Siraj-ul-Bayan - Ash-Shura : 10
وَ مَا اخْتَلَفْتُمْ فِیْهِ مِنْ شَیْءٍ فَحُكْمُهٗۤ اِلَى اللّٰهِ١ؕ ذٰلِكُمُ اللّٰهُ رَبِّیْ عَلَیْهِ تَوَكَّلْتُ١ۖۗ وَ اِلَیْهِ اُنِیْبُ
وَمَا : اور جو بھی اخْتَلَفْتُمْ : اختلاف کیا تم نے فِيْهِ : اس میں مِنْ شَيْءٍ : کسی چیز میں سے فَحُكْمُهٗٓ : تو اس کا فیصلہ کرنا اِلَى اللّٰهِ : طرف اللہ کے ہے ذٰلِكُمُ اللّٰهُ : یہ ہے اللہ رَبِّيْ : رب میرا عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ : اسی پر میں نے بھروسہ کیا وَاِلَيْهِ : اور اسی کی طرف اُنِيْبُ : میں رجوع کرتا ہوں
اور جس کسی چیز میں تم اختلاف کرو تو اس کا فیصلہ اللہ ہی کے سپرد ہے، وہ اللہ میرا رب ہے میں نے اس پر بھروسہ کیا اور اس کی طرف رجوع ہوتا ہوں
1:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت) ” وما اختلفتم فیہ من شیء فحکمہ الی اللہ “ (اور جو کچھ تم اختلاف کرتے ہو کسی چیز کے بارے میں تو اس کا فیصلہ اللہ ہی کے سپرد ہے یعنی وہی ذات اس بارے میں فیصلہ کرے گی ، 2:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” جعل لکم من انفسکم ازواجا ومن الانعام ازواجا یذرؤکم فیہ “ (اس نے تمہارے لئے تمہاری جنس کے جوڑے بنائے اور (اس طرح) چوپائیوں کے جوڑے بنائے اور اس (تدبیر) سے تمہاری نسل چلاتا رہتا ہے یعنی یہ زندگی ہے اللہ تعالیٰ کی طرف سے کہ اللہ تعالیٰ تم کو اس میں زندہ رکھتا ہے۔ 3:۔ فریابی (رح) وعبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” یذرؤکم فیہ “ یعنی تم کو پھیلاتا ہے) ایک نسل کے بعد دوسری نسل میں لوگوں میں سے اور چوپایوں میں سے (تم کو پیدا کرتا ہے ) ۔ 4:۔ ابن جریر (رح) نے سدی (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” یذرؤکم “ سے مراد ہے کہ وہ تم کو پیدا کرتا ہے۔ 5:۔ عبد بن حمید (رح) اور بیہقی (رح) نے الاسماء والصفات میں ابو وائل (رح) سے روایت کیا کہ ہمارے درمیان عبداللہ ؓ اپنے رب کی تعریف فرما رہے تھے اچانک فرمایا وہ بلند شان رکھنے والا ہے کیا ہی اچھا پالنے والا ہے اس کا ذکر کیا جاتا ہے پھر عبد اللہ ؓ نے فرمایا میں اس لئے کہتا ہوں (آیت ) ” لیس کمثلہ شیء وھو السمیع البصیر “ (کوئی چیز اس کی مثل نہیں اور وہی سننے والا اور دیکھنے والا ہے ) ۔
Top