Dure-Mansoor - Ash-Shura : 12
لَهٗ مَقَالِیْدُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ١ۚ یَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ یَّشَآءُ وَ یَقْدِرُ١ؕ اِنَّهٗ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ
لَهٗ : اس کے لیے ہیں مَقَالِيْدُ السَّمٰوٰتِ : کنجیاں ہیں آسمانوں کی وَالْاَرْضِ : اور زمین کی يَبْسُطُ : پھیلاتا ہے۔ فراخ کرتا ہے الرِّزْقَ : رزق لِمَنْ يَّشَآءُ : جس کے لیے چاہتا ہے وَيَقْدِرُ : اور نپا تلا دیتا ہے اِنَّهٗ : بیشک وہ بِكُلِّ شَيْءٍ : ہر چیز کے ساتھ عَلِيْمٌ : جاننے والا ہے
اسی کے اختیار میں ہیں آسمانوں کی اور زمین کی کنجیاں، وہ رزق بڑھا دیتا ہے جس کے لئے چاہے اور کم کردیتا ہے، بیشک وہ ہر چیز کا جاننے والا ہے
1:۔ عبد بن حمید (رح) وابن المنذر (رح) و طبرانی (رح) وابوالشیخ (رح) فی العظمۃ وابن مردویہ (رح) و ابونعیم (رح) نے الحلیہ میں عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت کیا کہ تمہارے رب کے پاس نہ رات ہے نہ دن ہے، آسمانوں کا نور اس کی ذات کے نور سے ہے اور تمہارے دن کی مقدار اس کے نزدیک بارہ گھنٹے ہے اس پر تمہارے کل اور آج کے اعمال دن کے پہلے حصے میں پیش کئے جاتے ہیں پھر اس میں (اللہ تعالیٰ ) تین ساعات نظر فرماتے ہیں اور اس میں سے ان چیزوں پر مطلع ہوتے ہیں جن کو وہ ناپسند فرماتے ہیں اور اس سے وہ غصہ ہوتے ہیں اور انکے غصہ کو سب سے پہلے وہ فرشتے جو عرش کو اٹھانے والے ہیں پھر وہ فرشتے جو عرش کا احاطہ کرنے والے ہیں پھر مقرب فرشتے اور (پھر) سارے فرشتے جانتے ہیں اور جبرائیل (علیہ السلام) قرآن پاک پھونکتے ہیں تو کوئی چیز باقی نہیں رہتی مگر کہ میں اس کو سن لیتی ہے سوائے جنوں اور انسانوں کے تو (سارے فرشتے) تین ساعات اس کو تسبیح بیان کرتے ہیں یہاں تک کہ رحمن رحمت سے بھردیتا ہے، یہ چھ ساعات ہوئیں پھر ان چیزوں کو لایا جاتا جو ارحام میں ہیں (اللہ تعالیٰ ) ان میں تین ساعات نظر فرماتے ہیں فرمایا (آیت ) ” ھوالذی یصورکم فی الارحام کیف یشآء لا الہ الا ھو العزیز الحکیم (6) “ (آل عمران آیت 6) (وہی ذات ہے جو تمہاری تصویریں بناتا ہے رحموں میں جس طرح چاہتا ہے اس کے سوا کوئی معبود نہیں اور وہ غالب حکمت والا ہے۔ (آیت ) ” یخلق ما یشآء یھب لمن یشآء اناثاویھب لمن یشآء الذکور (49) “ پیدا کرنا جس طرح چاہتا ہے جس کو چاہتا ہے بیٹی دیتا ہے اور جس کو چاہتا ہے بیٹا دیتا ہے یہاں تک کہ علیم تک پہنچے تو یہ نو ساعتیں ہوئیں پھر اللہ تعالیٰ ساری مخلوق کے رزقوں کو ساعتوں میں نظر فرماتے ہیں فرمایا (آیت) ” یبسط الرزق لمن یشآء ویقدر انہ بکل شیء علیم (12) “ (رزق کو کشادہ کرتا ہے جس کے لئے چاہتا ہے اور تنگ کرتا ہے وہ ہر چیز کو جاننے والا ہے، تو کل بارہ ساعتیں ہیں پھر فرمایا (آیت ) ” کل یوم ھوفی شان “ (29) (الرحمن آیت 29) (ہر روز وہ ایک کام میں ہے) یعنی ہر روز تمہارے رب کی یہ شان ہے۔
Top