بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
Dure-Mansoor - Ash-Shura : 1
حٰمٓۚ
حٰمٓ : حا۔ میم
حم ٓ
1:۔ ابن مردویہ (رح) نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” حم ٓ (1) عسق (2) “ مکہ میں نازل ہوئی۔ 2:۔ ابن مردویہ (رح) نے ابن الزبیر ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” حم ٓ (1) عسق (2) “ مکہ میں نازل ہوئی۔ 3:۔ عبدالرزاق نے المصنف میں جعفر بن محمد ؓ سے روایت کیا کہ نبی کریم ﷺ نے ایک رات حضرت میمونہ ؓ کے گھر میں (آیت ) ” حم ٓ (1) عسق (2) “ پڑھی اور اس کو باربار پڑھا، اور فرمایا اے میمونہ ! کیا تیرے پاس (آیت ) ” حم ٓ (1) عسق (2) “ ہے (یعنی تجھے یاد ہے) عرض کیا جی ہاں ! فرمایا اس کو پڑھو میں اس کے اول وآخر کے درمیان سے بھول گیا ہوں۔ 4:۔ طبرانی (رح) نے (صحیح سند کے ساتھ) حضرت میمونہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے (آیت ) ” حم ٓ (1) عسق (2) “ پڑھی اور فرمایا اے میمونہ کیا تو (آیت ) ” حم ٓ (1) عسق (2) “ کو پہچانتی ہے (یعنی تجھے یاد ہے) میں اس کے اول اور آخر کے درمیان سے بھول گیا ہوں میمونہ ؓ نے فرمایا کہ میں نے اس کو پڑھا تو (پھر) رسول اللہ ﷺ نے اس کو پڑھا۔ 5:۔ ابن جریر (رح) وابن ابی حاتم (رح) ونعیم (رح) بن حماد والخطیب نے ارطاۃ بن منذر (رح) سے روایت کیا کہ ایک آدمی ابن عباس ؓ کے پاس آیا اور ان کے پاس حذیفہ بن یمان بھی بیٹھے ہوئے تھے عرض کیا مجھے (آیت ) ” حم ٓ (1) عسق (2) “ کی تفسیر کے بارے میں بتائیے ؟ آپ نے اس سے اعراض فرمایا۔ اس نے پھر گزارش کی آپ نے پھر اس سے اعراض فرمایا پھر اس نے تیسری مرتبہ گزارش کی، انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا۔ حذیفہ ؓ نے آپ سے کہا میں آپ کو اس بارے میں بتارہا ہوں کہ میں نے کیوں بار بار کہا ان کے گھروالوں میں سے ایک آدمی کے بارے میں (یہ آیت) نازل ہوئی جس کو عبدالہ یا عبداللہ کہا جاتا تھا، وہ مشرق کے نہروں میں سے ایک نہر پر آیا اس پر دو شہروں کو بنایا اور ان کے درمیان نہر کو دو حصوں میں تقسیم کردیا جس میں ہر قسم کے سرکش اور جابر لوگ جمع ہوگئے۔ جب اللہ تعالیٰ نے ان کے ملک کے تباہ ہونے اور ان کی حکومت اور ان کی مدت کے ختم ہونے کا فیصلہ فرما دیا تو اللہ تعالیٰ نے ان میں سے ایک شہر پر رات کو آگ بھیج دیا تو (وہ شہر) صبح کو سیاہ اور تاریک ہوگیا اور وہ ایسا جل چکا تھا گویا کہ وہ اپنی جگہ پر نہ تھا اور اس شہر کے رہنے والے تعجب میں پڑگئے ” کیف افلتت وہ تو سوائے دن کی سفیدی کے اور کچھ نہیں تھا یہاں تک کہ اس میں جبار سرکش جمع ہوئے توا للہ تعالیٰ نے ان کو بھی اور ان کے ساتھ لوگوں کو زمین میں دھنسایا اور اس میں سے ” سین “ کو لیا گیا جو اصل میں ” سیکون “ تھا اور ” ق “ سے مراد ہے واقع ہونے والا (اللہ کا عذاب) ان دوشہروں پر۔ 6:۔ ابویعلی اور ابن عساکر (رح) نے ضعیف سند کے ساتھ ابومعاویہ ؓ سے روایت کیا کہ عمر بن خطاب ؓ سے منبر پر چڑھے اور فرمایا : اے لوگو ! کیا تم میں سے کسی نے رسول اللہ ﷺ کو (آیت ) ” حم ٓ (1) عسق (2) “ پڑھتے ہوئے سنا تو ابن عباس ؓ تیزی سے اٹھے اور فرمایا کہ حم اللہ تعالیٰ کے ناموں میں سے ایک نام ہے پوچھا ” عین “ کیا ہے ؟ فرمایا وہ اپنے بدر کے دن عذاب کا معائنہ کیا پوچھا ” سین “ کیا ہے :؟ فرمایا (آیت ) ” وسیعلم الذین ظلموا ای منقلب ینقلبون “ (الشعراء آیت 277) (اور ظالموں کو ابھی معلوم ہوجائے گا کہ کس کروٹ پر پڑتے ہیں (پوچھا ” قاف “ سے کیا مراد ہے ؟ تو وہ خاموش رہے ابوذر ؓ کھڑے ہوئے اور تفسیر بیان کی جیسے ابن عباس ؓ نے تفسیر فرمائی اور فرمایا ” قاف “ سے مراد ہے آسمان سے ایک مصیبت جو لوگوں کو پہنچے گی۔
Top