Dure-Mansoor - Al-Hadid : 3
هُوَ الْاَوَّلُ وَ الْاٰخِرُ وَ الظَّاهِرُ وَ الْبَاطِنُ١ۚ وَ هُوَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ
هُوَ الْاَوَّلُ : وہی اول ہے وَالْاٰخِرُ : اور وہی آخر ہے وَالظَّاهِرُ : اور ظاہر ہے وَالْبَاطِنُ ۚ : اور باطن ہے وَهُوَ بِكُلِّ شَيْءٍ : اور وہ ہر چیز کو عَلِيْمٌ : جاننے والا ہے
وہی اول ہے وہی آخر ہے اور وہی ظاہر ہے اور وہی باطن ہے اور وہ ہر چیز کا خوب جاننے والا ہے
ایک مخصوص دعاء 11۔ البیہقی نے الاسماء والصفات میں ام سلمہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ ان کلمات کے ساتھ دعا فرمایا کرتے تھے۔ اللہم انت الاول فلا شیء قبلک وانت الاٰخر فلاشیء بعد اعوذبک من شر کل دابۃ ناصیتہا بید واعوذبک من الاثم والکسل ومن عذاب النار ومن عذاب القبر ومن فتنۃ الغنی ومن فتنۃ الفقر واعوذبک من الماثم والمغرم۔ ترجمہ : اے اللہ آپ ہی سب سے اول ہیں آپ سے پہلے کوئی چیز نہیں اور آپ ہی آخر ہیں آپ کے بعد کوئی چیز نہیں میں آپ کی پناہ لیتا ہوں ہر جانور کے شر سے کہ اس کی پیشانی آپ کے ہاتھ میں ہے اور میں آپ سے پناہ لیتا گناہ سے اور سستی اور دوزخ کے عذاب اور قبر کے عذاب سے اور مالداری کے فتنے سے اور فقر واخلاص کے فتنے سے اور میں آپ کی پناہ مانگتا ہوں گناہ اور قرض کے فتنے سے۔ 12۔ ابن ابی شیبہ والترمذی وحسنہ اور البیہقی نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ حضرت فاطمہ ؓ رسول اللہ ﷺ کے پاس آئیں اور ایک خادم کا سوال کیا آپ نے ان سے فرمایا یہ دعا پڑھا کرو۔ اللہم رب السموات السبع ورب العرش العظیم ربنا ورب کل شیء منزل التوراۃ والانجیل والفرقان فالق الحب والنوی اعوذبک من شکر کل ذی شر انت اخذ بناصیتہ انت الاول فلیس قبلک شیء وانت الاٰخر فلیس بعد شیء وانت الظاہر فلیس فوق شیء۔ وانت الباطن فلیس دونک شیء۔ اقض عنا الدین واغننا من الفقر۔ ترجمہ : اے اللہ سات آسمانوں کرب اور بڑے عرش کے رب ہمارے رب اور ہر چیز کے رب تورات انجیل اور فرقان کے اتارنے والے دانے اور گٹھلی کے پھارنے والے ! میں آپ سے ہر شر والی چیز کے شر سے پناہ مانگتا ہوں کہ آپ ہی اس کی پیشانی پکڑے ہوئے ہیں۔ آپ ہی سب سے پہلے آپ سے پہلے کوئی چیز نہیں آپ ہی سب سے آخر ہیں۔ آپ کے بعد کوئی چیز نہیں۔ آپ ہی ظاہر ہیں آپ کے اوپر کوئی چیز نہیں۔ آپ ہی باطن ہیں آپ کے علاوہ کوئی چیز نہیں۔ ہماری طرف سے قرضہ ادا کردیجیے اور فقیری سے ہم کو غنی بنادیجیے۔ نیند سے بیداری کے بعد کی خاص دعاء۔ 13۔ ابن ابی شیبہ واحمد ومسلم وابن مردویہ اور البیہقی نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نیند کے وقت یہ دعا کیا کرتے تھے۔ اللہم رب السموات السبع ورب العرش العظیم ربنا ورب کل شیء منزل التوراۃ والانجیل والفرقان فالق الحب والنوی اعوذبک من شکر کل ذی شر انت اخذ بناصیتہ انت الاول فلیس قبلک شیء وانت الاٰخر فلیس بعدک شیء وانت الظاہر فلیس فوقک شیء۔ وانت الباطن فلیس دونک شیء۔ اقض عنا الدین واغننا من الفقر۔ ترجمہ : اے اللہ سات آسمانوں کے رب اور بڑے عرش کے رب ہمارے رب اور ہر چیز کے رب تورات انجیل اور فرقان کے اتارنے والے دانے اور گٹھلی کے پھارنے والے ! میں آپ سے ہر شر والی چیز کے شر سے پناہ مانگتا ہوں کہ آپ ہی اس کی پیشانی پکڑے ہوئے ہیں۔ آپ ہی سب سے پہلے آپ سے پہلے کوئی چیز نہیں آپ ہی سب سے آخر ہیں۔ آپ کے بعد کوئی چیز نہیں۔ آپ ہی ظاہر ہیں آپ کے اوپر کوئی چیز نہیں۔ آپ ہی باطن ہیں آپ کے علاوہ کوئی چیز نہیں۔ ہماری طرف سے قرضہ ادا کردیجیے اور فقر و افلاس سے ہم کو غنی بنادیجیے۔ 14۔ البیہقی نے ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ جو دعائیں کیا کرتے تھے ان میں سے یہ دعا بھی تھی۔ یا کائن قبل ان یکون شیء والمکون لکل شیء والکائن بعد مایکون شیء اسالک بلحظۃ من لحظاتک الحافظات الوافرات الراجیات المنجیات ترجمہ : اے ہر چیز سے پہلے ہونے والے اور ہر چیز کو پیدا فرمانے والے، اے وہ جس کے بعد کوئی چیز نہ ہوگی میں تیری آزمائشوں اور تنگیوں میں سے ہر تنگی کے بارے میں تجھ ہی سے وافر حفاظت اور نجات دلانے والی امیدوں کا سوال کرتا ہوں۔ 15۔ ابن ابی الدنیا اور البیہقی نے محمد بن علی ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے حضرت علی ؓ کو ایک دعا سکھائی جب آپ کسی مشکل میں پڑجاتے تو آپ وہ دعا مانگا کرتے تھے اور علی ؓ اپنی اولاد کو یہ دعا سکھاتے تھے۔ (اور وہ یہ تھی) یا کائن قبل کل شیء ویا مکون کل شیء ویا کائن بعد کل شیء افعل بی کذا وکذا۔ ترجمہ : اے موجود ہر چیز سے پہلے اور ہر چیز کے پیدا کرنے والے اور ہر چیز سے بعد موجود رہنے والے تو میرا فلاں فلاں کام کردے۔ 16۔ البیہقی نے الاسماء والصفات میں مقاتل بن حیان (رح) سے روایت کیا کہ ہم کو اللہ تعالیٰ کے اس قول کے بارے میں یہ بات پہنچی ہے ہو الاول قبل کل شیء والاٰخر بعد کل شیء والظاہر فوق کل شیء والباطن اقرب من کل شیء۔ ترجمہ : یعنی وہی ہر چیز سے پہلے ہے اور وہی ہر چیز کے بعد ہے وہی ہر چیز سے اوپر ہے اور وہی ہر چیز سے قریب تر ہے۔ حالانکہ وہ اپنی شان کے مطابق اپنے عرش کے اوپر ہے اور وہ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے۔ آیت ہوالذی خلق السموت والارض فی ستتہ ایام۔ وہی ذات ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں میں پیدا فرمایا۔ ان میں سے ہر دن کی مقدار ہزار سال ہے پھر قرار پکڑا عرش پر وہ اس قطرے کو بھی جانتا ہے جو زمین میں داخل ہوتا ہے اور جو چیز بھی زمین میں سے نکلتی ہے سبزے میں سے اور جو چیز آسمان سے نازل ہوتی ہے بارش سے اور جو چیز اس میں چرھتی ہے یعنی آسمان کی طرف فرشتوں میں سے ان سب کو جانتا ہے اور وہ ذات تمہارے ساتھ ہے جہاں تم ہوتے یعنی ہوہ اپنی قدرت اور اپنی سلطنت کے ساتھ وہ تمہارے ساتھ ہوتا ہے۔ اور اس کا علم بھی تمہارے ساتھ ہے جہاں تم ہوتے ہو اور جو کچھ تم عمل کرتے ہو اللہ تعالیٰ اس کو جانتے ہیں۔ 17۔ ابوالشیخ نے العظمہ میں ابن عمر اور ابو سعید ؓ دونوں سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے فرمایا برابر لوگ ہر چیز کے بارے میں سوال کرتے رہیں گے۔ یہاں تک کہ وہ کہیں گے یہ اللہ تعالیٰ ہیں وہ ہر چیز سے پہلے ہے لیکن اللہ تعالیٰ سے پہلے کیا تھا سو اگر وہ تم کو یہ بات کہیں تو تم یوں کہو وہ ہر چیز سے پہلے ہے اور وہی سب سے آخر ہے ان کے بعد کوئی چیز نہیں اور وہی ظاہر یعنی غالب ہے اس کے اوپر کوئی چیز نہیں۔ وہی باطن ہے یعنی ہر چیز کے قریب ہے اور وہ ہر چیز کو جاننے والا ہے۔ 18۔ ابو داوٗد نے ابو زمیل (رح) سے روایت کیا کہ میں نے ابن عباس ؓ سے پوچھا کہ میں نے کہا کوئی حقیقت نہیں اس چیز کی جو میں اپنے سینے میں پاتا ہوں۔ پوچھا وہ کیا ہے ؟ میں نے کہ اللہ کی قسم ! میں اس بارے میں بات نہیں کروں گا۔ پھر مجھ سے فرمایا کیا کوئی چیز شک میں سے ہے اور ضحک یعنی مذاق ہے پھر فرمایا اس سے کوئی محفوظ نہیں رہا۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری۔ آیت فان کنت فی شک مما انزلنا الیک (الایۃ) اگر آپ شک میں ہیں اس چیز کے بارے میں جو ہم نے آپ کی طرف اتاری اور مجھ سے فرمایا جب تو اپنے دل میں کسی چیز کو پائے تو یوں کہہ آیت ہو الاول والاٰخر والظاہر والباطن۔ وہو بکل شیء علیم۔ وہی اول ہے آخر ہے اور ظاہر ہے اور باطن ہے اور ہو ہر چیز کو جاننے وال ہے۔ 19۔ ابن ابی حاتم نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ آیت وہو معکم این ماکنتم۔ اور وہ تمہارے ساتھ ہے جہاں بھی تم ہوتے ہو۔ یعنی وہ تم کو جانتا ہے جہاں تم ہوتے ہو۔ 20۔ البیہقی نے الاسماء والصفات میں سفیان ثوری (رح) سے روایت کیا کہ ان سے آیت وہو معکم کے بارے میں پوچھا گیا تو فرمایا اس سے مراد ہے کہ ان کا علم تمہارے ساتھ ہے۔ 21۔ ابن مردویہ والبیہقی نے عبادہ بن صامت ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کسی آدمی کے افضل ایمان میں سے یہ ہے کہ وہ یہ جانتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس کے ساتھ ہے جہاں وہ ہوتا ہے۔ 22۔ ابن النجار نے تاریخ بغداد میں ضعیف سند کے ساتھ براء بن عازب ؓ سے روایت کیا کہ میں نے علی ؓ سے کہا اے امیر المومنین ! میں آپ سے اللہ اور اس کے رسول کے واسطے سے سوال کرتا ہوں کہ آپ مجھے وہ خاص اسم اعظم بتائیے جو رسول اللہ ﷺ نے آپ کو خاص طور پر بتایا اور آپ کو جبرئیل (علیہ السلام) نے خاص طور پر بتایا اور جبرئیل (علیہ السلام) کو وہ عطا فرما کر رحمن نے بھیجا۔ تو آپ نے فرمایا جب تو ارادہ کرے کہ تو اسم اعظم کے ساتھ دعا کرے تو سورة حدید کے شروع میں سے چھ آیات تا آیت وہو علیم بذات الصدور “ اور سورة حشر کی آخر کی چار آیات تک پڑھ لے پھر اپنے ہاتھوں کو اٹھ اکر یوں کہہ یامن ہو ہکذا سالک بحق ہذہ الاسماء ان تصلی علی محمد وان تتفعل بی کذا وکذا۔ اے وہ جو اس طرح ہے میں آپ سے ان ناموں کے طفیل سے سوال کرتا ہوں اور محمد ﷺ پر درود پڑھے اور تو اس اس طرح کہ جو تو ارادہ رکھتا ہے اور اللہ کی قسم ! کہ اس کے علاوہ کوئی معبود نہیں یقینی طور پر جو تیری حاجت اور التجاء کو قبول کرلے گا۔ انشاء اللہ تعالیٰ ۔
Top