Dure-Mansoor - Ash-Shura : 28
وَ هُوَ الَّذِیْ یُنَزِّلُ الْغَیْثَ مِنْۢ بَعْدِ مَا قَنَطُوْا وَ یَنْشُرُ رَحْمَتَهٗ١ؕ وَ هُوَ الْوَلِیُّ الْحَمِیْدُ
وَهُوَ الَّذِيْ : اور وہ اللہ وہ ذات ہے يُنَزِّلُ : جو اتارتا ہے الْغَيْثَ : بارش کو مِنْۢ بَعْدِ مَا : اس کے بعد کہ قَنَطُوْا : وہ مایوس ہوگئے وَيَنْشُرُ رَحْمَتَهٗ : اور پھیلا دیتا ہے اپنی رحمت کو وَهُوَ : اور وہ الْوَلِيُّ الْحَمِيْدُ : کارساز ہے۔ دوست ہے، تعریف والا ہے
اور وہ ایسا ہے جو لوگوں کے ناامید ہونے کے بعد بارش برساتا ہے اور اپنی رحمت کو پھیلا دیتا ہے
1:۔ عبد بن حمید وابن جریر وابن المنذر (رح) نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ ہم کو یہ بات بتائی گئی کہ ایک آدمی نے عمر ؓ سے کہا اے امیر المؤمنین ! بارش نہیں ہوئی اور لوگ مایوس ہوگئے عمر ؓ نے فرمایا تب تو ضرور تم پر بارش ہوگی اور یہ (آیت) پڑھی۔ وھو الذی ینزل الغیث من بعد ما قنطوا “ (اور وہ ایسا ہے جو لوگوں کے ناامید ہوجانے کے بعد مینہ برساتا ہے) 2:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ” من بعد ما قنطوا “ سے مراد ہے کہ (جب لوگ) مایوس ہوگئے۔ بارش کے وقت دعا کی قبولیت : 3:۔ ابن المنذر (رح) نے ثابت (رح) سے روایت کیا کہ ہم کو یہ بات پہنچی کہ بارش کے وقت قبول ہوتی ہے پھر آیت یہ تلاوت فرمائی (آیت ) ” وھو الذی ینزل الغیث من بعد ما قنطوا “۔ 4:۔ حاکم اور بیہقی (رح) نے انی سنن میں سہل بن سعد ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا (دعائیں رد نہیں کی جاتیں اذان کے وقت کی دعا اور بارش کے نیچے (یعنی بارش کے وقت) 5:۔ طبرانی (رح) و بیہقی (رح) نے ابوامامہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا آسمان کے دروازے کھولے جاتے ہیں اور دعا قبول کی جاتی ہے چار جگہوں میں صفوں کے ملنے کے وقت اللہ کے راستے میں (یعنی دشمن سے لڑائی کے وقت) بارش کے اترنے کے وقت نماز کے کھڑے ہونے کے وقت اور کعبہ کے دیکھنے کے وقت۔ 6:۔ عبدبن حمید (رح) وابن جریر (رح) وابن المنذر (رح) نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ (آیت ) ’ وما بث فیھما من دآبۃ “ (اور ان جانوروں کا پیدا کرنے جن کو اس نے آسمان اور زمین میں پھیلا رکھا ہے) اس سے مراد لوگ اور فرشتے ہیں۔ (واللہ اعلم ) ۔
Top