Dure-Mansoor - Al-Muminoon : 20
وَ شَجَرَةً تَخْرُجُ مِنْ طُوْرِ سَیْنَآءَ تَنْۢبُتُ بِالدُّهْنِ وَ صِبْغٍ لِّلْاٰكِلِیْنَ
وَشَجَرَةً : اور درخت تَخْرُجُ : نکلتا ہے مِنْ : سے طُوْرِ سَيْنَآءَ : طور سینا تَنْۢبُتُ : گتا ہے بِالدُّهْنِ : تیل کے ساتھ لیے وَصِبْغٍ : اور سالن لِّلْاٰكِلِيْنَ : کھانے والوں کے لیے
اور ہم نے ایک درخت پیدا کیا جو طور سیناء سے تیل لیے ہوئے اگتا ہے اور کھانے والوں کے لیے سالن لے کر اگتا ہے
1۔ ابن جریر وابن ابی حاتم نے ضحاک (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” من طور سیناء “ میں طور سے مراد وہ پہاڑ ہے کہ جس سے موسیٰ (علیہ السلام) کو آواز دی گئی۔ 2۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا آیت ” وشجرۃ تخرج “ سے زیتون کا درخت مراد ہے۔ آیت ” من طور سیناء “ سے خوبصورت پہاڑ مراد ہے ” تنبت بالدہن وصبغ للاٰکلین “ یعنی اللہ تعالیٰ نے اس میں تیل اور سالن بنا دیا۔ 3۔ ابن ابی شیبہ وعد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” من طور سیناء “ سے مراد ہے مبارک پہاڑ آیت ” تنبت بالدہن “ یعنی اگاتا ہے تیل کو۔ 4۔ ابن ابی حاتم نے ربیع بن انس (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” وشجرۃ تخرج من طور سیناء “ سے زیتون کا درخت مراد ہے۔ 5۔ ابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” وشجرۃ تخرج من طور سیناء “ سے زیتون کا درخت مراد ہے۔ جو تیل کو اگاتا ہے اور وہ ایسا تیل ہے جو لگایا جاتا ہے اور وہ کھانے والوں کے لیے سالن بھی ہے کہ لوگ اس کو کھاتے ہیں۔ 6۔ ابن ابی حاتم نے عطیہ عوفی (رح) سے روایت کیا کہ سیناء زمین کا نام ہے۔ 7۔ عبد بن حمید نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ طور ایک پہاڑ ہے اور سیناء ایک پتھر ہے اور دوسرے لفظ میں ہے کہ سیناء ایک درخت ہے۔ 8۔ عبدالرزاق وابن المنذر وابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے آیت ” تنبت بالدہن “ کے بارے میں روایت کیا کہ یہ وہ تیل ہے جو کھایا جاتا ہے اور اسے لگایا جاتا ہے۔ 10۔ ابن جرور وابن ابی حاتم نے ابن زید (رح) سے روایت کیا کہ آیت ” تنبت بالدہن وصبغ للاٰکلین “ سے مراد ہے کہ وہ لوگ اس کو بطور سالن استعمال کرتے ہیں اور اس میں روٹی کو ڈبوتے ہیں۔ 11۔ عبد بن حمید نے عاصم (رح) سے روایت کیا کہ وہ اس کو اس طرح پڑھتے ہیں آیت ” من طور سیناء “ سین پر زبر اور آخر میں الف ممدودہ اور آیت ” تنبت “ کو تاء کے نصب اور باء کے رفع کے ساتھ پڑھتے ہیں۔ 12۔ عبد بن حمید نے سلیمان بن عبدالملک (رح) سے روایت کیا کہ وہ آیت ” تنبت بالدہن “ کو تاء کے نصب اور باء کے نصب کے ساتھ پڑھتے تھے۔
Top