Dure-Mansoor - Ash-Shura : 17
اَللّٰهُ الَّذِیْۤ اَنْزَلَ الْكِتٰبَ بِالْحَقِّ وَ الْمِیْزَانَ١ؕ وَ مَا یُدْرِیْكَ لَعَلَّ السَّاعَةَ قَرِیْبٌ
اَللّٰهُ الَّذِيْٓ : اللہ وہ ذات ہے اَنْزَلَ الْكِتٰبَ بالْحَقِّ : جس نے نازل کی کتاب حق کے ساتھ وَالْمِيْزَانَ : اور میزان کو وَمَا يُدْرِيْكَ : اور کیا چیز بتائے تجھ کو لَعَلَّ السَّاعَةَ : شاید کہ قیامت قَرِيْبٌ : قریب ہی ہو
اللہ وہی ہے جس نے حق کے ساتھ کتاب کو اور میزان کو نازل فرمایا اور آپ کو کیا پتہ ہے عجب نہیں کہ قیامت قریب ہو
1:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ’ اللہ الذی انزل الکتب بالحق والمیزان “ (اللہ ہی تو ہے جس نے یہ کتاب (یعنی قرآن) اور عدل کو نازل فرمایا۔ 2:۔ حاکم (رح) (وصححہ) نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ اور آپ مقام عرفات میں ٹھہرے ہوئے تھے تو سورج کی طرف دیکھا جب وہ غروب ہونے لگا تو ڈھال کی طرح تھا پھر وہ روئے اور ان کا رونا سخت ہوگیا اور اللہ تعالیٰ کا یہ قول تلاوت کیا (آیت ) ’ اللہ الذی انزل الکتب بالحق والمیزان “ سے لیکر ” العزیز “ تک۔ اس سے کہا گیا کہ آپ کیوں روئے ؟ تو انہوں نے فرمایا مجھے رسول اللہ ﷺ یاد آتے ہیں جبکہ آپ میری اس جگہ میں کھڑے ہوتے تھے آپ نے فرمایا اے لوگوں تمہاری اس دنیا میں سے جو گزر چکا ہے اس کے مقابلے میں جو باقی ہے وہ اسی طرح ہے جو وقت آج کے دن میں سے گزر چکا ہے اور جو باقی ہے۔ 3:۔ ابن مردویہ (رح) نے انس بن مالک ؓ سے روایت کیا کہ ہم میں سے ایک آدمی بیت الخلا میں داخل ہوا اور اس نے پانی کا ایک برتن بھی اٹھایا ہوتا جب وہ باہر آتا اور وضو کرتا اس ڈر سے کہ قیامت قائم نہ ہوجائے اور اگر اس کے پاس بچا ہوا کھانا ہوتا تو وہ کہتا میں اس کو ابھی نہیں کھاؤں گا کہ قیامت قائم ہوجائے گی۔ 4:۔ احمد وہناد بن السری و طبرانی (رح) وابن مردویہ (رح) اور الضیاء نے جابر بن سمرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ میں بھیجا گیا (اس حال میں) کہ میں اور قیامت ان دوانگلیوں کی طرح (قریب) ہیں۔
Top