Dure-Mansoor - Aal-i-Imraan : 135
وَ الَّذِیْنَ اِذَا فَعَلُوْا فَاحِشَةً اَوْ ظَلَمُوْۤا اَنْفُسَهُمْ ذَكَرُوا اللّٰهَ فَاسْتَغْفَرُوْا لِذُنُوْبِهِمْ١۪ وَ مَنْ یَّغْفِرُ الذُّنُوْبَ اِلَّا اللّٰهُ١۪۫ وَ لَمْ یُصِرُّوْا عَلٰى مَا فَعَلُوْا وَ هُمْ یَعْلَمُوْنَ
وَالَّذِيْنَ : اور وہ لوگ جو اِذَا : جب فَعَلُوْا : وہ کریں فَاحِشَةً : کوئی بےحیائی اَوْ : یا ظَلَمُوْٓا : ظلم کریں اَنْفُسَھُمْ : اپنے تئیں ذَكَرُوا اللّٰهَ : وہ اللہ کو یاد کریں فَاسْتَغْفَرُوْا : پھر بخشش مانگیں لِذُنُوْبِھِمْ : اپنے گناہوں کے لیے وَ مَنْ : اور کون يَّغْفِرُ : بخشتا ہے الذُّنُوْبَ : گناہ اِلَّا اللّٰهُ : اللہ کے سوا وَلَمْ : اور نہ يُصِرُّوْا : وہ اڑیں عَلٰي : پر مَا فَعَلُوْا : جو انہوں نے کیا وَھُمْ : اور وہ يَعْلَمُوْنَ : جانتے ہیں
اور وہ لوگ جنہوں نے جب کوئی برا کام کیا یا اپنی جانوں پر ظلم کیا تو اللہ کو یاد کیا اور اپنے گناہوں کی مغفرت چاہی اور گناہوں کو کون بخشے گا سوائے اللہ کے اور انہوں نے اپنے کئے پر اصرار نہیں کیا وہ جانتے ہیں۔
(1) ابن جریر نے حسن (رح) سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے یہ آیت پڑھی لفظ آیت ” الذین ینفقون فی السراء والضراء “ پھر یہ آیت پڑھی لفظ آیت ” والذین اذا فعلوا فاحشۃ “ پھر فرمایا یہ دونوں نعمتیں ہیں ایک آدمی کی صفات ہیں۔ (2) سعید بن منصور عبد بن حمید اور ابن جریر نے مجاہد (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا ہے کہ یہ دونوں گناہ ہیں لفظ آیت ” اذا فعلوا فاحشۃ “ (کہ انہوں نے برا کام کیا) ایک گناہ ہے اور ” او ظلموا انفسہم “ اپنی جانوں پر ظلم کیا یہ دوسرا گناہ ہے (3) ابن جریر وابن المنذر نے جابر ؓ سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” والذین اذا فعلوا فاحشۃ “ فاحشہ سے مراد بدکاری ہے رب کعبہ کی قسم ! (4) ابن جریر وابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” فعلوا فاحشۃ “ سے زنا مراد ہے۔ (5) ابن المنذر نے حضرت ابن مسعود ؓ سے روایت کیا ہے کہ ان کے پاس بنو اسرائیل کا اور ان چیزوں کا ذکر کیا گیا کہ جن کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے ان کو فضیلت دی ہے۔ تو انہوں نے فرمایا کہ بنو اسرائیل کا کوئی آدمی جب گناہ کرلیتا تھا۔ تو صبح کو اس کے دروازے کی چوکھٹ پر اس کا کفارہ لکھ دیا جاتا تھا بات سے ہوتا جس کو تم کہتے ہو یعنی اللہ تعالیٰ سے استغفار کرتے ہو تو وہ تم کو بخش دیتے ہیں اور اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے تحقیق اللہ تعالیٰ نے ہم کو ایسی آیت دی ہے جو مجھے دنیا اور جو کچھ اس میں ہے ان سب سے زیادہ محبوب ہے۔ (اور وہ یہ ہے) لفظ آیت ” والذین اذا فعلوا فاحشۃ “ (آخر تک) الآیۃ۔ (6) سعید بن منصور نے ابن ابی شیبہ عبد بن حمید اور طبرانی نے ابن الدنیا ابن المنذر اور البیہقی نے حضرت ابن مسعود ؓ روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ کی کتاب میں دو آیتیں ایسی ہیں جو بندہ کوئی گناہ کرتا ہے اور ان دونوں کو پڑھ کر اللہ تعالیٰ سے استغفار کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کو بخش دیتے ہیں۔ وہ دو آیتیں یہ ہیں لفظ آیت ” والذین اذا فعلوا فاحشۃ “ اور ” ومن یعمل سوءا او یظلم نفسہ “ (النساء آیت 11) ۔ (7) عبد الرزاق، عبد بن حمید، ابن جریر نے ثابت بنانی (رح) سے روایت کیا کہ مجھ کو یہ بات پہنچی ہے کہ شیطان رودیا جب یہ آیت ” والذین اذا فعلوا فاحشۃ “ نازل ہوئی۔ (8) الحکیم الترمذی نے عطاف بن خالد (رح) سے روایت کیا کہ مجھ کو یہ بات پہنچی ہے کہ جب یہ آیت ” ومن یغفر الذنوب الا اللہ ولم یصروا علی ما فعلوا “ نازل ہوئی تو ابلیس اپنے لشکر کے ساتھ چلانے لگا اور اپنے سر پر مٹی پھینکی اور ہلاکت کو پکارتا رہا یہاں تک کہ اس کے پاس ہر خشکی اور تری سے اس کے لشکر آگئے اور انہوں نے کہا اے ہمارے سردار کیا ہوا ؟ اس نے کہا یہ آیت نازل ہوئی اللہ کی کتاب میں جس کے بعد کوئی گناہ بھی انسان کو تکلیف نہیں پہنچا سکے گا۔ انہوں نے پوچھا وہ کون سی آیت ہے ؟ اس نے ان کو وہ آیت بتائی انہوں نے کہا کہ ہم ان کے لیے خواہشات کا دروازہ کھول دیں گے پھر وہ توبہ کریں گے نہ استغفار کریں گے اور نہ ہی وہ گمان کریں گے کہ وہ حق پر ہیں پس وہ اس بات پر ان سے راضی ہوگیا۔ (9) الطیالسی واحمد وابن ابی شیبہ وعبد بن حمید وابو داؤد والترمذی والنسائی وابن ماجہ وابن حبان والدار قطنی والبزار وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم اور بیہقی نے شعب میں حضرت ابوبکر صدیق ؓ سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے ہوئے سنا کہ جو آدمی کوئی گناہ کرتا ہے پھر کھڑا ہوجاتا ہے اور اپنے گناہ کو یاد کرتا ہے پھر وضو کرتا ہے اور دو رکعت نماز پڑھتا ہے پھر اللہ تعالیٰ سے اس گناہ کی بخشش طلب کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اس کے گناہ کو بخش دیتا ہے پھر آپ نے یہ آیت پڑھی لفظ آیت ” والذین اذا فعلوا فاحشۃ او ظلموا انفسہم ذکروا اللہ “ آخر آیت تک۔ نماز توبہ سے مغفرت (10) بیہقی نے شعب میں حضرت حسن (رح) سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جو بندہ کوئی گناہ کرے پھر اچھی طرح وضو کرے پھر وہ کھلے میدان کی طرف نکل کر دو رکعت نماز پڑھے اور اللہ تعالیٰ سے اس گناہ کی بخشش مانگے تو اللہ تعالیٰ اس کو بخش دیں گے۔ (11) بیہقی نے ابو درداء ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ہر بات جو بنی آدم کرتا ہے لکھی جاتی ہے۔ اور جب کوئی خطا کرے اور اس کو یہ بات محبوب ہو کہ اللہ کی طرف توبہ کرے تو اس کو چاہیے کہ ایک بلند جگہ پر آجائے اور اپنے ہاتھ اللہ تعالیٰ کی طرف پھیلا کر یوں کہے (اے اللہ) میں تیری طرف توبہ کرتا ہوں۔ اس گناہ کے بارے میں اور میں پھر کبھی نہیں لوٹوں گا اس گناہ کی طرف۔ بلاشبہ (اللہ تعالیٰ ) اس کو بخش دیں گے جب تک وہ اس کام میں نہ لوٹے گا۔ (12) بیہقی نے شعب میں حضرت عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ یوں فرمایا کرتے تھے۔ اللہم اجعلنی من الذین اذا احسنوا استبشروا واذا واساء وا استغفروا ترجمہ : اے اللہ ! مجھے ان لوگوں میں سے بنا دے جو نیکی کریں تو خوش ہوں اور جب برا کام کریں تو مغفرت مانگیں۔ (13) بیہقی نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا چار آدمی جنت کے پاکیزہ باغ میں ہوں گے لا الہ الا اللہ کو مضبوطی سے پکڑنے والا جس میں شک نہ کرتا ہو اور جو شخص جب کوئی نیکی کرے تو اس سے خوش ہوا اور اس پر اللہ تعالیٰ کی حمد بیان کرے اور جس شخص سے کوئی برا کام ہوجائے تو اس کو برا لگے اور اس سے اللہ تعالیٰ سے بخشش مانگے اور جس شخص کو کوئی مصیبت پہنچے تو لفظ آیت ” انا للہ وانا الیہ راجعون “ پڑھے۔ (14) عبد بن حمید بخاری ومسلم نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا ایک آدمی نے گناہ کیا پھر اس نے کہا اے میرے رب بیشک میں نے گناہ کیا ہے تو اس کو بخش دے اللہ تعالیٰ نے فرمایا میرے بندے نے گناہ کیا اور اس نے اس بات کو جان لیا کہ اس کا ایک رب ہے جو گناہ کو بخشتا ہے اور اسی کے ذریعے پکڑتا بھی ہے تحقیق میں نے اپنے بندے کو بخش دیا پھر اس نے دوسرا گناہ کیا اور کہا اے میرے رب ! میں نے گناہ کیا ہے آپ اس کو بخش دیجئے اللہ تبارک وتعالیٰ نے فرمایا میرے بندہ نے جان لیا کہ اس کا ایک رب ہے جو گناہ کو معاف کردیتا ہے اور اس کے ذریعے پکڑتا بھی ہے۔ تحقیق میں نے اپنے بندہ کو بخش دیا۔ پھر اس نے تیسرا گناہ کیا اور کہا اے میرے رب بیشک میں نے گناہ کیا تو اس کو بخش دے اللہ تعالیٰ نے فرمایا میرے بندے نے یہ جان لیا کہ اس کا ایک رب ہے جو گناہ کو بخش دیتا ہے اور اسی کے ذریعے پکڑتا بھی ہے تم گواہ ہوجاؤ تحقیق میں نے اپنے بندے کو بخش دیا پس اس کو چاہیے کہ جو چاہے عمل کرے۔ (15) احمد ومسلم نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اگر تم گناہ نہ کرتے تو اللہ تعالیٰ ایسی قوم کو لے آتے جو گناہ کرتے تاکہ ان کو بخش دیں۔ (16) احمد نے ابو سعید خدری ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا ابلیس نے کہا اے میرے رب اور آپ کی عزت کی قسم میں آدم کے بیٹے کو گمراہ کرتا رہوں گا جب تک کہ ان کی روح ان کے جسموں میں ہے اللہ تعالیٰ نے فرمایا میری عزت کی قسم میں بھی برابر ان کو بخشتا رہوں گا جب تک وہ مجھ سے استغفار کرتے رہیں گے۔ (17) ابو یعلی نے حضرت ابوبکر ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا تم پر لازم ہے لا الہ اللہ اور استغفار ان دونوں کی کثرت کرو کیونکہ ابلیس نے کہا میں نے لوگوں کو گناہوں کے ذریعے ہلاک کیا اور انہوں نے مجھے لا الہ الا اللہ اور استغفار کے ساتھ ہلاک کیا جب میں نے اس بات کو دیکھا تو ان کو میں نے خواہشات کے ذریعے ہلاک کردیا۔ اور وہ یہ خیال کرتے رہے کہ وہ ہدایت پانے والے ہیں۔ (18) البزار اور البیہقی نے شعب میں انس ؓ سے روایت کیا کہ ایک آدمی آیا اور اس نے عرض کیا یا رسول اللہ میں نے گناہ کیا ہے آپ نے فرمایا جب تو نے گناہ کیا تو اپنے رب سے استغفار کر اس نے (پھر) کہا میں نے استغفار کیا پھر میں نے گناہ کرلیا آپ نے فرمایا جب تو گناہ کرے تو اپنے رب سے استغفار کر، پھر وہ لوٹا تو آپ نے اس کو چوتھی مرتبہ فرمایا اپنے رب سے استغفار کر، یہاں تک کہ شیطان تھکا ماندہ ہوجائے گا۔ توبہ سے گناہ مٹ جاتا ہے (19) البیہقی نے عقبہ بن عامر جہنی ؓ سے روایت کیا کہ ایک آدمی نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ ﷺ ہم میں سے کوئی گناہ کرتا ہے (تو کیا ہوگا) آپ نے فرمایا وہ اس پر لکھا جائے گا اس نے (پھر) کہا پھر وہ اس سے استغفار کرتا ہے اور توبہ کرتا ہے آپ نے فرمایا اس کو بخش دیا جائے گا۔ اور اس کی توبہ بھی قبول کی جائے گی۔ پھر اس آدمی نے کہا وہ دوبارہ گناہ کرتا ہے آپ نے فرمایا اس پر لکھا جائے گا (پھر) اس نے کہا وہ پھر اس سے استغفار کرتا ہے اور توبہ کرتا ہے تو آپ نے فرمایا اس کو بخش دیا جائے گا اور اس کی توبہ قبول کی جائے گی۔ پھر اس نے کہا وہ پھر گناہ کرتا ہے آپ نے فرمایا اس پر لکھا جائے گا پھر اس نے کہا وہ استغفار کرتا ہے اور توبہ کرتا ہے آپ نے فرمایا اس کو بخش دیا جائے گا اور تو بہ قبول کی جائے گی۔ اور اللہ تعالیٰ تھکتے نہیں یہاں تک کہ تم تھک جاؤ گے۔ (20) عبد بن حمید، ابن جریر ابن المنذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” ولم یصروا علی ما فعلوا “ سے مراد ہے کہ وہ لوگ کسی گناہ پر نہیں ٹھہرتے اور وہ جانتے ہیں کہ اس شخص کو بخش دیا جاتا ہے جو استغفار کرتا ہے اور توبہ قبول کی جاتی ہے اس شخص کی جو توبہ کرتا ہے۔ (21) عبد بن حمید ابن جریر ابن المنذر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا ہے کہ (گناہ کے) اصرار سے بچو کیونکہ گناہوں پر اصرار کرنے والے گذشتہ لوگ ہلاک ہوگئے ان کو اللہ کے خوف نے منع نہیں کیا تھا حرام کاموں سے جن کو اللہ تعالیٰ نے ان پر حرام کردیا تھا اور انہوں نے گناہوں سے توبہ نہیں کی جن کو وہ پہنچے یہاں تک کہ موت آگئی اور وہ اسی گناہ پر (جمے ہوئے) تھے۔ (22) احمد وعبد بن حمید و بخاری نے الادب المفرد میں۔ ابن مردویہ اور بیہقی نے شعب الایمان میں ابن عمر وؓ سے روایت کیا ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا تم رحم کرو تم پر بھی رحم کیا جائے گا تم (لوگوں کی غلطیوں کو) معاف کرو تم کو بھی معاف کیا جائے گا (اور) جو کان کیف کی طرح ہیں ان کی خرابی ہے (یعنی حق بات سنتے ہیں لیکن ایک کان سے سن کر دوسرے کان سے اڑا دیتے ہیں نہ اس کو یاد رکھتے ہیں نہ اس پر عمل کرتے ہیں) (اور) خرابی ہے (گناہوں پر) اصرار کرنے والوں کے لیے جو (برے کاموں پر) اصرار کرتے ہیں حالانکہ وہ جانتے ہیں۔ (23) ابن ابی الدنیا نے التوبہ میں بیہقی نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ ہر گناہ جس پر بندہ اصرار کرتا ہے وہ بڑا بن جاتا ہے اور کوئی بڑا گناہ نہیں ہوتا جب تک بندہ اس پر توبہ کرتا رہے۔ (24) عبد الرزاق ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے حسن ؓ سے روایت کیا ہے کہ جان بوجھ کر گناہ کرنا اصرار ہے یہاں تک کہ توبہ نہ کرے۔ (25) البیہقی نے اوزاعی (رح) سے روایت کیا ہے کہ اصرار یہ ہے کہ بندہ کوئی گناہ کرے تو اس کو حقیر سمجھے۔ (26) ابن جریر وابن ابی حاتم نے سدی (رح) سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” ولم یصروا علی ما فعلوا “ سے مراد ہے کہ حد سے تجاوز کرنا پھر استغفار نہ کرنا حالانکہ وہ جانتے ہیں کہ انہوں نے گناہ کیا ہے پھر اسی پر قائم رہنا اور استغفار نہ کرنا۔ (27) عبد بن حمید و ابوداؤد الترمذی وابو یعلی وابن ابی حاتم والبیہقی نے شعب میں حضرت ابوبکر صدیق ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا اس شخص نے اصرار نہیں کیا جس نے استغفار کرلیا اگرچہ دن میں ستر مرتبہ وہ گناہ کی طرف لوٹا (یعنی گناہ کیا) ۔ (28) ابن ابی حاتم نے مقاتل (رح) سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” ونعم اجر العلمین “ سے مراد ہے اللہ کی اطاعت کرنے والوں کے لیے جنت ہے۔
Top