو بن دینار کے طریق سے (ترمذی نے صحیح بھی کہا) جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت کیا کہ ہم کو رسول اللہ ﷺ نے ہم کو گھوڑے کا گوشت کھلایا اور ہم کو پالتوگدھے کے گوشت سے منع فرمایا۔ گدھا اور خچر کا گوشت حرام ہے : 24:۔ ابوداود، ابن ابی حاتم نے ابو الزبیر کے طریق سے جابر بن عبداللہ ؓ سے روایت کیا کہ انہوں نے خیبر کے دن گدھے خچر کو اور گھوڑے کو ذبح کیا نبی کریم ﷺ نے گدھے اور خچر سے منع فرمایا لیکن گھوڑوں سے منع نہیں فرمایا۔ 25:۔ ابن ابی شیبہ، نسائی، ابن جریر، اور ابن مردویہ نے عطاء کے طریق سے جابر ؓ سے روایت کیا کہ ہم رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں گھوڑے کا گوشت کھاتے تھے عطا نے عرض کیا میں نے پوچھا خچر بھی (کھاتے تھے) تو انہوں نے فرمایا لیکن خچر نہیں۔ 26:۔ ابن ابی شیبہ، بخاری، مسلمم، نسائی، ابن ماجہ، اور ابن منذر نے اسماء ؓ سے روایت کیا کہ ہم نے رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں گھوڑے کو ذبح کیا اور ہم نے اس کو کھایا۔ 27:۔ امام احمد نے دحیہ کلبی ؓ سے روایت کیا کہ میں عرض کیا یارسول اللہ ﷺ میں آپ کے لئے گدھے کو گھوڑی پر جفتی کراوں گا اور آپ کے لئے خچر پیدا ہوگا اور آپ اس پر سواری فرمائیے آپ ﷺ نے فرمایا یہ وہ لوگ کام کرتے ہیں جو نہیں جانتے۔ 28:۔ خطیب نے تاریخ میں اور ابن عساکر نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے (آیت) ” ویخلق مالا تعلمون “ کے بارے میں فرمایا کہ اس سے مراد وتر کی گھوڑے۔ 29:۔ ابن عساکر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” ویخلق مالا تعلمون “ سے مراد ہے گھن کا کپڑا۔ 30:۔ ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جو اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں سے ایک سفید موتیوں کی زمین جس کی مسافت ایک ہزار سال ہے اس پر سرخ یاقوت کا ایک پہاڑ ہے اس کے ساتھ وہ زمین گھری گئی ہے اس زمین میں ایک فرشتہ ہے جس نے اس مشرق کو اس کے مغرب کو بھر دیا ہے اس کے چھ سو سرہ ہیں، ہر سر میں چھ سو چہرے ہیں، ہر چہرہ میں ساٹھ ہزار منہ ہیں، ہر منہ میں ساٹھ ہزار زبانیں ہیں، وہ اللہ تعالیٰ کی تعریف کرتا ہے اور اس کی پاکی بیان کرتا ہے اور لا الہ کہتا ہے اور اس کی بڑائی بیان کرتا ہے ہر زبان سے چھ لاکھ اور ساٹھ ہزار مرتبہ جب قیامت کا دن ہوگا تو وہ دیکھے گا اللہ کی عظمت کی طرف تو کہے گا تیری عزت کی قسم میں نے تیری عبادت نہیں کی جیسے حق ہے تیری عبادت کا اسی کو فرمایا (آیت) ” ویخلق مالا تعلمون “۔ 31:۔ ابوالشیخ نے عظمہ میں اور بیہقی نے الاسماء والصفات میں شعبی (رح) سے روایت کیا کہ اندلس سے دور اللہ کے کچھ بندے ہیں جیسے کہ ہمارے اندلس کے درمیان فاصلہ ہے وہ نہیں جانتے کہ مخلوق بھی اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کرتی ہے ان کی باریک کنکریاں موتی اور یاقوت ہیں اور ان کے پہاڑ سونے اور چاندی کے ہیں وہ کھیتی نہیں کرتے اور نہ بوتے ہیں اور وہ کوئی عمل نہیں کرتے ان کے دروازوں پر درخت ہیں جس کا پھل ان کا کھانا ہے اور درخت کے چوڑے پتے ان کا لباس ہے۔ 32:۔ ابن ابی حاتم نے وھب (رح) سے روایت کیا کہ ان سے پوچھا گیا ہم کو اس شخص کے بارے میں بتاؤ جو سعالۃ الریح میں آتا ہے اور وہاں چار ستاروں کو دیکھتا ہے گویا کہ وہ چار چاند ہیں تو وھب ؓ نے فرمایا (آیت) ” ویخلق مالا تعلمون “ یعنی وہ (ایسی چیزوں کو) پیدا کرتا ہے جس کو تم نہیں جانتے۔
Top