بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ
Dure-Mansoor - Al-Hashr : 1
سَبَّحَ لِلّٰهِ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الْاَرْضِ١ۚ وَ هُوَ الْعَزِیْزُ الْحَكِیْمُ
سَبَّحَ : پاکیزگی بیان کرتا ہے لِلّٰهِ : اللہ کی مَا : جو فِي السَّمٰوٰتِ : آسمانوں میں وَمَا فِي الْاَرْضِ ۚ : اور جو زمین میں وَهُوَ : اور وہ الْعَزِيْزُ : غالب الْحَكِيْمُ : حکمت والا
اللہ کے لیے تسبیح کرتی ہیں وہ تمام چیزیں جو آسمانوں میں ہیں اور جو زمین میں ہیں اور وہ زبردست ہے حکمت والا ہے وہی اللہ ہے
1۔ ابن الضریس والنحاس وابن مردویہ و بیہقی نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ سورة حشر مدینہ میں نازل ہوئی۔ 2۔ ابن مردویہ نے ابن الزبیر ؓ سے اسی طرح روایت کیا۔ 3۔ عبد بن حمید و بخاری ومسلم وابن المنذر وابن مردویہ نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ میں نے ابن عباس کے سامنے کہا سورة الحشر تو انہوں نے فرمایا کہ تو یوں کہہ سورة النضیر۔ سورۃ حشر کا شان نزول 4۔ سعید بن منصور والبخاری ومسلم وابن مردویہ نے سعید بن جبیر ؓ سے روایت کیا کہ میں نے ابن عباس ؓ سے کہا سورة الحشر تو فرمایا فرمایا کہ یہ سورة قبیلہ بنو نصیر کے بارے میں نازل ہوئی۔ بسم اللہ الرحمن الرحیم 1۔ حام وصححہ وابن مردویہ و بیہقی نے دلائل میں حضرت عائشہ ؓ سے روایت کیا کہ بنو نضیر کا غزوہ، غزوہ بدر کے بعد چھٹے ماہ میں شروع ہوا۔ اور بنو نضیر یہودیوں کا ایک قبیلہ تھا۔ ان کے گھر اور ان کی کھجوریں مدینہ کی ایک جانب میں تھے رسول اللہ ﷺ نے ان کا محاصرہ فرمایا۔ یہاں تک کہ وہ جلاوطنی کی شرط پر نیچے اترے۔ اور اس شرط پر کہ ان کے لیے وہ سامان ہوگا جو ان کے اونٹ سامان اور مال اٹھائیں گے۔ مگر ہتھیار نہیں اٹھائیں گے تو اللہ تعالیٰ نے ان کے بارے میں یہ آیت اتاری آیت سبح للہ مافی السموت وما فی الارض تسبیح بیان کرتی ہے اللہ کی جو چیز آسمان اور زمین میں ہے۔ سے لے کر لاول الحشر، ماظننتم ان یخرجوا۔ پہلی بار اکٹھا کر کے نکالنا تمہار تو گمان بھی نہ تھا کہ وہ اپنے گھروں سے نکل جائیں گے۔ نبی ﷺ نے ان سے قتال کیا۔ یہاں تک کہ ان سے جلاوطنی پر صلح فرمائی اور آپ نے ان کو شام کی طرف جلاوطن کردیا۔ اور وہ ایک قبیلہ تھا جو ایسی زمین پر جلاوطن ہو کر نہیں گئے جو رہنے والوں سے بالکل خالی ہو۔ اور اللہ تعالیٰ نے ان پر جلاوطنی لکھ دی تھی۔ اگر ایسا نہ ہوتا تو اللہ تعالیٰ ان کو دنیا میں قتل اور قید کی سزا دیتا اور اللہ تعالیٰ کا یہ قول لاول الحشر کا مطلب یہ ہے کہ ان کی جلاوطنی شام کی طرف دنیا میں پہلی جلاوطنی تھی۔ 2۔ عبدالرزاق وعبد بن حمید وابن ابی حاتم و بیہقی نے عروہ سے مرسلا روایت کیا اور بیہقی نے کہا یہ روایت محفوظ ہے۔ 3۔ عبدبن حمید وابن جریر وابن المنذر وابن ابی حاتم نے حسن (رح) سے روایت کیا کہ جب رسول اللہ ﷺ نے بنو نضیر کو جلاوطن کی اتو فرمایا کہ یہ پہلی جلاوطنی ہے۔ 4۔ بزار وابن المنذر وابن ابی حاتم وابن مردویہ اور بیہقی نے البعث میں ابن عباس ؓ سے روایت کیا جو آدمی شک کرے کہ میدان محشر شام میں ہوگا۔ تو اس کو چاہیے کہ یہ آیت پڑھے ہوالذی اخرج الذین کفروا من اہل الکتب من دیارہم۔ وہ ذات ہے جس نے اہل کتاب میں سے کافروں کو نکالاان کے گھروں میں سے۔ رسول اللہ ﷺ نے اس دن ان سے فرمایا نکل جاؤ۔ انہوں نے کہا کہاں ؟ فرمایا محشر کی زمین کی طرف۔ 5۔ احمد نے الزہد میں قیس (رح) سے روایت کیا کہ جریر ؓ نے اپنی قوم سے فرمایا اور وہ ان کو کہہ رہے تھے۔ اللہ کی قسم ! بلاشبہ میں پسند کرتا ہوں کہ میں اس میں ایک اینٹ بھی نہ بناؤں اور تم تاریکی کی طرف ہو جو چھاجائے اور بلاشبہ تمہاری اس زمین کا بایاں حصہ خراب ہوچکا ہے پھر اس کا دایاں حصہ اس کے پیچھے ہوگا۔ اور بلاشبہ محشر یہاں ہے اور آپ نے شام کی طرف اشارہ فرمایا۔ 6۔ ابن المنذر نے ابن جریج (رح) سے روایت کیا کہ آیت لاول الحشر سے مراد ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی مکرم کو ان پر فتح عطا فرمائی جن کو پہلی جلاوطنی کے وقت آپ نے جلا وطن کیا۔ اور جن سے پہلی بار آپ نے جنگ لڑی اور آیت ماظننتم اور تم کو یہ گمان نہ تھا یعنی نبی ﷺ اور ان کے صحابہ یہ گمان بھی نہ کرتے تھے کہ وہ اپنے قلعوں سے ہمیشہ کے لیے نکل جائیں گے۔ بنی نضیر کی جلاوطنی 7۔ بیہقی نے دلائل میں عروہ رحمہا للہ سے روایت کیا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو بنو نضی رکو جلاوطن کرنے اور ان کو اپنے گھروں سے نکالنے کا حکم فرمایا اور منافق مدینہ میں بہت تھے۔ انہوں نے کہا آپ ہم کو کس جگہ کی طرف نکالیں گے ؟ آپ نے فرمایا میں تم کو محشر کی طرف نکالوں گا۔ جب منافقوں نے سنا وہ جو ان کے بھائیوں (اہل کتاب میں سے اور ان کے دوستوں) کے ساتھ ارادہ کیا گیا تھا۔ تو انہوں نے ان کی طرف پیغام بھیجا اور کہا بلاشبہ ہمارا مرنا اور جینا تمہارے ساتھ ہے۔ اگر تم سے قتال کیا گیا تو تمہارے لیے ہم پر مدد لازم ہوگی۔ اور اگر تم نکالے گئے تو ہم تم سے پیچھے نہیں رہیں گے۔ اور شیطان نے ان کو غلبہ کی امید دلائی تو انہوں نے نبی ﷺ کو پکار کر کہا اللہ کی قسم ہم نہیں نکلیں گے اگر تم ہم سے لڑو گے تو ہم تم سے ضرور لڑیں گے۔ تو نبی ﷺ اللہ تعالیٰ کے حکم سے ان میں تشریف لے گئے اور اپنے صحابہ کرم ؓ کو حکم دیا۔ انہوں نے ہتیار اٹھائے اور ان کی طرف چل دئیے اور یہود اپنے گھروں اور اپنے قلعوں میں محفوظ ہوگئے۔ جب رسول اللہ ﷺ ان کی گلیوں تک پہنچے تو ان کے قریب کے گھروں کو گرانے کا حکم فرمایا۔ اور کھجوروں کو جلانے اور کاٹنے کا حکم فرمایا اور اللہ تعالیٰ نے ان کے اور منافقوں کے ہاتھوں کو روک دیا۔ انہوں نے ان کی مدد نہیں کی۔ اور اللہ تعالیٰ نے دونوں فریقوں کے دلوں میں رعب ڈال دیا۔ جب رسول اللہ ﷺ ان کے گھروں کو گرانے سے فارغ ہوئے جو ان کے شہر سے ملے ہوئے تھے تو اللہ تعالیٰ ان کے دلوں میں خوف وہراس اور رعب پیدا کردیا اور وہ خود پیچھے والے گھروں کو گرانے لگے تو وہ لوگ نبی ﷺ کے مقابلہ میں نہ نکل سکے جب یہ لوگ اپنے آخری گھروں تک پہنچے کے قریب تھے اور وہ منافقین کا انتظار کر رہے تھے۔ اور جس نے انہیں غالب آنے کی امید دلائی تھی اس کا انتظار کر رہے تھے۔ جب وہ ان ساری چیزوں سے مایس اور ناامید ہوگئے جو ان کے پاس تھیں تو انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے درخواست کی کہ آپ ان کے بارے میں جو فیصلہ فرمائیں گے وہ انہیں قبول ہوگا تو آپ نے ان کو جلاوطن کرنے کا فیصلہ فرمایا اور ساتھ ہی یہ فرمایا کہ اتنا سامان اٹھا کرلے جائیں جتنا اونٹ اٹھا سکتا ہے مگر اس میں ہتھیار نہ ہوں گے پس وہ مکمل طور پر چلے گئے اور وہ مسلمانوں کو عار دلاتے تھے جب مسلمانوں نے ان کے گھروں کو مسمار کردیا اور کھجوروں کو کاٹ دیا۔ اور کہتے تھے کسی درخت نے کوئی گناہ نہیں کیا اور تم تو یہ گمان کرتے ہو کہ تم اصلاح کرنے والے ہو تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں۔ آیت سبح للہ ما فی السموت واما فی الارض سے لے کر آیت ولیخزی الفسقین تک پھر اللہ تعالیٰ نے اس سامان کو رسول اللہ ﷺ کے لیے مال غنیمت بنا دیا۔ اور ان کے علاوہ اس میں کسی کا حصہ نہ رکھا۔ اور اللہ تعالیٰ نے فرمایا آیت وما افاء اللہ علی رسولہ منہم اور جو کچھ اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو ان سے دلوایا سے لے کر قدیر تک اس کے بعد رسول اللہ ﷺ نے اس مال کو پہلے مہاجرین میں سے ان میں تقسیم فرمادیا جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے آپ کو حکم فرمایا۔ بنو نضیر کا محاصرہ 8۔ ابن جریر وابن مردویہ و بیہقی نے دلائل میں عوفی کے طریقے سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ نبی ﷺ نے ان کا محاصرہ فرمایا یہاں تک کہ آپ ان میں سے ہر جگہ تک پہنچے۔ اور آپ نے ان میں سے جس چیز کا ارادہ کیا۔ تو انہوں نے آپ کے حوالہ کردی۔ آپ نے ان سے صلح فرمائی ان شرائط پر کہ ان کے لیے ان کا خون محفوظ ہے اور آپ کو ان کی زمینوں اور ان کے گھروں سے نکال دیں گے اور ان کو شام کے کھلے میدانوں کی طرف بھیجیں گے اور آپ نے ان میں سے ہر تین آدمیوں کے لیے ایک اونٹ اور پانی کا مشکیزہ مقرر فرمادیا۔ 9۔ بغوی نے اپنی معجم میں محمد بن مسلمہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی مکرم ﷺ نے ان کو بنو نضیر کی طرف بھیجا اور ان کو حکم دیا کہ وہ ان کو جلاوطنی میں تین دن کی مہلت دے۔ 10۔ سعید بن منصور وعبد بن حمید والبخاری ومسلم والترمذی وابن المنذر وابن جریر و بیہقی نے دلائل میں ابن عمر ؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے بنو نضیر کی کھجوریں جلائیں اور ان کو جلاوطن کیا اور ان کو نکالا ان کی زمین سے دوسری زمین کی طرف۔ 11۔ سعید بن منصور وعبد بن حمید و بخاری ومسلم و ترمذی وابن مردویہ اور بیہقی نے دلائل میں ابن عمر ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے بنو نضیر کے درخت جلادئیے اور کاٹ دئیے۔ اور یہ چھوٹی ہلاکت تھی اور اسی کے بارے میں حسان بن ثابت ؓ فرماتے ہیں فہان علی سراۃ بنی لوی حریق بالبویرۃ مستطیر ترجمہ : پس آسان ہے بنی لوئی کے سرداروں پر ہلاکت کے سبب جلادینا اور پھر راکھ اڑادینا۔
Top