Dure-Mansoor - Ash-Shura : 41
وَ لَمَنِ انْتَصَرَ بَعْدَ ظُلْمِهٖ فَاُولٰٓئِكَ مَا عَلَیْهِمْ مِّنْ سَبِیْلٍؕ
وَلَمَنِ انْتَصَرَ : اور جو کوئی بدلہ لے بَعْدَ : بعد ظُلْمِهٖ : اس کے ظلم کے فَاُولٰٓئِكَ : تو یہی لوگ مَا عَلَيْهِمْ : نہیں ہے ان پر مِّنْ سَبِيْلٍ : کوئی راستہ
اور البتہ جو شخص مظلوم ہوجانے کے بعد بدلہ لے لے سو یہ ایسے لوگ ہیں جن پر کوئی الزام نہیں
1:۔ عبد بن حمید (رح) وابن جریر (رح) اور بیہقی (رح) نے شعب الایمان میں قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ (آیت ) ” ولمن انتصر بعد ظلمہ فاولئک ماعلیہم من سبیل “ (جو اپنے اوپر ظلم ہوچکنے کے بعد برابر کا بدلہ لیتے ہیں تو ایسے لوگوں پر کوئی الزام نہیں) کے بارے میں فرمایا کہ یہ حکم معمولی زخموں کے بارے میں ہے جو لوگوں کے درمیان آپس میں جھگڑے سے واقع ہوتا ہے جس پر کوئی سزا نہیں ہوتی اور اگر کوئی آدمی تجھ پر ظلم کرے تو اس پر ظلم نہ کر اور اگر وہ تجھ کو برا بھلانہ کہہ اور اگر وہ تیری خیانت کرے تو اس کی خیانت نہ کر کیونکہ مؤمن پورا پورا ادا کرنے والا ہوتا ہے اور بدکار آدمی خیانت کرنے والا اور دھوکہ دینے والا ہوتا ہے۔ 2:۔ ابن ابی شیبہ والترمذی (رح) والبزار وابن مردویہ (رح) نے عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا جس نے ظلم کرنے والے پر بددعا کی تو یقینی طور پر اس نے بدلہ لے لیا۔ 3:۔ ابن ابی شیبہ (رح) نے عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ ایک چور نے ان کی چوری کی تو عائشہ ؓ نے اس پر بددعا کی نبی کریم ﷺ نے ان سے فرمایا بددعا کرکے اس کو ہلکا مت کر۔ 4:۔ ابن المنذر (رح) نے ابن جریج (رح) سے (آیت ) ” ولمن انتصر بعد ظلمہ “ کے بارے میں روایت کیا کہ محمد ﷺ کے لئے اجازت ہے کہ آپ تلوار سے بدلہ لیں اور فرمایا (آیت ) ” انما السبیل علی الذین یظلمون الناس “ (اخروی عذاب اور دنیا کی سزا کی راہ تو صرف ان لوگوں کے لئے ہے جو لوگوں پر ظلم کرتے ہیں) یعنی اہل شرک میں سے۔
Top