Dure-Mansoor - Al-Muminoon : 96
اِدْفَعْ بِالَّتِیْ هِیَ اَحْسَنُ السَّیِّئَةَ١ؕ نَحْنُ اَعْلَمُ بِمَا یَصِفُوْنَ
اِدْفَعْ : دفع کرو بِالَّتِيْ : اس سے جو هِىَ : وہ اَحْسَنُ : سب سے اچھی بھلائی السَّيِّئَةَ : برائی نَحْنُ : ہم اَعْلَمُ : خوب جانتے ہیں بِمَا : اس کو جو يَصِفُوْنَ : وہ بیان کرتے ہیں
آپ اس طریقے پر ان کی بدمعاملگی کو دفع کیجئے جو بہت ہی اچھا طریقہ ہے، ہم خوب جانتے ہیں جو کچھ یہ لوگ بیان کرتے ہیں
1۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر نے مجاہد (رح) سے آیت ” ادفع بالتی ہی احسن السیءۃ “ کے بارے میں فرمایا کہ وہ آپ کو جو اذیتیں دیتے ہیں ان سے اعراض کیجئے۔ 2۔ ابن ابی شیبہ وابن المنذر وابن ابی حاتم نے عطاء (رح) سے روایت کیا کہ آیت ادفع بالتی ہی احسن السیءۃ “ یعنی اس کو سلام کے ساتھ بدلہ دیدو۔ دعوت الی اللہ میں نرمی و حکمت ملحوظ رہے۔ 3۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ اللہ کی قسم وہ گھونٹ کتنا اچھا ہے جو تو پیتا ہے اس حال میں کہ تو مظلوم ہو اور جو یہ طاقت رکھتا ہو کہ بھلائی کے ساتھ شر پر غالب آجائے تو اس کو چاہیے کہ ایسا کرے اور اللہ تعالیٰ کی توفیق کے بغیر کوئی طاقت نہیں۔ 4۔ ابن ابی حاتم وابو نعیم فی الحلیہ انس ؓ سے آیت ” ادفع بالتی ہی احسن السیءۃ “ کے بارے میں روایت کیا کہ کسی آدمی کی ایسی بات اپنے بھائی کے بارے میں جو اس میں نہیں ہے تو جواب میں یوں کہے اگر تو جھوٹا ہے تو میں اللہ تعالیٰ سے سوال کرتا ہوں کہ وہ تجھ کو معاف کردے اور اگر تو سچا ہے تو میں اللہ تعالیٰ سے سوال کرتا ہوں کہ وہ مجھے معاف کردے۔ 5۔ البخاری فی الادب ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ ایک آدمی نبی ﷺ کے پاس آیا اور کہا یا رسول اللہ ! میر رشتہ دار ہیں میں ان سے صلہ رحمی کرتا ہوں جبکہ وہ قطع رحمی کرتے ہیں میں ان سے اچھا سلوک کرتا ہوں اور وہ مجھ سے برا سلوک کرتے ہیں اور مجھ پر جہالت کرتے ہیں (یعنی برا سلوک کرتے ہیں اور میں ان سے بردباری اختیار کرتا ہوں۔ آپ نے فرمایا اگر ایسا ہی ہے جو تو کہتا ہے تو گویا تو ان کو گرم راکھ لگاتا ہے۔ اور برابر اللہ کی طرف سے تیرے ساتھ مددگار ہوگا ان کے خلاف جب تک تو اس حال پر رہے گا۔
Top