Dure-Mansoor - Aal-i-Imraan : 46
وَ یُكَلِّمُ النَّاسَ فِی الْمَهْدِ وَ كَهْلًا وَّ مِنَ الصّٰلِحِیْنَ
وَيُكَلِّمُ : اور باتیں کریگا النَّاسَ : لوگ فِي الْمَهْدِ : گہوارہ میں وَكَهْلًا : اور پختہ عمر وَّمِنَ : اور سے الصّٰلِحِيْنَ : نیکو کار
اور وہ لوگوں سے بات کرے گا گہوارہ میں اور بڑی عمر میں، اور وہ صالحین میں سے ہوگا۔
(1) ابن جریر اور ابن المنذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا ہے کہ مجھ کو یہ بات حضرت ابن عباس ؓ سے پہنچی ہے کہ انہوں نے فرمایا ” المھد “ سے مراد ہے کہ بچے کے لیٹنے کی جگہ دودھ پینے کے زمانہ میں۔ پنگھوڑے میں صرف بچوں نے بات کی (2) بخاری ابن ابی حاتم نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا پنگھوڑے میں صرف تین بچوں نے بات کی ہے عیسیٰ (علیہ السلام) نے اور ایک آدمی جو بنی اسرائیل میں تھا جس کو جریج کہا جاتا تھا وہ نماز پڑھ رہا تھا اس کی ماں آئی اس نے اس کو پکارا تو کہنے لگا کہ میں اس کو جواب دوں یا نماز پڑھوں ؟ (جب اس نے جواب نہ دیا) تو اس کی ماں نے کہا اے اللہ ! یہ نہ مرے یہاں تک کہ بدکار عورتوں کا منہ نہ دیکھے اور جریج اپنے گرجا گھر میں ہوتا تھا اس کے پاس ایک عورت آئی اور اس سے (زنا کی) بات کی اس نے انکار کردیا پھر وہ ایک چرواہے کے پاس آئی اور اس سے زنا کرایا اور لڑکا پیدا ہوا تو کہنے لگی یہ جریج سے ہے (یہ بات سن کر) لوگ اس کے پاس آئے اس کے گرجا گھر کو گرا دیا اس کو نیچے اتار کر اس کا گالیاں دیں اس نے وضو کیا اور نماز پڑھی ہو لڑکے کے پاس آیا تو جریج نے اس لڑکے سے کہا تیرا باپ کون ہے ؟ اے لڑکے اس نے کہا چرواہا (پھر) لوگوں نے کہا تیرا گرجا گھر ہم سونے سے بنا دیتے ہیں اس نے کہا نہیں مٹی سے بنا دو ۔ بنی اسرائیل میں سے ایک عورت اپنے بیٹے کو دودھ پلا رہی تھی ایک آدمی حسن و جمال والا سوار ہو کر وہاں سے گذرا اس عورت نے کہا اے اللہ میرے بیٹے کو اس جیسا بنا دے اس بچے نے اپنی ماں کی چھاتی کو چھوڑ دیا اور سوار کی طرف متوجہ ہو کر کہا اے اللہ ! مجھے اس جیسا نہ بنا پھر وہ ماں کی چھاتی کی طرف متوجہ ہو دودھ پینے لگا پھر دونوں ایک باندی پر گذرے جو گوشت کاٹ رہی تھی اس سے کھیل تماشا کیا جا رہا تھا اس عورت نے کہا اے اللہ ! میرے بچے کو اس (عورت) جیسا نہ بنا اس بچے نے ماں کی چھاتی کو چھوڑ کر کہا اے اللہ ! مجھے اس جیسا بنا دے اس عورت نے کہا یہ کیوں کر ہو ؟ اس بچے نے کہا وہ سوار ایک جابر شخص ہے اور اس لونڈی کے بارے میں لوگوں نے کہا کہ تو نے زنا کیا تو وہ کہتی ہے مجھے اللہ تعالیٰ کافی ہے۔ اور لوگ کہتے ہیں کہ تو نے چوری کی تو وہ کہتی ہے مجھے اللہ تعالیٰ کافی ہے۔ (3) ابو الشیخ، حاکم نے (اس کو صحیح کہا) حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا گہوارے میں (یعنی ماں کی گود میں) کسی نے بات نہیں کی مگر عیسیٰ (علیہ السلام) نے اور یوسف پر گواہی دینے والا بچہ اور جریج والا بچہ اور فرعون کو کنگھی کرنے والی کا بیٹا۔ (4) عبد بن حمید وابن جریر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” ویکلم الناس فی المھد وکھلا “ سے مراد ہے وہ ان سے گفتگو کرتے تھے چھوٹی اور بڑی عمر میں۔ (5) ابن ابی حاتم نے ضحاک کے طریق سے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” وکھلا “ سے مراد ہے ادھیڑ عمر۔ (6) عبد بن حمید، ابن جریر، ابن المنذرابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا ” الکھل “ سے مراد الحلیم یعنی حلم والا۔ (7) ابن ابی حاتم نے یزید بن ابی حبیب (رح) سے روایت کیا ہے کہ ” الکھل “ سے مراد انتہا درجے کا حلم۔ (8) ابن جریر نے ابن زید (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا ہے کہ عیسیٰ (علیہ السلام) نے گہوارے میں بات کی اور عنقریب اس سے بات کریں گے جب دجال سامنے آئے گا اور وہ ان دنوں ادھیڑ عمر کے ہوں گے۔ (9) ابن جریر نے محمد بن جعفر بن زبیر (رح) سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” کذلک اللہ یخلق ما یشاء “ سے مراد ہے کہ اللہ تعالیٰ جو ارادہ فرماتا ہے اسے کرتا اور جسے چاہتا ہے اسے پیدا کرتا ہے (اور فرمایا) لفظ آیت ” اذا قضی امرا فانما یقول لہ کن فیکون “ ( یعنی وہ جب کسی چیز کا ارادہ فرماتے ہیں تو کہتے ہیں ہوجا پس وہ ہوجاتی ہے) جو چیز جس کو چاہتا ہے اس کے اراد کے مطابق ہوجاتی ہے۔
Top