Dure-Mansoor - Al-Muminoon : 97
وَ قُلْ رَّبِّ اَعُوْذُ بِكَ مِنْ هَمَزٰتِ الشَّیٰطِیْنِۙ
وَقُلْ : اور آپ فرما دیں رَّبِّ : اے میرے رب اَعُوْذُ : میں پناہ چاہتا ہوں بِكَ : تیری مِنْ : سے هَمَزٰتِ : وسوسے (جمع) الشَّيٰطِيْنِ : شیطان (جمع)
اور آپ یوں دعا کیجئے کہ اے میرے رب میں شیطان کے وسوسوں سے آپ کی پناہ لیتا ہوں
ا۔ ابن ابی شیبہ واحمد وابوداوئد والترمذی وحسن والنسائی والبیہقی فی الاسماء والصفات عمرو بن شعیب (رح) نے اپنے باپ دادا سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ یہ کلمات سکھایا کرتے تھے کہ گھبراہٹ کی وجہ سے ہم ان کو نیند کے وقت کہتے تھے۔ بسم اللہ اعوذ بکلمات اللہ التامۃ من غضبہ و عقابہ وشر عبادہ ومن ہمزات الشیاطین وان یحضرون۔ اللہ کے نام کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے پورے کلمات کے واسطے سے میں اللہ کے غضب سے اور اس کے عذاب سے اور اس کے بندوں کے شر سے اور شیطانوں کے وسوسوں اور میرے پاس ان کے آنے پناہ چاہتا ہوں۔ 2۔ ابن ابی حاتم نے ابن زید (رح) نے فرمایا کہ آیت ” واعوذبک رب ان یحضرون “ یعنی وہ (شیاطین) حاضر ہوں میرے کام میں سے کسی چیز میں۔ 3۔ احمد نے روایت کیا کہ خالد بن ولید ؓ نے عرض کیا یارسول اللہ ! میں گھبراہٹ کو پاتا ہوں آپ نے فرمایا جب تو لیٹنے لگے تو یوں کہہ۔ اعوذ بکلمات اللہ التامات من غضبہ و عقابہ وشر عبادہ ومن ہمزات الشیاطین وان یحضرون۔ اللہ تعالیٰ کے پورے کلمات کے واسطے سے میں اللہ کے غضب سے اور اس کے عذاب سے اور اس کے بندوں کے شر سے اور شیطانوں کے وسوسوں سے اور میرے پاس ان کے آنے سے پناہ چاہتا ہوں۔ بلاشبہ وہ تجھ کو تکلیف نہیں دے گا اور اس کے لائق ہے کہ وہ تجھ کو تکلیف نہ دے۔
Top